پرویز خٹک کا بے ہودہ بیانیہ

پرویز خٹک کا بے ہودہ بیانیہ
پرویز خٹک کا بے ہودہ بیانیہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سیاسی میدان میں مخالفین پر تنقید کرنا ،انکے لتے لینا عام سی بات ہے اور دو طرفہ طور پر یہ معاملات چلتے رہتے ہیں ؟مسائل اس وقت جنم لیتے ہیں جب کوئی بھی چیز حدود پار کر لیتی ہے ۔جب آپ اعتدال اور اخلاق کا دامن چھوڑ دیتے ہیں تو پھر خود بھی تہی دامنی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔تاجدارِ کائنات ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جب تم میں سے کس کے پاس حیا نہ رہے تو پھر وہ جو چاہے کرتا پھرے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے مرکزِی رہمنا اور سابقہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا ایک بیان گردش کر رہا ہے جس میں وہ پیپلزپارٹی کا جھنڈا لگانے والے کارکنان کو گالی سے تشبیہ دے رہے ہیں جسکو بیان کرنے سے قلم قاصر ہے۔

واضح رہے یہی وہی پیپلزپارٹی ہے جس سے پرویز خٹک صاحب خود بھی وابستہ رہے ہیں ممبر رہے ہیں۔

حسب معمول عمران خان کا نہ ہی کوئی مذمتی بیان سامنے آیا نہ ہی کسی قسم کے ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ اپنی جماعت کے سینئیر رہنماؤں کی طر ف سے نامناسب بیانات یا رد عمل پر خان صاحب عموماً خاموشی اختیار کر لیتے ہیں شاید وہ ہیوی ویٹ لیڈرز سے اختلاف کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ماضی قریب میں نعیم الحق نے دانیال عزیز کو لائیو پروگرام میں تھیڑ دے مارا تھا دیگر رہنماؤں کے بھی مخالفین کے حوالے سے متنازع بیانات اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

وہ الگ بات ہے جب سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر نعیم الحق کا عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈا پور سے ٹاکرا ہوگیا تھا تو نعیم الحق بالکل خاموش نظر آئے تھے۔ کمزور کو دبالو طاقتور کے آگے جھک جاؤ واقعی بہترین فارمولا ہے۔

عمران خان کی بھرپور ذمّہ داری بنتی ہے اپنے رہنماؤں کی اخلاقی تربیت کا انتظام کریں ،اگر آپ عوام کی اکثریت ساتھ رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو عوام کے اعتماد پر اترنا بھی آپکی ذمہ داری ہے آپکی جماعت میں خواتین کی ایک بڑی تعداد ہے انکا ہی خیال کر لیا جائے ۔جب پرویز خٹک جیسے رہنما اس قسم کے بیانات دیتے ہیں تو نجانے کس " سُر " میں ہوتے ہیں کیونکہ ہوش و حواس میں کوئی معقول شخص اس طرح کے بیانات کس طرح دے سکتا ہے ؟شاید انہیں یاد آجائے کہ جس پیپلزپارٹی کو وہ گالیاں دے رہے ہیں کبھی خود بھی اسکے جھنڈے تلے گھومتے تھے۔

ملین ڈالر کا سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ عمران خان جو کہ اپنی ازدواجی زندگی کے حوالے سے اسی طرح نامعقول تنقید کی زد میں رہے ہیں تازہ ترین کتاب "ریحام خان" بھی اسی طرح کے واقعات پر مشتمل ہے۔سیاست میں تنقید بھی ہوتی ہے مخالفت بھی ہوتی ہے مگر جب ان باتوں کو اخلاقی کردار کشی کے لئیے استعمال کئیے غلیظ زبان استعمال کی جائے اس سے یہ تو ہو سکتا ہے کہ نا معقول لوگ آپ کی واہ واہ کریں مگر حقیقتاً آپ اسی وقت با اخلاق لوگوں کی صف سے باہر ہوجاتے ہیں اور جیتنے کے باوجود بھی شکست خوردہ نظر آتے ہیں ۔

لیڈرز مثال بنتے ہیں لوگوں کے آئیڈیل بنتے ہیں مگر اسکے لئیے لوگوں کے دل میں اترنا پڑتا ہے۔ لیڈر کا چہرہ اسکی زبان ہوتی ہے۔ خوبصورت جملوں کا انتخاب اسے ہر دل عزیز بنا دیتا ہے۔بصورتِ دیگر کسی کو دل سے اتارنا دل میں بسانے سے بہت زیادہ آسان ہے۔ انتخاب آپ کا اپنا ہے۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ