مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ جانبدارانہ ، متعصبانہ قانونی ضابطوں کے منافی ، شریف فیملی : اسحاق ڈار ، جے آئی ٹی رپورٹ ماننے کے پابند نہیں : سپریم کورٹ

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ جانبدارانہ ، متعصبانہ قانونی ضابطوں کے منافی ، ...

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک228 ایجنسیاں) سپریم کورٹ میں پاناما عمل درآمد کیس کی سماعت شروع ہوئی۔شریف فیملی اور وزیر خزانہ اسحا ق ڈار کی جانب سے جے آئی ٹی پر اعتراضات داخل کرائے گئے ۔سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان نے سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا کہ جے آئی ٹی دستاویزات کے ذرائع کیا ہیں؟ ذرائع جانے بغیر کیا دستاویزات کو درست قرار دیا جاسکتا ہے؟ شہباز شریف بطور گواہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے، شہباز شریف کا بیان صرف تضاد کی نشاندہی کے لئے استعمال ہوسکتا ہے، بیان کا جائزہ دفعہ فوجداری 161 کے تحت لیا جاسکتا ہے، قانونی حدود کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے، کیا دستاویزات قانون کے مطابق پاکستان لا ئی گئی ہیں؟ ضرورت پڑنے پر جلد 10 کو بھی کھول کر دیکھیں گے، نااہلی کا فیصلہ اقلیت کا تھا جے آئی ٹی اکثریت نے بنائی ہے ۔قطری خطوط بوگس ہیں یا ان کے حوالے سے بنائی گئی کہانی؟ بینی فیشل مالک ہونے کا فرق نواز شریف کو پڑ سکتا ہے؟ فرق تب پڑے گا جب مریم والد کے زیر کفالت ثابت ہوں گی، الزامات اس نوعیت کے تھے کہ تحقیقات کرانا پڑی۔جسٹس اعجاز الاحسن ریمارکس میں کہا کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگ سارا پاکستان جان چکا ہے ، ہم جے آئی ٹی کی فائنڈنگ کے پابند نہیں، جے آئی ٹی رپورٹ پر عمل کیوں کریں؟ یہ آپ نے بتانا ہے، کیا نواز شریف نے کبھی تنخواہ وصول کی؟ ریکارڈ کے مطابق کچھ نہ کچھ تنخواہ ملتی رہی ہے، ریکارڈ سے واضح ہے کہ ہر ماہ تنخواہ نہیں ملتی تھی ؂۔سپریم کورٹ میں پاناما عمل درآمد کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل میں کہا کہ دو ججز نے بیس اپریل کے فیصلے میں وزیراعظم کو نااہل قرار دیا ،تین ججز نے مزید تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا۔ جے آئی ٹی حتمی رپورٹ جمع کراچکی ہے۔ جے آئی ٹی نے رپورٹ عدالتی حکم پر جمع کرائی ہے۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ گلف سٹیل 33ملین درہم میں فروخت ہوئی شہباز شریف نے خود کو معاملے سے ہی الگ کرلیا۔ ٹرسٹی ہونے کے لئے ضروری تھا کہ مریم کے بیئرر سرٹیفکیٹ ہوتے، جے آئی ٹی نے ٹرسٹ ڈیڈ کو جعلی قرار دیا۔ بیئررسرٹیفکیٹ منسوخی کے بعد کسی قسم کی ٹرسٹ ڈیڈ نہیں تھی۔ فرانزک ماہریننے ٹرسٹ ڈیڈکے فونٹ پر بھی اعتراض کیا۔جے آئی ٹی نے کہا ہے کہ2006 ء میں فونٹ بنا ہی نہیں تھا۔ لندن فلیٹ شروع دن سے ہی شریف خاندان کے پاس ہیں۔ جے آئی ٹی نے قطری فلیٹ ورک شیٹ کو بھی افسانہ قرار دیا ہے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے لندن فلیٹ کو مریم نواز کی ملکیت قرار دیا ہے جے آئی ٹی کے مطابق وراثتی تقسیم میں لندن فلیٹ کا کوئی ذکر نہیں وزیراعظم نے قوم اور اسمبلی سے خطاب میں قطری سرمایہ کا ذکر نہیں کیا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ شہباز شریف بطور گواہ پیش ہوئے تھے۔ شہباز شریف کا بیان صرف تضاد کی نشاندہی کے لئے استعمال ہوسکتا ہے بیان کا جائزہ دفعہ فوجداری 161 کے تحت لیا جاسکتا ہے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ نااہل کرنے والے ججز سے اتفاق کرنا ہے یا نہیں۔ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ قانونی حدود کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کی اصل دستاویزات سربمہر ہیں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس کے فیصلے میں قطری خاندان کا کوئی ذکر نہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ قطری کا ذکر ہونا ضروری نہیں تھا۔ نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرانے کے لئے چار خطوط لکھے۔ جے آئی ٹی نے کہا کہ قطری پاکستانی قانونی حدود ماننے کے لئے تیار نہیں۔ قطری شہزادے نے عدالتی دائرہ اختیار پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ہل میٹل کا معاملہ ہم نے نہیں اٹھایا تھا۔ بیس اپریل کے عدالتی فیصلے سے ہل میٹل کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ سعودی حکومت نے قانونی معاونت کے لئے لکھے خط کا جواب نہیں دیا۔ جے آئی ٹی نے قانونی فرم کی خدمات سے کچھ دستاویزات حاصل کیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا وہ دستاویزات تصدیق شدہ ہیں؟ نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات تصدیق شدہ نہیں لیکن جے آئی ٹی نے درست مانی ہیں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ نواز شریف نے عزیزیہ سٹیل ملز کی فروخت کی دستاویزات نہیں دیں ،جے آئی ٹی نے قرار دیا ہل میٹل عزیزیہ ملز کی فروخت سے نہیں بنی جے آئی ٹی نے قرار دیا عزیزیہ ملز 63 نہیں 42ملین ریال میں فروخت ہوئی۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ایف زیڈ ای کی دستاویزات جے آئی ٹی خط کے جواب میں ملیں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ حسن نواز کے مطابق ایف زیڈ ای کمپنی 2014 میں ختم کردی گئی تھی ،نواز شریف کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین تھے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا نواز شریف نے کبھی تنخواہ وصول کی؟ ریکارڈ کے مطابق کچھ نہ کچھ تنخواہ ملتی رہی ہے،ریکارڈ سے واضح ہے کہ ہر ماہ تنخواہ نہیں ملتی تھی۔ نعیم بخاری نے کہا کہ کمپنی نے نواز شریف کا اقامہ بھی فراہم کیا ہے،نواز شریف کی تنخواہ 10ہزار ریال تھی۔ دستاویزات پر نواز شریف کے دستخط موجود ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ کیا دستاویزات قانون کے مطابق پاکستان لائی گئی ہیں؟ نعیم بخاری نے کہا کہ اس کا جواب جے آئی ٹی دے سکتی ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ اگر دستاویزات جے آئی ٹی کے خط کے جواب میں آ ئیں تو ٹھیک ہے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے یو اے ای حکومت کو سات بار خطوط لکھے ۔یو اے ای کی وزارت قانون نے چار خطوط کا جواب دیا۔ یو اے ای حکومت کو لکھے گئے خطوط والیم 10میں ہوں گے۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر والیم 10 کو بھی کھول کر دیکھیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ فلیگ شپ کے علاوہ بھی آٹھ کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ حسن اور حسین نواز کے بیان میں تضاد ہے۔ حسن نے کہا 2006 سے پہلے انہیں برطانیہ رقوم منتقلی کا علم نہیں تھا قطری خط اور ورک شیٹ خود ساختہ اور بوگس ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ قطری خطوط بوگس ہیں یا ان کے حوالے سے بنائی گئی کہانی؟ نعیم بخاری نے کہا کہ میرے حساب سے دونوں ہی بوگس ہیں۔ جے آئی ٹی کے مطابق برطانیہ کی کمپنیاں خسارے میں چل رہی ہیں۔ کمپنیوں کا خسارہ دس ملین پاؤنڈ سے بھی زیادہ تھا۔جے آئی ٹی نے کہا کہ حسن نواز فنڈز کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے ہیں۔ جے آئی ٹی نے کمپنیوں کے درمیان فنڈز ٹرانسفر کا بھی جائزہ لیا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا جے آئی ٹی نے بتایا کہ فنڈز آئے کہاں سے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے کہا ہے کہ حسن کے پاس کاروبار کے لئے پیسے نہیں تھے، ٹیم کے مطابق حسن نوازکے اثاثے آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ شریف خاندان کے خلاف مقدمات 1991 ء سے زیر التوا ہیں 9مقدمات میں لکھا ہے تحقیقات ابھی تک جاری ہے۔ تحقیقات کہاں جاری ہے یہ نہیں بتایا گیا۔ جے آئی ٹی نے تمام مقدمات سے متعلق سفارشات بھی کی ہیں۔ جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے تمام ارکان کے اثاثوں کا جائزہ لیا۔ اسحاق ڈار اور کیپٹن ( ر)صفدر کے اثاثوں کا بھی جائزہ لیا گیا اسحاق ڈار کے اثاثے بھی آمدن سے زائد قرار دیئے گئے۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ جے آئی ٹی کی دستاویزات کے ذرائع کیا ہیں؟ ذرائع جانے بغیر کیا دستاویزات کو درست قرار دیا جاسکتا ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات قانونی معاونت کے تحت فراہم کی گئیں۔ شریف خاندان نے جعلی دستاویزات پیش کیں۔ جعلی دستاویزات پیش کرنے پر فوجداری مقدمہ بنتا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ بینی فیشل مالک ہونے کا فرق نواز شریف کو پڑ سکتا ہے؟ فرق تب پڑے گا جب مریم والد کے زیر کفالت ثابت ہوں گی۔ نعیم بخاری نے کہا کہ شریف خاندان کا تمام دفاع ناکام ہوگیا ہے۔ نعیم بخاری نے عدالت سے نواز شریف کو طلب کرنے کی استدعا کی۔ انکے دلائل مکمل ہونے کے بعد جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے دلائل میں کہا کہ جے آئی ٹی کے مطابق نواز شریف نے تعاون نہیں کیا ، اس کے مطابق نواز شریف نے خالو کو پہچاننے سے انکار کیا۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ رپورٹ تو ہم نے بھی پڑھیہے آپ سے رپورٹ پر دلائل مانگے ہیں۔ توفیق آصف نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگ سارا پاکستان جان چکا ہے جے آئی ٹی فائنڈنگ کے پابند نہیں۔ عدالت نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر عمل کیوں کریں؟ یہ آپ نے بتانا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ اپنے اختیارات کا کس حد تک استعمال کرسکتے ہیں یہ بتائیں جے آئی ٹی سفارشات پر کس حد تک عمل کرسکتے ہیں یہ بتائیں توفیق آصف نے کہا کہ نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ دے کر معاملہ ٹرائل کورٹ کے لئے بھجوائیں۔ بادی النظر میں وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بادی النظر کا مطلب ہے ابھی صادق و امین پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ ان کے بعد عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ جے آئی ٹی اور ججز کو قوم کی خدمت کا اجر ملے گا۔ انشاء اﷲ انصاف جیتے گا اور پاکستان کامیاب ہوگا۔ ہر کسی کے پیچھے ایک فیس ہوتی ہے اس کیس کے پیچھے فیس نواز شریف کی ہے۔ نواز شریف نے لندن فلیٹ کے باہر کھڑے ہو کر پریس کانفرنس کی مریم نواز بینی فیشل مالک ثابت ہوگئیں جس عمر میں شناختی کارڈ نہیں بنتا ان کے بچے 800 کروڑ بنا لیتے ہیں، قوم کی ناک کٹ گئی۔ وزیراعظم دوسرے ملک میں نوکری کرتا ہے شیخ سعید اور سیف الرحمن نواز شریف کے فرنٹ مین ہیں، شیخ سعید نواز شریف کے ساتھ ہر عرب ملک کی میٹنگ میں ہوتے تھے۔ ان میٹنگز میں پاکستانی سفیروں کو بھی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ نواز شریف کا تنخواہ لینا یا نہ لینا معنی نہیں رکھتا معاملہ ملک کی عزت کا ہے جو ڈھائی گھنٹے بعد خالو کو پہچانے اس پر کیا بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ جے آئی ٹی پر اعتراضات کا جواب دینے کا موقع ملنا چاہئے۔ شریف خاندان دبئی اور دیگر ممالک کے چکر لگا رہا ہے پی ٹی وی کا خاکروب 18ہزار ‘ وزیراعظم 5 ہزار انکم ٹیکس دیتا تھا۔ اقتدار میں آکر سارا کاروبار شروع کیا گیا حسن اور حسین نواز کا 2000ء تک کوئی کاروبار نہیں تھا۔ صدرنیشنل بینک نے تسلیم کیا کہ وہ جعلسازی کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔ وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ جے آئی ٹی سے متعلق دو درخواستیں دائر کی ہیں ایک درخواست والیم 10کی فراہمی کی ہے دوسری درخواست میں جے آئی ٹی پر اعتراضات درج ہیں۔ دستاویزات اکٹھی کرنے میں جے آئی ٹی نے قانون کی خلاف ورزی کی۔ جے آئی ٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے جے آئی ٹی کی دستاویزات کو ثبوت تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت جے آئی ٹی رپورٹ اور درخواستیں خارج کرے۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہاکہ اپنے دلائل کو ایشو تک محدود رکھیں آسانی ہوگی چاہتے ہیں عدالت اور قوم کا وقت ضائع نہ ہو۔ خواجہ حارث نے کہا کہ رپورٹ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر نہیں رپورٹ قانون اور حقائق کے خلاف ہے۔ رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنس دائر نہیں کیا جاسکتا۔ جے آئی ٹی نے عدالت کے کرنے والا کام کیا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ الزامات اس نوعیت کے تھے کہ تحقیقات کرانا پڑی۔ خواجہ حارث نے کہا کہ جے آئی ٹی عدالتی احکامات سے کافی آگے چلی گئی ۔عدالت نے کہا کہ جے آئی ٹی ٹرائل نہیں کررہی تھی، اپنے الفاظ کا استعمال احتیاط سے کریں۔ عدالت نے سماعت آج تک ملتوی کردی۔ سماعت کے دوران وزیراعظم نوازشریف ،ان کے بچوں اوروزیرخزانہ اسحق ڈارنے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی )کی رپورٹ اپنے اعتراضات جمع کرادیئے جن میں موقف اختیارکیاگیاہے کہ جے آئی ٹی نے مینڈیٹ سے تجاوز کیا اس کی رپورٹ جانبدارانہ ،متعصبانہ اور قانونی ضابطوں کے منافی ہے ، وزیراعظم کی ذات اور نوکری کے حوالے حقائق تصوراتی ہیں ، جے آئی ٹی کی کوئی دستاویز تصدیق شدہ اور اصل نہیں ،تحقیقات میں جے آئی ٹی سربراہ کے کزن کی خدمات لی گئی ،آئی ایس آئی کا نامزد افسر ادارے کا ملازم ہی نہیں ، رپورٹ کی جلد 10 سامنے لایاجائے ، مدعا علیہان نے تحقیقات کالعدم قراردینے کی استدعا کی۔ تین رکنی بنچ کے ارکان نے مختلف مواقع پرریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے ہل میٹل کے حوالے سے جن دستاویزات پر انحصار کیا، وہ تصدیق شدہ نہیں، ضرورت محسوس ہونے پر والیم 10 بھی کھول کر دیکھیں گے، وزیراعظم ،ان کے بچوں اوروزیرخزانہ اسحق ڈار کی طرف سے اعتراضات میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو جن 13 سوالات کے جوابات معلوم کرنے کو کہا تھا ان پر کوئی کام نہیں کیا گیا اور ٹیم نے اپنی حدود سے تجاوز کیا اوررپورٹ میں نام نہاد شواہد شامل کیے گئے اس کا رویہ غیر منصفانہ تھا جے آئی ٹی نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے رپورٹ میں غیر جانبداری کا عنصر موجود نہیں شریف خاندان کا موقف ہے کہ جلد نمبر دس کے حوالے سے اگر نواز شریف کوئی الگ درخواست دائر کرنا چاہیں تو اس کی اجازت بھی دی جائے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے متحدہ عرب امارات سے قانونی معاونت بھی حاصل کی، گلف سٹیل مل سے متعلق شریف خاندان اپنا موقف ثابت نہ کرسکا، گلف سٹیل مل 33 ملین درہم میں فروخت نہیں ہوئی، جے آئی ٹی نے طارق شفیع کے بیان حلفی کوغلط اور 14اپریل 1980 کے معاہدے کو خود ساختہ قرار دیا، اپنی تحقیقات کے دوران جے آئی ٹی نے حسین نواز اور طارق شفیع کے بیانات میں تضاد بھی نوٹ کیا۔ جے آئی ٹی نے فہد بن جاسم کو 12 ملین درہم ادا کرنے کو افسانہ قرار دیا۔ قطری خط وزیراعظم کی تقاریر میں شامل نہیں تھا، جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کو طلبی کے لیے چار خط لکھے، جے آئی ٹی نے کہاہے کہ قطری شہزادہ پاکستانی قانونی حدود ماننے کو تیار نہیں، اس کے علاوہ قطری شہزادے نے عدالتی دائرہ اختیار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ عمران خان کے وکیل نے آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے کہا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایجنسی نے موزیک فونسیکا کے ساتھ خط وکتابت کی ۔ جے آئی ٹی نے اس خط و کتابت تصدیق کی۔ لندن فلیٹ شروع سے شریف خاندان کے پاس ہیں، تحقیقات کے دوران مریم نواز نے اصل سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیے، بیئررسرٹیفکیٹ کی منسوخی کے بعد کسی قسم کی ٹرسٹ ڈیڈ موجود نہیں جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ شہباز شریف نے جے آئی ٹی میں ایسے بیان دیا جیسے پولیس افسر کے سامنے دیتے ہیں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے قرار دیا حسین نواز جدہ مل کے اکلوتے مالک نہیں تھے، عباس شریف اور رابعہ شہباز بھی جدہ فیکٹری کے حصہ دار تھے۔دوستوں سے قرض لینا بھی ثابت نہیں ہوا، نواز شریف نے حسین نواز کو 7.5 لاکھ ریال سعودی اکاؤنٹ سے بھیجے، جے آئی ٹی کو ہل میٹل آڈٹ رپورٹ بھی نہیں دی گئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا جے آئی ٹی نے ہل میٹل کے حوالے سے دستاویزات استعمال کیں، جن دستاویزات پر انحصار کیا گیا وہ تصدیق شدہ نہیں ۔ نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے بتایا ہے کہ ایف زیڈ ای نامی کمپنی نوازشریف کی ہے۔ حسین نواز کے مطابق ایف زیڈ ای کمپنی 2014 میں ختم کردی گئی، نواز شریف ایف زیڈ ای کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین تھے۔ عدالت نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا ایف زیڈ ای کی دستاویزات جے آئی ٹی کو قانونی معاونت کے تحت ملیں یا ذرائع سے ،نعیم بخاری نے کہا کہ کمپنی کی دستاویزات قانونی معاونت کے تحت آئیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ تمام دستاویزات تصدیق شدہ نہیں جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات درست ہیں صرف دستخط شدہ نہیں۔ کمپنی نے نوازشریف کا متحدہ عرب امارات کا اقامہ بھی فراہم کیا ہے۔ جے آئی ٹی نے دبئی اور برطانوی حکام کو 7 ،7 خطوط لکھے،اس کے علاوہ سعودی عرب کو بھی ایک خط لکھا لیکن اس کا جواب نہیں آیا۔ شریف خاندان کے پاس آمدن سے زائد اثاثے ہیں،نواز شریف کے اثاثے بھی ان کی آمدن سے زائد ثابت ہوئے، اس کا ذکر جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل ہے، جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ آمدن سے زائد اثاثے ہونے کے کیا نتائج ہوں گے جس پر نعیم بخاری نے کہا ہے کہ ہم نے عدالت سے نواز شریف کی نااہلی کا ڈیکلریشن مانگا ہے، نواز شریف کے خلا ف نیب کا مقدمہ بھی بنتا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ ہم جے آئی ٹی کی سفارشات پر کس حد تک عمل کر سکتے ہیں، بتائیں ہم اپنے کون سے اختیارات کا کس حد تک استعمال کرسکتے ہیں جس پر جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں وزیر اعظم کی نااہلی کے لیے کافی مواد ہے، نعیم بخاری جے آئی ٹی رپورٹ کی سمری سے عدالت کوآگاہ کرچکے ہیں۔ ہم جے آئی ٹی رپورٹ کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اسے درست تسلیم کرتے ہیں۔ بادی النظر میں وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگر بادی النظر کہہ دیا تو پھر کیس ہی ختم ہوگیا۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ اول