وزیراعظم استعفیٰ دیں ،پاکستان بار کونسل سمیت وکلاءتنظیموں نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا

وزیراعظم استعفیٰ دیں ،پاکستان بار کونسل سمیت وکلاءتنظیموں نے ملک گیر ہڑتال ...
وزیراعظم استعفیٰ دیں ،پاکستان بار کونسل سمیت وکلاءتنظیموں نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پاکستان بار کونسل اور وکلاءکی نیشنل ایکشن کمیٹی نے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کل 19جولائی کو ملک بھر کے وکلاءکو ہڑتال کی کال دے دی ہے ۔

وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف کی نا اہلی کونیب ریفرنس سے مشروط کرنے کی درخواست مسترد

اس سے قبل پاکستان بار کونسل وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبہ بارے میں وکلاءکی نیشنل ایکشن کمیٹی کے اقدامات سے لاتعلق تھی تاہم اب پاکستان بار کونسل کی 5مئی 2017ءکی قرار داد کی روشنی میں پاکستان بار کونسل نے نہ صرف وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے بلکہ پاکستان بھر کے وکلاءکو ہڑتال کی کال بھی دے دی ہے۔نیشنل ایکشن کمیٹی پاناما لیکس پر جے آئی ٹی تشکیل دیئے جانے کے بعد پہلے دن سے ہی وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہی ہے جبکہ پاکستان بار کونسل نے 5مئی کو فیصلہ کیا تھا کہ اگر جے آئی ٹی کی رپورٹ وزیراعظم کے خلاف آئی تو وزیراعظم کے خلاف تحریک چلائی جائے گی اور ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جائے گا۔پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین ملک عنائت اللہ اعوان اوردیگر ممبران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ وزیراعظم اور ان کے خاندان کی کرپشن کے خلاف چارج شیٹ ہے ،احسن بھون نے مزید کہا کہ افسوسناک بات ہے پورا خاندان کرپشن میں ملوث ہے ، جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد ہم وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے علاوہ اسحاق ڈار ،کیپٹن (ر)صفدر اور وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔وکلاءکل 19جولائی کو وزیراعظم کے خلاف ملک گیر ہڑتال کریں گے ۔وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل احسن بھون نے مزیدکہا کہ سپریم کورٹ جے آئی ٹی کی تفتیش کی روشنی میں پاناما لیکس میں نامزد لوگوں کو نااہل قرار دے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچا کر کرپشن کی رقم واپس لائے۔احسن بھون کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کو مدنظر رکھنا ہو گا کہ کرپشن کے خلاف اتنی بڑی کوشش ناکام نہ ہو جائے،وزیراعظم ایک دوسرے ملک کی کمپنی کے ملازم ہیں ،کیا اس کے بعد بھی کسی ثبوت کی ضرورت ہے؟جے آئی ٹی کی سفارشات کے مطابق وزیراعظم سمیت سب کو نیب کے حوالے کیا جائے، جے آئی ٹی نے جتنے ثبوت پیش کئے ہیں وہ ہمارے قانون کے مطابق بالکل درست ہیں، اسحاق ڈار نے بطور وزیر خزانہ پورے ملک کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے ،جس نے سپریم کورٹ میں جعلی کاغذات دہے ان کو فوری سزا دی جائے،ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کے کلاس فیلو کو میرٹ کے برعکس نیشنل بنک کا صدر بنا دیا گیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کو دھمکیاں دینے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد مستعفی ہو جائیں گے مگر ابھی تک استعفیٰ سامنے نہیں آیا،انہوں نے کہا کہ صورتحال پر غوروخوض کے لئے پاکستان بار کونسل نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔سپریم کورٹ بار اور وکلاءکی نیشنل ایکشن کمیٹی کے سیکرٹری آفتاب باجواہ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے وکلاءراہنماﺅں سے کل 19جولائی کو ہونے والی ملک گیر ہڑتال کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے ۔

مزید :

لاہور -