خاندان ٹوٹنے سے بچانے کے لئے اعلیٰ عدلیہ کی کاوشیں

خاندان ٹوٹنے سے بچانے کے لئے اعلیٰ عدلیہ کی کاوشیں

میاں بیوی مختلف وجوہ سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں تو خاندانی اور معاشرتی مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان شکوے شکایات جب سنگین صورت اختیار کرلیں تو وہ ایک دوسرے سے جان چھڑانے کے لئے علیحدگی کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ ان کے اس منفی فیصلے سے بچوں کو تمام نتائج بھگتنا پڑتے ہیں مروجہ قوانین کے تحت والدین کو مواقع تو ملتے ہیں لیکن عموماً صلح تک نوبت بہت کم پہنچتی ہے۔ چنانچہ معصوم بچوں کے ذہنوں پر جو خوفناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کا اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے۔ احساس محرومی اور ماں باپ سے دوری کی وجہ سے بچے بہت زیادہ احساسِ کمتری میں مبتلا زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ نفسیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ علیحدگی کا فیصلہ کرنے والے والدین کو دوبارہ ملاپ کے لئے معصوم بچے بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حتمی طور پر طلاق سے پہلے اگر والدین کی موجودگی میں بچوں کو ان سے ملایا جائے تو ان کے رونے دھونے اور جذباتی معصوم جملوں سے والدین کی باہمی نفرت کم ہوتی ہے اور بچوں کی خاطر نباہ کرنے کی سوچ حاوی ہونے لگتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسے مراکز کے قیام کے لئے حکومتی سطح پر سوچا ہی نہیں گیا۔ عموماً متعلقہ عدالت بچوں سے ملاقات کرانے کا حکم جاری کرتی ہے تو ملاقات کی جگہ مناسب نہ ہونے انہیں سمجھانے والوں کے نہ ہونے سے ماں یا باپ کے ساتھ بچوں کی ملاقات کے فوائد حاصل نہیں ہوتے۔ کچھ عرصہ پہلے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے بچوں اور والدین کو مقررہ دنوں کے بعد کچھ مناسب وقت اکٹھے گزارنے کے لئے ہدایت جاری کی تھی کہ اس مقصد کے تحت ملاقات مراکز قائم کئے جائیں، اس سلسلے میں لاہور اور بعض دیگر شہروں میں یہ سہولت دی گئی جہاں والدین کو سرکاری ا ور غیر سرکاری اہلکار خاندان ٹوٹنے سے بچانے کے لئے آمادہ کرتے ہیں۔ یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ والدین سے بچوں کی ملاقات کے لئے ہر ضلع میں ایسے سنٹرز بنائے جائیں۔ یہ حکم جاری کرتے ہوئے فاضل جسٹس شیخ عظمت سعید نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے ’’ملاقات مراکز‘‘ قائم کرنے کے حکم پر عمل نہ کیا گیا تو متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کے دفاتر میں جگہ خالی کروا کے ملاقات مراکز بنائے جائیں گے۔ یہ پیشرفت اہم ہے اور اس کے نتائج سے کئی خاندان ٹوٹنے سے بچ جائیں گے۔ معصوم بچے ماں یا باپ کی شفقت اور رفاقت سے محروم نہیں ہوں گے ویسے بھی طلاق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق کو ناپسندیدہ ترین فعل قرار دیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ والدین میں سے کوئی ایک یا بعض صورتوں میں دونوں ہی چھوٹی چھوٹی باتوں اور ناپسندیدہ حالات کی وجہ سے طلاق لینے پر تل جاتے ہیں علیحدگی کے اس عمل کو روکنے کے لئے عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کی طرف سے جاری احکامات سے سود مند اور بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ حکومت کو چاہئے کہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ساتھ ساتھ متحرک اور فعال این جی اوز کے تعاون سے اس پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے عملی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

مزید : اداریہ