سیاسی جماعتوں کے یکساں مواقع نہ ملنے کے الزامات خطرناک

سیاسی جماعتوں کے یکساں مواقع نہ ملنے کے الزامات خطرناک

  

تجزیہ: مبشرمیر

انتخابات کا سب سے بڑا چیلنج نتائج کو تسلیم کرنا ہے ۔دہشت گردی کے واقعات کے بعد سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکساں مواقع نہ ملنے کے الزامات خطرناک ہیں اگر ہارنے والی سیاسی جماعتوں نے دھاندلی کا الزام لگایا تو آنے والی حکومت کی تشکیل بھی دشوار ہوجائے گی ۔ایوان بالا میں اٹھنے والا سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کہ کالعدم مذہبی جماعتوں کے دو سو سے زائد لوگ الیکشن میں امیدوار کیسے بنے اور ان کو شیڈول 4سے کیسے نکالا گیا ۔اراکین سینیٹ کی تشویش بجا ہے کہ اگر ایسے افراد میں سے25افراد بھی قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلیوں میں پہنچ گئے تو ان ایوان کی حیثیت کیا ہوگی ۔کئی سیاسی پنڈتوں نے یہ عندیہ دینا شروع کردیا ہے کہ آنے والی اسمبلی معلق ہوگی اور مشترکہ حکومت بنے گی ۔اگر کالعدم مذہبی جماعتوں کے سابقہ لوگ الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئے تو ان کی حیثیت ایسی اسمبلی میں بہت اہمیت اختیار کرجائے گی ۔ابھی تک سیاسی جماعتیں ان کے بارے میں کھل کر بات نہیں کررہی ہیں ۔الیکشن کمیشن کا ان کے ساتھ نرم رویہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے ۔عدم برداشت کی سیاست نے پاکستان کیلئے اندرونی سطح پر بڑے مسائل جنم دیئے ہیں ۔قومی سلامتی اور استحکام کا تقاضا ہے کہ داغ دار ماضی کے حامل افراد کو کسی بھی سطح پر سیاسی کردار ادا کرنے سے روکا جائے ۔اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والی افواج پاکستان اور پوری قوم کی قربانیاں رائیگاں جائیں گی ۔دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملانے کیلئے ضروری ہے کہ بہتر لوگ حکومت میں آئیں ۔

تجزیہ: مبشرمیر

مزید :

تجزیہ -