غرور

غرور
 غرور

  

میرے سامنے ایک انتہائی پڑھا لکھا شخص بلک بلک کررو رہا تھا اور میں ہمدردی اورشفقت بھری نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا، اُس کا دکھ جان کر میرا کلیجہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا، میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ کس طرح اِس معصوم نیک سادہ بے بس دکھی انسان کا درد ختم کرسکوں۔ اِس کے زخم پر مرہم رکھ سکوں، اِس کے دکھ کا مداوا بن سکوں، اُس کے اندر کا کرب مسلسل اُس کی آنکھوں سے سیلاب کی طرح بہہ رہا تھا، وہ بے بسی ہلاچارگی کی تصویر بنا پھوٹ پھوٹ کررو رہا تھا، اُس کو جس جرم کی سزا دی گئی تھی، اُس میں اُس کا کوئی بھی گناہ یا غلطی نہیں تھی، اُس کو ناکردہ جرم کی سزا دی جارہی تھی، اُس کے ساتھ جو سلوک کیا گیا تھا، وہ اِس کا بالکل بھی مستحق نہیں تھا، وہ اپنا یہ دردو کرب کسی کو بتا بھی نہیں سکتا تھا، اُس پر جو الزام یا جرم عائد کیا گیا تھا، اُس کا یہ سزا وار نہیں تھا، اُس کو سزا دینے والے کا سوچ کر میرا جسم بھی غصے کی آنچ سے سلگ رہا تھا، کسی زندہ جیتے جاگتے انسان کی اس طرح بے توقیری؟ اِس طرح تو جانور بھی نہیں کرتے ۔اپنی اِس بے عزتی پر وہ مسلسل پگھل رہا تھا، کئی دنوں سے کانٹوں پر چل رہا تھا، اُس کارواں رواں سلگ رہا تھا، کٹ رہا تھا۔ وہ بار بار ایک ہی بات کر رہا تھا کہ سر میرا قصور کیا ہے، میرا جرم مجھے بتایا جاتا اور جو الزام مُجھ پر لگایا گیا ہے، اُس کو میں کیسے سدھاروں، کاش میں خدا سے مل سکتا۔ اُس کے سامنے اپنی شکایت رکھ سکتا، خدا کو اپنا حال دل بتا سکتا۔ خالق کائنات سے شکوہ کرتا کہ مجھے انسان کی بجائے جانور ہی بنا دیتا تاکہ میں عزت بھرم کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکتا، کوئی مجھے اس طرح ذلیل ورسوانہ کرتا، میرا لوگوں کے سامنے تماشہ نہ بتاتا، مجھے عمر بھر کا روگ نہ لگاتا۔ شدت کرب سے اُس کا جسم لرز رہا تھا، میں بار بار اُس کو حوصلہ دے رہا تھا، لیکن اُس کو حوصلہ دیتے ہوئے میرے الفاظ بھی مجھے کھوکھلے لگ رہے تھے، میں بھی بے بسی سے اُس کو دیکھ رہا تھا اور اُسی کی طرح بے بسی کی آخری حدوں پر تھا، تقریبا 40سالہ یہ شخص مُجھ سے ملنے کے لئے آیا تھا۔ میں حسب معمول لوگوں میں گھرا ہوا تھا، یہ مثالی صبر وتحمل سے انتظار کرتا رہا، شاید یہعلیحدگی میں بات کرنا چاہتا تھا یاکسی کے سامنے اپنا حال دل نہیں سنانا چاہتا تھا، جب اِس کو بیٹھے ہوئے کافی دیر ہوگئی تو میں نے اشارے سے اِس کو پاس بلایا، جب یہ چل کر میری طرف آرہا تھا تو میں نے محسوس کیاکہ یہ تھوڑا لنگڑا کر چل رہا ہے، شاید اِس کی ٹانگ میں کوئی مسئلہ تھا، یہ شخص میرے پاس آیا اور کاغذ کی ایک چٹ میری طرف بڑھا دی، جس پر لکھا تھا، سر میں آپ سے اکیلے میں ملاقات کرنا چاہتا ہوں، میں اٹھا اور اِس کے ساتھ باہر جاکر بینچ پر بیٹھ گیا اور سوالیہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ جناب فرمائیں، میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں؟میرے پوچھنے پر وہ درد ناک لہجے میں بولنا شروع ہوا، جناب میں نے پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے، پڑھا لکھا انسان ہوں، چند سال پہلے معروف کاروباری چین میں میری نوکری ہوئی، میری اعلیٰ تعلیم اور بھرپور محنت رنگ لائی اور چند ہی سالوں میں ترقی کرتا ہوا، میں اہم بڑی پوسٹ پر آگیا، بچپن میں پولیو کا شکار ہوا، اُس مرض کی وجہ سے میری ایک ٹانگ میں کمزوری آگئی، جس کی وجہ سے مجھے چلنے میں تھوڑی مشکل آتی ہے، اِس لئے میں تھوڑا لنگڑا کرچلتا ہوں، میں نے کبھی بھی اپنی اِس معذوری کو رکاوٹ نہیں بننے دیا، بلکہ عام انسانوں کی نسبت دوگنا کام کرکے بہترین نتائج دیئے، میری ان تھک محنت سے سیٹھوں کا کاروبار دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا گیا، کاروبار کی بے پناہ ترقی اور دولت کے بے پناہ اضافے نے مالک کو مغرور بنا دیا اور پھر کاروبار کی کامیابیاں سیٹھ کے دماغ پر نشہ بن کر چڑھ گئیں اور سیٹھ غرور میں مبتلا ہوگیا۔

غرور ایسی بیماری ہے، ایسا نشہ ہے جو ترشی کی بہت بڑی مقدار کے بعد بھی کم یہی اترنا ہے، ایسا شخص خود کو عقل کل اور مالک مطلق سمجھنا شروع کردیتا ہے،پھر یہ مشت غبار ہواؤں کو روکنے اور سورج کو بجھنے کا حکم دینا شروع کر دیتا ہے، خود کو سب سے برتراور دوسروں کو کیڑے مکوڑے سمجھنا شروع کر دیتا ہے، یہی حال میرے مالک کا بھی ہوا، پہلے تو وہ بہت خوشی سے مجھے کاروباری میٹنگوں میں لے جایا کرتا تھا، پھر ایک دن مجھے بلایا اور کہا کہ میں ملک کا بہت اہم انسان بن چکا ہوں، میرے تعلقات اور ملاقاتیں با اثر بڑے لوگوں سے ہوتی ہیں، تم میرے ساتھ جاتے آتے کھڑے ہوتے اچھے نہیں لگتے، میری توہین ہوتی ہے، جب تم میرے ساتھ چلتے ہو یا کھڑے ہوتے ہو، اب تم اپنی نوکری کسی اور جگہ کرلو، میں اب تمہیں اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا، مجھے شرمندگی ہوتی ہے، تمہاری شکل بھی عام سی ہے، تمہارا رنگ بھی سانولا ہے، تم اچھی طرح چل بھی نہیں سکتے، اب میرے پاس تمہارے رزق کے تمام دروازے بند ہوگئے ہیں۔ جب میں نے بولنے کی کوشش کی تو سیٹھ صاحب کو غصہ آگیا، مجھ کو ذلیل و رسوا کرکے دفتر سے دفع ہوجانے کا حکم صادر کر دیا اور گیٹ پر میرے داخلے پر پابندی لگا دی۔ سیٹھ کے اِس ظالمانہ رویئے نے مجھے اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ اب میں اِس ملک میں نوکری نہیں کروں گا، یورپ چلا جاؤں گا، جہاں میری معذوری کو طعنہ نہیں بنایا جائے گا؟ پھر یہ بیچارہ چند مہینوں بعد ہی ملک چھوڑ کر چلاگیا۔

محترم قارئین یہ بے بس مظلوم شخص تو اپنی داستان غم مجھے سناکر چلاگیا، لیکن میرے لئے سوچ کی لمبی لکیر چھوڑ گیا کہ ہمارا معاشرہ کس بانجھ پن کا شکار ہوگیا ہے؟ جہاں ٹیلنٹ کی بجائے شکل وصورت پر توجہ دی جاتی ہے، میں نے اُس سیٹھ صاحب کا نام اپنے حافظے میں نوٹ کرلیا اور پھر خدا کی لا ٹھی حرکت میں آنے کا انتظار کرنے لگا اور پھر ہمیشہ کی طرح عادل وخالق کائنات نے مجھے اِس ظالم سیٹھ کا انجام بھی دکھا دیا، اُس واقعہ کے چند سال بعد ہی میرے پاس ایک نوجوان امیر زادہ آکر کہتا ہے کہ جناب میرے والد صاحب اپنی نئی نویلی دوسری دلہن کے ساتھ گلگت جارہے تھے، راستے میں حادثے کا شکار ہوکر دریا میں جاگرے، ہم ایک ماہ سے اُن کی لاش ڈھونڈ رہے ہیں، جب اُس نے اپنے والد کا نام بتایا تو میرے دماغ میں روشنی کا جھماکاسا ہوا اور مجھے وہی سیٹھ یاد آگیا، جس نے ایک باصلاحیت اور معذور انسان کو نوکری سے نکال دیاتھا، قدرت نے جس طرح فرعون کو دریائے نیل میں شکر کی ڈلی کی طرح گھول دیا، یہ سیٹھ بھی بے یارو مددگار پانی کی موجوں میں بکھر گیا، اُس کے جسم کو مچھلیوں اور چیلوں نے اُدھیڑ دیا ہوگا، جو اپنے جسم اور دولت پر اتراتا تھا، قدرت نے اُس کو قبر بھی نصیب نہ کی، بلکہ اُس کے جسم کو جانوروں کے حوالے کر دیا، جنہوں نے اُس کے جسم کی بوٹیاں اپنے نظام ہضم سے گزار کر غلاظت میں تبدیل کردیں۔ دولت کے نشے میں دھت یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ جن کے دروازوں پر کبھی ہاتھی جھولتے تھے، اُن کی لاشیں انہی ہاتھیوں کے پاؤں تلے روندی بھی گئیں۔

مزید : کالم