ہائی کورٹ بار کا مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ ،فوجی عدالتوں کے خلاف قرار داد بھی منظور

ہائی کورٹ بار کا مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا ...
ہائی کورٹ بار کا مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ ،فوجی عدالتوں کے خلاف قرار داد بھی منظور

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر کے مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں ۔

وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف کی نا اہلی کونیب ریفرنس سے مشروط کرنے کی درخواست مسترد

ہائی کورٹ بار کے اجلاس عام میں فوجی عدالتوں کے خلاف قرار داد بھی متفقہ طورپر منظور کر لی گئی ۔اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری ذوالفقار نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مودی کی حمایت کرتے ہوئے سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دینے پر ان کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان یو این اومیں کشمیر کے حوالہ سے لائی گئی بھارت کی اپنی ہی قرارداد پر اقوام متحدہ سے کشمیریوں کو حق استصواب رائے کیلئے زور دے اور کشمیر کے عوام کو تنہا نہ چھوڑا جائے کیونکہ کشمیر کی آزادی سے ہی پاکستان کی تکمیل ممکن ہے ۔اجلاس سے ہائی کورٹ بار کے فنانس سیکرٹری محمد ظہیر بٹ ،عبدالرشید قریشی ، خاور محمود کھٹانہ اور محمد اسلم زار ایڈووکیٹس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندو بنیے نے پاکستان کے وجود کو آج تک دل سے تسلیم نہ کیا ہے چہ جائیکہ وہ یو این اومیں اپنی ہی دائر کردہ قرارداد پر کشمیریوں کو حق خود ارادی دے۔ پوری دنیا میں بشمول تمام ترقی یافتہ میں ممالک میں اپنے وطن کی آزادی کی خاطر قربانیاں دینے والوں کو دہشت گرد نہیں بلکہ ہیرو کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام 70سال سے آزادی کے حصول کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ کشمیر کی نوجوان نسل کے دل و دماغ سے موت کا خوف نکل چکا ہے اور وہ جان ہتھیلی پر رکھ پر آزادی کیلئے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام نے ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں دہشت گردی کی کاروائی نہیں کی بلکہ وہ اپنے ہی وطن میں آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیریوں کے نہیں بلکہ لنگوٹیے یارکی طرح مودی سے دوستی نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے مودی کے ایجنٹ جندال کا نواز شریف سے مری میں ون آن ون ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی زبان سے نا تو کلبھوشن کا نام سنا اور نا ہی لائن آف کنٹرول پر ہندو درندوں کی وحشیانہ کاروائیوں میں شہید ہونے والے کشمیر کے عوام کی شہادت پر انڈیا کے خلاف آواز نکلی۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت اور عوام کو کشمیر کی آزادی کیلئے ہر طرح کی مدد کرنی ہو گی۔ بار کے اجلاس میں مرزا عبدالخالق ایڈووکیٹ کی پیش کی گئی قرارداد بھی متفقہ طو رپر منظور کرلی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ وکلاءکسی بھی شکل میں فوجی عدالتوں کے قیام کو آئین و قانون کے خلاف سمجھتے ہیں اور فوجی عدالتوں کو مسترد کرتے ہیں۔قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ موجودہ نظام عدل کو مضبوط کیا جائے۔ تمام متعلقہ ایجنسیوں اور تفتیش کے نظام کو بہتر کیاجائے اور گواہان کی سیکورٹی کا مناسب بندوبست کیا جائے۔اجلاس میں فوجی عدالتوں کے حوالے سے آل پاکستان نمائندہ وکلاءکنونشن بلانے کی منظوری بھی دی گئی۔

مزید : لاہور