ماورائے عدالت کارروائیاں

ماورائے عدالت کارروائیاں
 ماورائے عدالت کارروائیاں

  

حیدرآباد میں عرفان بلوچ اکیتس ماہ ضلعی پولیس سربراہ کی حیثیت سے تقرری کے بعد جب منتقل ہوئے تو حد تو یہ ہے کہ گھریلو خواتین نے بھی کہا: ’’ اوہ اب کیا ہوگا‘‘۔ اب کیا ہوگا کے پس منظر میں شہریوں کا وہ خوف ہے جو عرفان بلوچ کی تقرری سے قبل امن و امان کی مخدوش صورت حال کی وجہ سے ان میں پایا جاتا تھا۔ عرفان بلوچ کے دور میں ہی ’’ فل فرائی، ہاف فرائی‘‘ کی اصطلاح مشہور ہوئی اور فروغ پائی۔ یہ اصطلاح کیا ہے؟ عادی جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری کے بعد ماورائے عدالت، مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت یا ان کے گھٹنے ضائع کرنے کا عمل۔ عرفان بلوچ کی جب حیدرآباد میں تقرری ہوئی تھی تو اغوا برائے تاوان، ڈاکہ زنی، لوٹ مار، قتل وغارت گری، موٹر سائیکل اور موبائل فون چھینے کی وارداتیں اتنی عام تھیں کہ لوگوں نے رات کے وقت گھروں سے نکلنا ہی بند کر دیا تھا۔ عرفان بلوچ جب ایس ایس پی مقرر ہوئے تو وہی تھانے تھے، پولیس تھی جو مبینہ پولیس مقابلوں میں ملوث ہوگئی۔ وہ پولیس والے جو جرائم پیشہ افراد سے بھتہ، حصہ، تاوان وصول کیا کرتے تھے، اب ان کے خون کے پیاسے ہوگئے تھے۔ حیدرآباد میں احسان چور نام سے ایک شخص اتنا بدنام تھا کہ دن دھاڑے لوگوں کے گھروں میں گھس کر ڈاکہ ڈالا کرتا تھا، ان کے مویشی لے جاتا تھا، مویشیوں کی واپسی منہ بولی رقم وصول کر کے کیا کرتا تھا۔ کوئی متاثرہ شخص اگر تھانے میں رپورٹ درج کرانے جاتا تھا تو احسان چور (وہ اسی نام سے بدنام تھا) کہا کرتا تھا کہ وہ مویشی کو اپاہج کردے گا، یعنی ان کی ٹانگ کاٹ دے گا۔ یوں تو احسان سے قبل بھی مبینہ پولیس مقابلے ہوتے رہے، لیکن احسان چور کے ساتھ مقابلے کے بعد اس کی نعش کو پولیس موبائل میں رکھ کر شہر کے مختلف علاقوں میں گھمایا گیا تاکہ بقول ایک پولیس افسر شہریوں میں احساس تحفظ پیدا ہو اور جرائم پیشہ افراد میں خوف پیدا کیا جاسکے کہ ان کا انجام بھی یہ ہوسکتا ہے۔ احسان کی موت پر اس کی بیٹیاں جو بین کررہی تھیں، اس کی روشنی میں ان تمام پولیس افسران اور اہل کاروں کے خلاف کارروائی ضروری ہوجاتی ہے جو احسان کی بیٹیوں سے بھی ’’بھتہ‘‘ وصول کیا کرتے تھے ۔

جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت کارروائی نے عرفان بلوچ کو اتنا مشہور کر دیا تھا کہ خواتین سمیت لوگ انہیں کسی بھی فنکشن میں پاکر ان کے ساتھ فوٹو بنواتے تھے، ان کے نام کے نعرے لگاتے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ ایسی صورت حال بعض مرتبہ فوجیوں کے فنکشن میں بھی ہوجاتی تھی۔ ایک سمینار میں سپریم کورٹ کے رٹائر جج جسٹس جناب غلام ربانی موجود تھے ،پولیس افسران، صحافی، دانشور اور شہری بھی موجود تھے، اکثر نے ماورائے عدالت قتل کی مذمت نہیں کی تھی۔ اکثر کا کہنا تھاکہ اب ان کے گھر والے رات کو بھی شہر میں پیدل چل سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ جرائم پیشہ افراد نے قتل ہونے کی بجائے حیدرآباد سے فرار ہونے میں ہی عافیت جانی تھی۔ تاجر حضرات کے لئے تو عرفان بلوچ ان کی ڈارلنگ شخصیت تھے۔ میں ان کے نام سے ’’ شیر حیدرآباد ‘‘ کے بینر آویزاں کئے جاتے تھے۔ بظاہر اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے حیدرآباد میں امن وامان قائم کردیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں پولیس کا چہرہ عوام کے سامنے ہوتا ہے، عوام اسے ہی اپنا محافظ تصور کرتے ہیں اور عرفان بلوچ شہریوں میں احساس تحفظ پیدا کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

عرفان بلوچ کو جب الوداعی دعوت دی گئی تو مقررین نے ان کی شان میں جو قصیدے پڑھے، ان سے لگتا تھا کہ و ہی ان کی امیدوں کا آخری چراغ ہیں۔ اگر وہ نہیں رہیں گے تو شہر میں جرائم پیشہ افراد امن وامان کو تہہ و بالا کر دیں گے، حالانکہ انتظامی افسران کا آنا جانا معمول کی بات ہوتی ہے۔ عرفان بلوچ نے خود بھی اپنی تقریر میں کہا کہ عفریت سے عفریت کے انداز میں ہی مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ شیطان سے مقابلے کے لئے شیطان ہی بننا پڑتا ہے۔ ایک طرح سے انہوں نے اپنے ضلع کو پُرامن رکھنے کے لئے وہ تدابیر اختیار کیں، جنہیں انہوں نے بہتر جانا۔ پاکستانی معاشرے میں سب ہی جزیروں میں رہنا چاہتے ہیں۔ تعلیم، صحت وعلاج، پینے کا صاف پانی، سفر غرض تمام شعبہ ہائے زندگی میں جزیروں میں رہنا چاہتے ہیں۔ حکمران ہوں، وزراء ہوں، اراکین اسمبلی ہوں یا بڑے ذمہ دار افسران، سب ہی اپنے وقت کو غنیمت بنانا چاہتے ہیں۔ کسی کو یہ غرض نہیں کہ ان کے بعد کیا ہوگا؟ ایڈہاک ازم کا سب سے بڑا نقصان ہی یہی ہوتا ہے کہ آج گزار لو، کل کی کل دیکھیں گے۔ اس پالیسی سے تو گھر نہیں چلا کرتے، یہ تو ملک کا معاملہ ہے۔ کیوں نہیں کسی نے پولیس کو روکا یا ٹوکا کہ ماورائے عدالت قتل کی وارداتوں کی بجائے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ پولیس مقدمہ بنانے میں نااہل، شہری گواہی دینے پر تیار نہیں، وکیل جانتے ہوئے بھی ملزمان سے بھاری رقم وصول کرکے عدالت میں ان کی پیروی کرنے پر ہر دم تیار۔ ایسے معاشروں میں احسان چور یاچھوٹو گینگ ہی پیدا ہوتے ہیں اور جب وہ عام لوگوں پر زندگی تنگ کر دیتے ہیں تو حکمران ماورائے عدالت قتل کی وارداتوں کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں، اگر اس سے بھی کام نہ چلے تو فوج کو طلب کیا جاتا ہے تاکہ چھوٹو گینگ یا ڈاکوؤں کا صفایا کیا جاسکے۔ اس بات میں حکمران کبھی دلچسپی نہیں لیتے کہ پہلی وارات یا جرائم پیشہ افراد کی پہلے جرم پر ہی اچھی طرح سرکوبی کرادی جائے تاکہ عفریت یا بد نفس شریر انسانوں کا ابتدائی مرحلے میں ہی خاتمہ ہو جائے۔

عفریت کو پالنے میں پولیس اور کئی دیگر لوگوں کا مفاد ہوتا ہے، جب وہ دیو قامت ہوجاتا ہے تو اس سے نمٹنے کا سامان کیا جاتا ہے۔ عرفان بلوچ نے حیدرآباد پولیس کے ذریعے ڈاکہ زنی، لوٹ مار، اغوا برائے تاوان جیسے جرم کا ارتکاب کرنے والوں سے نمٹ لیا، لیکن ان لوگوں کو نظر انداز کیا جن کی وجہ سے ایک ہی وقت میں سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہے۔ یہ لوگ وہ ہیں جو مین پوری، گٹکا کا کاروبار کر رہے ہیں۔ مین پوری کی دکان دکان فروخت اور نوجوانوں سمیت لوگوں کو ’’پیٹ‘‘ بھر کے اس کا کھانا، منہ کے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں کئی گنا اضافے کا سبب بنا ہوا ہے۔ جامشورو کے نمرہ سرکاری ہسپتال میں کوئی جاکر دیکھے تو سہی کہ منہ کے کینسرکے مریضوں کی تعداد کتنی ہے۔ وہ لوگ کس اذیت ناک زندگی سے دوچار ہیں۔ ان میں سے اکثر علاج ہونے کے باوجود جوانی میں ہی موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے پیسے خرچ کرکے موت کا سودا کرتے ہیں۔ کوئی انہیں کیا سمجھائے؟ جب معاملات ماورائے عدالت ہی ہونا ہیں تو کاش عرفان بلوچ نے موت کے ان سوداگروں کی طرف بھی کچھ توجہ دی ہوتی تاکہ شہری خصوصاً نوجوان اذیت ناک تکلیف کے بعد موت کا شکار ہونے سے محفوظ رہ پاتے۔

مزید : کالم