جے آئی ٹی کی رپورٹ اس قابل نہیں ٹرائل کورٹ میں لے جایا جائے,جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس پر کوئی کیوں ایکشن نہیں لیتا ?:رانا ثناء اللہ

جے آئی ٹی کی رپورٹ اس قابل نہیں ٹرائل کورٹ میں لے جایا جائے,جاوید ہاشمی کی ...
جے آئی ٹی کی رپورٹ اس قابل نہیں ٹرائل کورٹ میں لے جایا جائے,جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس پر کوئی کیوں ایکشن نہیں لیتا ?:رانا ثناء اللہ

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وقت آنے پر حکومت کے خلاف ہونے والی سازشوں کو سامنے لایا جائے گا ، جے آئی ٹی کی رپورٹ اس قابل نہیں کہ اس کو ٹرائل کورٹ میں لے جایا جائے ،جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس پر کوئی کیوں ایکشن نہیں لیتا ، جے آئی ٹی نے کمال کردیا 60دن میں کیسے تحقیقات مکمل کرلی ؟، جے آئی ٹی کی رپورٹ ایک سازش ہے اوریہ ساز ش دھرنا ون کے وقت سے کام کررہی ہے ،کرپشن کے الزام لگانے والے زیادہ پیچھے مت جائیں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے دور میں 2ہزار ارب کے منصوبے لگائے جے آئی ٹی زیادہ پیچھے مت جائے ان کی تحقیقات کرلیں ۔

نجی ٹی وی کے مطابقرانا ثناء اللہ خان کا کہنا تھا    کہ سپریم کورٹ جاوید ہاشمی کے بیان کا نوٹس لے, جاوید ہاشمی مسلم لیگ (ن) میں بھی باغی تھے اور تحریک انصاف میں گئے تب بھی باغی تھے ،وہ ایک سچے محب الوطن سیاست دان ہیں وہ جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ کہتے  اور جمہوریت کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں ہیں ۔ رانا ثناء اللہ نے جے آئی ٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ جے آئی ٹی بننے سے پہلے انکوائری شروع ہوچکی تھی ، جے آئی ٹی نے شفاف طریقے سے تحقیقات نہیں کی ، جے آئی ٹی کی تفتیش ضروری نہیں کہ صحیح ہو غلط بھی ہوسکتی ہے اتنے پرانے معاملات کوئی یاد نہیں رکھتا ۔انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ ایک سازش ہے اوریہ ساز ش دھرنا ون کے وقت سے کام کررہی ہے، جے آئی ٹی نے 60دن میں کیسے تحقیقات مکمل کرلی ؟ہمارے پاس جو کاغذات موجودتھے وہ درست ہیں اور ہم نے سب جمع کروادئیے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ شریف فیملی کے 60کی دہائی میں بھی اثاثے تھے،  70کی دہائی میں گلف سٹیل لگائی گئی یہ سب باتیں درست ہیں، وزیراعظم کے 35سالہ سیاسی دور میں کسی بھی قسم کی کرپشن ،کمیشن یا کک بیک کا ان پر کوئی الزم نہیں، مسلم لیگ (ن) کے دور میں لگائے گئے تمام منصوبے شفاف ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ 90کی دہائی میں تو علیم خان اورجہانگیر ترین کے اثاثوں میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے، اس کا مطلب تو  یہ ہے کہ انہوں نے بھی کرپشن کی ہے ؟۔دشمن اندرون اور بیرون ملک سے سازش کررہا ہے ، پارٹی پالیسی نہیں کہ سب کچھ بتادیا جائے حکومت کے خلاف ہونے والی سازشوں کو سامنے لایا جائے گا ،2018میں عوام کی عدالت لگے گی اس میں سب فیصلے ہونگے ۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن کے الزام لگانے والے زیادہ پیچھے مت جائیں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2ہزار ارب کے منصوبے لگائے گئے ان کی تحقیقات کرلیں ۔انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہاکہ میں نے کبھی پولیس کو حکم نہیں دیا کہ وہ عوامی تحریک کے کارکنوں پر گولیاں برسائیں، ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں ،سانحہ ماڈل ٹاؤن پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں میں تصادم کے نتیجہ میں ہوا ، سانحہ ماڈل پر کمیٹی تو خود پنجاب حکومت نے بنائی تھی ، باقر نجفی کی رپورٹ کو حکومت پبلک نہیں کرسکتی اورآج بھی اس رپورٹ پر رٹ دائر ہے ۔

مزید : لاہور