ڈالرکی چھلانگیں

ڈالرکی چھلانگیں
ڈالرکی چھلانگیں

  

تازہ ترین معاشی صورت حال کے مطابق ڈالر 128 روپے کا ہوگیا ہے، اس کی وجہ سے مقامی طور پر مہنگائی بڑھنے کے ساتھ ساتھ قرضوں میں 1600۔ ارب کا اضافہ ہوگیا ہے۔ 2013ء کے الیکشن سے قبل ملک میں کاروباری و اقتصادی سرگرمیاں تیزی سے جمود کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ آئے روز دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے امن و امان کی صورت حال ابتر ہو چکی تھی۔ بجلی ناپید اور صنعتیں بند ہو رہی تھیں۔

الیکشن میں کاروباری طبقہ اور عوام نے میاں محمد نواز شریف کو منتخب کیا تو انہوں درست منصوبہ بندی اور دن رات محنت کرکے سب سے پہلے بجلی کی پیداوار بڑھائی، جس کے نتیجے میں کارخانے اور فیکٹریاں چلنے لگیں۔ ابتدائی دو سال چھوڑ کر پاکستان معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگیا تھا۔

معاشی حالات میں اس قدر خوشگوار بہتری آئی کہ بین الاقوامی اقتصادی ادارے پاکستانی معیشت کو دنیا کی چند ابھرتی معیشتوں میں شمار کر ر ہے تھے۔ پاکستان کی سٹاک ایکسچینج نے خطے کے دیگر ملکوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ پاکستان خارجہ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکزبن گیا۔ میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف نے جب دوست ملک چین کو بجلی اور سی پیک منصوبو ں میں سرمایہ کاری کے لئے توجہ دلائی تو اس نے فوری طور پر حامی بھر لی اور 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے سی پیک منصوبے پر کام شروع ہوگیا، اس کے ساتھ ہی ترقی کا عمل روکنے کے لئے سازشوں کا جال بچھا دیا گیا۔ الزامات کے سہارے حکومتی ذمہ داران کو عدالتوں میں گھسیٹنا شروع کر دیا گیا، آخر کار ملک میں معاشی ترقی کے عظیم معمار میاں محمد نواز شریف کو نااہل قرار دلوا کر پابند سلاسل کر دیا گیا ہے۔ 

ہوسکتا ہے بعض افراد کے ہاں گھی کے چراغ جلے ہوں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پیدا کردہ خلفشار ملک کو معاشی بدحالی کر طرف لے جا رہا ہے، جس کی گواہی سٹیٹ بنک آف پاکستان کے سربراہ نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں دے دی ہے۔ پاکستانی معیشت پر متعدد بار نشیب و فراز آئے، جسے کاروباری طبقہ نے بھگتا اور عمل میں ڈھلتی حق گوئی کو پاکستانی عوام نے بارہا اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ پہلا مرحلہ اس وقت آیا، جب برصغیر میں آزادی کے لئے بے چین و مضطرب مسلمانوں کو محمد علی جناح کی صورت میں عزم و ہمت کا پاسبان اور حق و صداقت کا نگہبان میسر آیا۔

ہندو اور انگریز کی مشترکہ چالاکیاں پاکستان کو وجود پذیر ہونے سے روک نہ سکیں۔ ایک موقع اور آیا جب ہندوستان کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی قیادت کی طرف سے ترغیب و تحریص کا سلسلہ شروع کیا گیا، لیکن اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کسی خوف یا لالچ کو خاطر میں نہیں لائے، انہوں نے وہ کیا جو قوم چاہتی تھی اور دھماکے کر دیئے۔

وہ دن گیا اور آج آیا میاں محمد نواز شریف اغیار کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتے چلے آرہے ہیں، لیکن میاں محمد نواز شریف صرف قوم کی امنگوں کو پذیرائی بخشتے ہیں۔ ایک مرحلہ وہ آیا جب ایک جنرل نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور قومی امنگوں کا گلا دبانا شروع کر دیا۔ دبانے اور منوانے کے لئے وزیر اعظم کو بکتر بند گاڑی میں بٹھاکر عدالت میں لایا جاتا رہا، لیکن وزیراعظم پاکستان کو رعب و دبدبہ سے متاثر کرنے کی ساری کارروائیاں بے سود ثابت ہوتی رہیں۔

ایسا وقت آیا کہ تحریک مزاحمت کی قیادت محترمہ کلثوم نواز صاحبہ کو کرنا پڑی۔ شقی القلب حکمران کے کارندوں نے خاتون محترم کو کرین کے ذریعے گاڑی سمیت اٹھا لیا، لیکن میاں محمد نواز شریف بیگم کے ساتھ ناروا سلوک کو بھی خاطر میں نہ لائے۔ یہ وقت تھا، جب فوجی حکمران نے اپنے اقتدار کو سند جواز دینے کے لئے ریفرنڈم کا ذرامہ رچایا اس کے لئے موجودہ دور کے ایک سیاست دان کو اپنا چیف پولنگ ایجنٹ بنایا۔

آخر کار سخت دھوپ کا آمرانہ سورج ڈھل گیا۔ الیکشن آیا اور عوام نے دل کھول کر میاں محمد نواز شریف کو مینڈیٹ سے نوازا۔ اندھیروں کی رخصتی کا وقت آیا اور جمہوری حکومت کا سورج پوری آب و تاب سے چمکا۔ سی پیک سمیت بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کر دیا گیا، لیکن ان کے خلاف سازشوں کا آغاز ہوگیا۔ میاں محمد نواز شریف کی حکومت ایک بار پھر عدالتی فیصلہ کے ذریعے ختم اور میاں صاحب پابند سلاسل ہوچکے ہیں، ملک میں معاشی حالات بگاڑ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

ڈالر چھلانگیں لگا رہا ہے اور پاکستانی روپیہ بے قدری کی خاک میں رل گیا ہے۔ کاروباری طبقہ تذبذب کا شکار ہے کہ کاروبار ی سرگرمیوں کی بحالی اناڑیوں کے بس کی بات نہیں۔ اناوں کو ذبح کرنے کو ہم تیار نہیں ایسے حالات میں کیا کریں۔

مزید :

رائے -کالم -