عراق میں ایران کی اقتصادی اجارہ داری کی سازش

عراق میں ایران کی اقتصادی اجارہ داری کی سازش

واشنگٹن ( آن لائن )امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ ایران عراق میں سیاسی اور عسکری نفوذ کے بعد عراقی معیشت پر بھی اپنی اجارہ داری کیقیام کے لیے کوشاں ہے۔ اس کا اندازہ عراق کے بازاروں میں ایرانی مصنوعات کی بھرمار سے لگایا جاسکتا ہے۔اخباری رپورٹ کے مطابق عراق میں ایرانی مداخلت موجودہ حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ سنہ 1980ء4 کے عشرے سے ایران عراق میں سیاسی، عسکری اور اقتصادی مداخلت کررہا ہے۔ سنہ 2003ء4 میں عراق میں امریکی فوج کے ہاتھوں صدام حسین کا تختہ الٹے جانے کے بعد بھی بغداد میں ایرانی مداخلت کم نہیں ہوئی بلکہ عراق میں ایران نواز حکومت کے قیام نے ایرانی مداخلت کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ا خبار کے مطابق عراق میں ایرانی مداخلت کا اندازہ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم القدس ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے کردار سے لگایا جاسکتا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت میں ایرانی جنگجوؤں کی بڑی تعداد عراق اور شام میں لڑتی رہی ہے۔عراق میں امریکا کے سابق سفیر راین کروکر نے خبردار کیا ہے کہ داعش کی شکست کے بعد عراق پر امریکا کی توجہ کم ہوئی تو اس کا فائدہ ایران کو پہنچے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ داعش کی شکست کے بعد بھی امریکا کو عراق پر اپنی توجہ مرکوز رکھنا ہوگی ورنہ عراق ایران کی کالونی بن سکتا ہے۔

مزید : عالمی منظر