مخلص دوست افتخار فیروز (2)

مخلص دوست افتخار فیروز (2)
 مخلص دوست افتخار فیروز (2)

  

افتخار فیروز کی والدہ جنھیں سب بچے آپا جی کہتے تھے، پڑھی لکھی خاتون نہیں تھیں۔ قرآن پڑھنا پڑھانا ان کا خاص مشغلہ تھا۔ اردو اور پنجابی کے بہت سے اشعار خصوصاً نعتیہ کلام انھیں کافی یاد تھا۔ اعجاز بھائی کے بقول ’’ہمیں بہت ساری نعتیں اپنی والدہ کی زبان سے سن سن کر یاد ہوگئی تھیں۔ مثلاً ’’وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا، مرادیں غریبوں کی بر لانے والا‘‘ اور ’’وہ شمع اُجالا جس نے کیا، چالیس برس تک غاروں میں۔‘‘ اسی طرح ’’دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ‘‘ افتخار بھائی بھی غالب، اقبال اور حالی کا کلام خوب پڑھا کرتے تھے اور اپنی تقریروں میں اشعار نگینوں کی طرح یوں استعمال کرتے کہ سب لوگ عش عش کر اٹھتے۔ وہ فیض، شورش اور ساحر کے اشعار بھی برمحل استعمال کیا کرتے تھے۔ افتخار فیروز کا گھرانہ مسلکاً اہل حدیث تھا مگر ان کے والد بہت وسیع المشرب اور محفل آرائی کے ماہر بزرگ تھے۔ ان کا نام فیروز الدین تھا اور قیام پاکستان سے قبل ریل بازار میں ان کا بہت بڑا جنرل سٹور تھا۔ اس بازار میں ہندو دکانداروں کے علاوہ کسی کی دال نہیں گھلتی تھی۔ فیروز صاحب واحد مسلمان تاجر تھے، جن کشمیر جنرل سٹور ہندو تاجروں کے مقابلے پر زیادہ کامیاب تھا۔ فیروز الدین صاحب نے اپنے بڑھاپے میں یہ کاروبار ختم کر دیا اور اپنی رقم سے اپنے بڑے بیٹے اقبال فیروز صاحب کو کاروبار چلانے کا حکم دیا۔ اقبال صاحب نے انھی کی خواہش اور حکم پر ہوٹل کی دنیا میں قدم رکھا اور کامیاب تاجر ثابت ہوئے۔ مرحوم مرنجاں مرنج بزرگ تھے۔ ان کی مجلس میں ہر مکتبۂ فکر کے لوگ اکٹھے ہوجاتے اور یکساں محبت کے ساتھ تبادلۂ خیالات کرتے رہتے۔ جناب افتخار فیروز بھی ان مجلسوں سے اپنے بچپن سے لے کر جوانی تک استفادہ کرتے رہے۔

افتخار فیروز ہونہار طالب علم تھے۔ فیصل آباد سے بی اے کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے فلسفہ میں داخلہ لیا۔ ان کے خاندان کے مشہور عالم ربانی حضرت مولانا مفتی سیاح الدین کاکاخیلؒ کے ساتھ اس قدر قریبی تعلقات تھے کہ مفتی صاحب ہی کی وجہ سے پورا خاندان مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور ان کی فکر سے بھی مانوس ہی نہیں بلکہ پوری طرح اس فکر کا ہمنوا بن گیا تھا۔ افتخار بھائی کی بچپن کی جذباتی کیفیت اگرچہ آخر دم تک قائم رہی ، مگر مولانا مودودیؒ اور اقبال کی فکر سے متاثر ہونے کے بعد اس میں خاصا توازن پیدا ہوگیا۔ افتخار فیروز کو اہل علم کی مجالس سے جو علم حاصل ہوا، وہ بڑا قیمتی اثاثہ تھا۔ اس کے ساتھ اسے مطالعہ کا بڑا شوق تھا۔ بطور طالب علم وہ کوئی نہ کوئی ادبی اور تاریخی کتاب اپنے زیر مطالعہ رکھتا۔ اس کے حلقے میں اکثر ساتھی اسی کی معلومات سے خوشہ چینی کیا کرتے تھے۔

جس زمانے میں ہم لوگ اکٹھے جامعہ پنجاب میں زیر تعلیم تھے، وہ دور اشتراکیت اور سوشلزم کی یلغار کا نقطۂ عروج تھا۔ افتخار فیروز اشتراکیت کے حامیوں کے سامنے ہر میدان میں اور ہر موقع پر ڈٹ کر بات کرتا اور دلائل سے ان کو لاجواب کردیا کرتا۔ اس دور کے اس سیلابِ بلا خیز کا تجزیہ مفتی سیاح الدین صاحب نے اپنی ایک مجلس میں یوں کیا ’’اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ سرزمین پاکستان پر سارے موذی جانور، سانپ، بچھو، چھچھوندر اور بہت سی کنکولیں بلوں سے باہر نکل کر میدان میں متحرک ہوگئی ہیں۔ تمام اسلام دشمن قوتیں سوشلزم کا لبادہ اوڑھ کر غریبوں، مزدوروں، محنت کشوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے ایک ایجنڈے کے تلے اکٹھے ہوگئی ہیں۔ اسلام کی اخلاقی اقدار کو نشانۂ تمسخر بنایا جارہا ہے اور غریبوں کی محبت میں شراب نوشی بھی کارِ ثواب بنا دی گئی ہے۔ فحاشی اور عریانی کو لبرل ازم کا نام دیا گیا ہے۔ ایسے میں اسلامی فکر کے حامل نوجوانوں کا فرض ہے کہ وہ قرآن و سنت کے دلائل سے لیس ہو کر اس فتنے کا مقابلہ کریں۔ ‘‘ افتخار فیروز بلاشبہ مفتی صاحب کی ہدایت کے مطابق جامعہ پنجاب میں اسلام کا علمبردار اور ہر فتنے کے مقابلے پہ سینۂ سپر مرد مجاہد تھا۔ 1970ء میں سٹوڈنٹس یونین کے الیکشن میں تنہا افتخار فیروز نے جتنا کام کیا، شاید کوئی دوسرا ساتھی اس کا ثانی نہ ہو۔ حفیظ خان کی پوری مہم اسی نے چلائی اور ہر جگہ سوالوں کے مؤثر جواب دیے۔ ہمارے پینل میں حفیظ خان بھی بہت اچھے مقرر تھے اور نائب صدارت کے امیدوار تنویر عباس تابش تو ملکی سطح پر کامیاب مقرر اور ڈیبیٹر کے طور پر مشہور تھے۔ راقم الحروف کو بھی اللہ نے اپنی بات سامعین تک پہنچانے کا کچھ ملکہ عطا فرما رکھا تھا۔ ایک دن سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں انتخابی تقریر کے دوران لڑکیوں نے مجھ سے سوال کیا کہ ہم آپ کو کیوں ووٹ دیں۔ آپ تو خواتین یونیورسٹی کا مطالبہ کرکے ہمیں اس یونیورسٹی سے نکالنا چاہتے ہیں۔ افتخار فیروز اور میرے دیگر ساتھی بھی اس موقع پر موجود تھے، اور سب تشویش میں مبتلا تھے کہ اب کیا جواب ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نے مجھے فوراً ایک بات سجھائی اور میں نے ان طالبات کی بات توجہ سے سنی اور پھر دھیمے انداز میں کہا ’’دخترانِ پاکستان میرا یہ مطالبہ آپ کے خلاف نہیں، آپ کے حق میں ہے۔ اس وقت آپ دیکھ لیجیے جو پینل میدان میں اترے ہوئے ہیں، ان میں سے کسی ایک میں بھی کوئی طالبہ کسی منصب (صدر، سیکرٹری، نائب صدر اور جوائنٹ سیکرٹری) کے لیے امیدوار نہیں ہے۔ جو پینل بھی جیتے گا یونین کے تمام فنڈ اس کے ہاتھ میں ہوں گے۔ آپ بھی اتنا ہی یونین فنڈ ادا کرتی ہیں، جتنا طلبہ ادا کرتے ہیں۔ کیا یہ آپ کے ساتھ بے انصافی نہیں کہ آپ کے فنڈز پر آپ کا تصرف نہ ہو۔ اس نظام تعلیم میں آپ کے لیے کلیدی مناصب پر کھڑے ہونا کس قدر مشکل ہے، آپ خود اندازہ کرسکتی ہیں۔ آپ کی اپنی یونیورسٹی ہوگی تو عہدے بھی آپ کے پاس ہوں گے، فنڈ کا استعمال بھی آپ کے پاس ہوگا ۔ ذرا سوچیے کہ میرا مؤقف آپ کے حق میں جاتا ہے یا آپ کے خلاف؟‘‘ یہ بات سن کر اچانک صورت حال بدل گئی اور ماحول جو بظاہر مخالفانہ تھا، وہ یکسر تبدیل ہوگیا۔ ہم نے اس الٹرا ماڈرن شعبے میں بھی اللہ کے فضل سے کامیابی حاصل کی۔(جاری ہے)

مزید : کالم