کوٹ ادو،نجی بنک میں ڈکیتی،ڈاکو لاکھوں لے گئے،مزاحمت پر گارڈ زخمی

کوٹ ادو،نجی بنک میں ڈکیتی،ڈاکو لاکھوں لے گئے،مزاحمت پر گارڈ زخمی

کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر،نامہ نگار)نجی میزان بنک کوٹ ادومیں دن دیہاڑے ڈکیتی،6مسلح ڈاکو لاکھوں کی رقم لیکر فرار، مزاحمت پربنک کا گارڈ شدید زخمی،جاتے ہوئے بنک کے باہر تالا لگا گئے تفصیل کے مطابق تھانہکوٹ ادو کے علاقہ میں قائم میزان بنک میں 3بجکر15منٹ پردو موٹر (بقیہ نمبر46صفحہ12پر )

سائیکلوں پر سوار6مسلح ڈاکو داخل ہوگئے اور ڈیوٹی پر موجود سیکیورٹی گارڈاحمدکے سر میں بٹ مار اسے زخمی کرکے اسے گھسیٹ کر کمرہ میں لے گئے جبکہ بنک کے عملہ کو یرغمال بنا کرگن پوائنٹ پر ایک سائیڈ پر بٹھا دیا اور بنک سے لاکھوں لیکر فرارہو گئے،ڈاکوجاتے ہوئے بنک کے باہر چائنا والا تالا لگا موٹر سائیکلوں کے ذریعے فرار ہو گئے اطلاع پرایس ایچ او کوٹ ادو سیف اللہ جوئیہ پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور بنک کو گھیرے میں لے لیا اور زخمی گارڈ کو ہسپتالبھجوا دیا، اطلاع پرڈی پی او مظفرگڑھ اویس احمد ملک، ڈی ایس پی کوٹ ادومجاہد اقبال برمانی،ایس ایچ او دائرہ دین پناہ ملک جاوید،ایس ایچ او سنانواں مہر سعید احمد رونگہ سمیت پورے سرکل کی پولیس نفری موقع پر پہنچ گئی اورڈاکوؤں کی گرفتاری کیلئے پورے ضلع کی ناکہ بندی کر دی گئی، اس بارے ایس ایچ او کوٹ ادو سیف اللہ جوئیہ نے بتایا کہ ڈاکوؤں کی تلاش کیلئے پورے ضلع کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے جبکہ انویسٹی گیشن ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں ڈاکوپشتو زبان بولتے تھے جبکہ انکی شناخت کیلئے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد لی جا رہی ہے،دوسری طرف ڈکیتی ہونے والی رقم بارے گنتی جاری ہے اس کے بعد معلوم ہو سکے گا کہ کتنی رقم ڈکیتی ہوئے ہے۔میزان بنک کوٹ ادو میں ہونے والی بنک ڈکیتی کے دوران بنک میں لگا الارم سسٹم جو کہ پیروں کے نیچے لگایا ہوا ہوتا ہے ڈکیتی کے دوران نہ بجایا گیا جبکہ مین گیٹ پر موجود سیکیورٹی گارڈ خورشید احمد پر ڈاکوؤں کے حملہ کے دوران بنک میں موجود عملہ نے نہ آ لارم بجایا اور نہ مورچہ میں بیٹھے سیکیورٹی گارڈ بشیر احمد نے کوئی فائر کیا جبکہ بنک کا سٹرانگ روم جو کہ صرف صبح اور بند کرنے کے دوران منیجر کی موجودگی میں کھولا جاتا ہے بھی 3بجے کھلا ہوا تھا جبکہ سٹرانگ روم کھولنے کے دوران کسی بھی کھاتہ دار کو بھی اندر نہیں آنے دیا جاتا جبکہ دوران ڈکیتی بنک میں20سے زائدلوگ بھی موجود تھے اور سٹرانگ بھی کھلا تھا جو کہ ایک سوالیہ نشان ہے جبکہ مورچہ میں بیٹھے سیکیورٹی گارڈ بشیر احمد کے مطابق ڈاکوؤں نے آتے ہی اس سے گن لے لی اور اس میں سے میگزین نکال کر رائفل اسے واپس کر دی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر