’’ملک کی سب سے بڑی جماعت ‘‘کے امید وار کو کوئٹہ کے ضمنی انتخاب میں271ووٹ پڑے

’’ملک کی سب سے بڑی جماعت ‘‘کے امید وار کو کوئٹہ کے ضمنی انتخاب میں271ووٹ پڑے

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کے یہ دعوے کئی بار سامنے آچکے ہیں کہ اگلی وفاقی حکومت میں وزیراعظم کا تعلق ان کی جماعت سے ہوگا، ابھی گزشتہ روز تحریک انصاف کے کارکنوں کے کنونشن میں وزیراعظم، عمران خان کے نعرے لگ گئے، ویسے عمران خان کا رویہ تو بہت عرصے سے ’’وزیراعظمانہ‘‘ ہے۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے اپنے بعض عزائم سے بھی پردہ اٹھایا ہے جو وہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد کرنا چاہتے ہیں، بہت سی سیاسی جماعتوں کا ٹارگٹ بڑے بڑے گورنر ہاؤس تو ہمیشہ سے رہے ہیں، ہر جماعت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اگر وہ برسر اقتدار آگئی تو گورنر ہاؤس کو گرا دیا جائیگا، اور اس کی جگہ فلاحی منصوبے بنا دیئے جائیں گے لیکن تحریک انصاف چار سال سے کے پی کے میں حکمران ہے اور گورنر ہاؤس بھی اپنے مقام پر کھڑا ہے کسی نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا، جماعت اسلامی کے رہنما کہا کرتے ہیں کہ گورنر ہاؤس کی جگہ یونیورسٹی بنا دی جائیگی ہم نے نہیں دیکھا کہ اس مقصد کے لئے کوئی پیش رفت ہوئی، جماعت اسلامی کہہ سکتی ہے کہ ہم تو صوبے کی حکومت میں جونیئر پارٹنر ہیں یہ کام تو سینئر پارٹنر کرسکتا ہے، اتفاق کی بات ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی ایم ایم اے نے جس میں جماعت اسلامی شامل تھی پورے پانچ سال تک صوبے کی حکومت کے مزے لوٹے، لیکن نہ تو گورنر ہاؤس کا کچھ بگڑا اور نہ ہی کوئی دوسرا ایسا منصوبہ نظر آیا جس کا دعویٰ جماعت اسلامی کرتی ہے مثلاً آج ہی سراج الحق نے کہا ہے کہ ہماری حکومت آئے گی تو ججوں سے مساجد میں فیصلے کروائے جائیں گے، ان سے پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا کے پی کے میں جماعت اسلامی کی حکومت نہیں ہے اور کیا وہاں کوئی جج نہیں، کیا جماعت نے اس صوبے میں اپنے اس انقلابی اقدام پر عملدرآمد کرالیا؟ کچھ ایسا ہی دعویٰ ایم کیو ایم کرتی ہے وہ جنرل پرویز مشرف کے پورے دورِ حکومت میں وفاقی اور سندھ حکومت میں شامل رہی۔ اہم وفاقی اور صوبائی وزارتیں ان کے وزیروں کے پاس تھیں۔ گورنر سندھ ان کا تھا پیپلز پارٹی کے دور میں بھی شریک حکومت رہی، اس کے باوجود وہ ملک اور صوبے کے لئے کچھ نہ کرسکی۔ البتہ دعویٰ اب بھی یہی ہے کہ ہماری حکومت آئی تو ہم آسمان سے تارے توڑ کر لائیں گے، بھائی صاحب اپنے عہدِ حکومت میں تارے نہ سہی کراچی کی سڑکیں ہی درست کرائی ہوتیں، اب بھی کراچی جیسے شہر کے میئر کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے جہاں کچرے کے ڈھیر لگے ہیں، سڑکیں کسی دیہاتی قصبے کا منظر پیش کررہی ہیں جو دو چار سڑکیں اچھی ہیں ان کی تعمیر میں کراچی کارپوریشن کا کوئی حصہ نہیں لیکن دعویٰ یہی ہے کہ جب ہم آئیں گے تو یہ کریں گے، بھائی جتنی مدت کے لئے آپ ماضی میں حکومت کرچکے اب وہ زمانے شاید نہ آئیں۔ اس لئے آپ کے پاس جتنا اقتدار ہے اس میں بھی کچھ کرکے دکھا دیں۔ عمران خان نے بطور وزیراعظم ملک کے لئے جو منصوبے بنا رکھے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ وزیراعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے۔ کسی چھوٹے گھر میں رہیں گے، یعنی جب وہ وزیراعظم بن جائیں گے تو بنی گالہ بھی چھوڑ دیں گے کیونکہ یہ گھر بھی تو تین سو کنال سے زیادہ رقبے پر محیط ہے، اس منطق کی سمجھ نہیں آئی کہ بنا بنایا وزیراعظم ہاؤس چھوڑ کر نیا گھر بنوائیں گے تو وزیراعظم ہاؤس کا مصرف کیا ہوگا، بے نظیر بھٹو جب وزیراعظم تھیں تو آصف علی زرداری نے وہاں گھوڑے رکھے ہوئے تھے لیکن گھوڑوں کی رہائش کیلئے وزیراعظم ہاؤس کا ایک حصہ مخصوص تھا، عمران خان وزیراعظم بن کر اگر چھوٹے گھر میں رہیں گے تو ان کے وہ کتے کہاں جائیں گے جنہیں بنی گالہ جیسی کُٹیا میں رہنے کی عادت سی ہوگئی ہے۔ در اصل ہم دونوں اپوزیشن جماعتوں کے دعوؤں کی بات کررہے تھے، لیکن درمیان میں وزیراعظم ہاؤس کا تذکرہ آگیا، بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ اگلی وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتیں ان کی پارٹی بنائے گی لیکن لگتا ہے ان کے پارٹی رہنماؤں کو اپنے لیڈر کی اس بات پر یقین نہیں ہے ورنہ وہ اس رفتار سے پارٹی نہ چھوڑ رہے ہوتے جس تیزی سے وہ تحریک انصاف کی جانب بھاگے جارہے ہیں۔ پاکستان کے ووٹروں کا موڈ بھی عجیب ہے ابھی دو روز پہلے کوئٹہ میں صوبائی اسمبلی کا ضمنی انتخاب ہورہا تھا وہاں تحریک انصاف کے امیدوار کو 271 ووٹ پڑے، جبکہ مولانا فضل الرحمن کا نامزد امیدوار 44 ہزار ووٹ لے گیا اس کے باوجود عمران خان کا دعویٰ ہے کہ ان کی جماعت سب سے بڑی پارٹی ہے، اس دعوے کا مطلب تو یہ نکلتا ہے کہ 271 کا ہندسہ 44 ہزار سے بڑا ہوتا ہے۔ اس طرح کراچی میں تحریک انصاف کے امیدوار کو چھ کروڑ روپے انتخابی مہم میں جھونکنے کے باوجود 5 ہزار سے زیادہ ووٹ نہیں مل سکے، ان ووٹوں کی بنیاد پر یہ دعویٰ کس طرح کیا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف ملک گیر اور سب سے بڑی جماعت ہے۔ کیا سب سے بڑی جماعت کے لچھن ایسے ہی ہوتے ہیں لیکن دعویٰ کرنے میں کیا ہرج ہے ایک ٹی وی چینل نے اپنی لانچنگ سے بھی بہت پہلے یہ مہم چلا رکھی تھی کہ یہ چینل ملک کا سب سے بڑا چینل ہے، پھر ایک سکینڈل کی وجہ سے چینل بروقت لانچ نہ ہوسکا کئی سال بعد چینل شروع تو ضرور ہوگیا ہے لیکن چینل کا یہ دعویٰ بہرحال محلِ نظر ہے ہم نے ایک دوست سے جو اس چینل میں کام کرتے ہیں جب یہ کہا کہ چینل آن ایئر آنے سے پہلے ہی ملک کا سب سے بڑا چینل کیسے بن گیا؟ تو انہوں نے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ اگر ڈاکٹر طاہر القادری کوئی انقلاب لائے بغیر قائد انقلاب کہلا سکتے ہیں اور اگر وزیراعظم بنے بغیر وزیرعظم عمران خان کا نعرہ لگ سکتا ہے تو ہم یہ دعویٰ کیوں نہیں کرسکتے کہ ہمارا چینل ملک کا سب سے بڑا چینل ہے، اب اس لاجواب منطق کا کیا جواب تھا۔

271 ووٹ

مزید : تجزیہ