طلبہ دو سالہ گریجوایشن ڈگری کی جگہ ایسوسی ایٹ ڈگری میں داخلہ لے سکتے ہیں،راجہ یاسر

طلبہ دو سالہ گریجوایشن ڈگری کی جگہ ایسوسی ایٹ ڈگری میں داخلہ لے سکتے ...

لاہور(لیڈی رپورٹر).وزیر ہائر ایجوکیشن پنجاب راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے کہا ہے کہ طلبہ دو سالہ گریجوایشن ڈگری کی جگہ ایسوسی ایٹ ڈگری میں داخلہ لے سکیں گے۔ایسوسی ایٹ ڈگری میں جاب مارکیٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے مضامین پڑھائے جائیں گے۔ طلبہ کم و بیش 30 مضامین میں ڈگریاں حاصل کر سکیں گے۔ گزشتہ روز ڈی جی پی آر آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ جس وقت ہمیں حکومت ملی سارا تعلیمی نظام ایڈہاک ازم پہ چل رہا تھا۔ ہم نے 300 کالجز کے مستقل پرنسپلز، تمام جامعات کے وائس چانسلرز، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور تعلیمی بورڈز کے چیئر مین میرٹ پر لگائے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان شفافیت اور میرٹ کے علمبردار ہیں۔

انتہائی معتبر اساتذہ پر مشتمل سرچ کمیٹی نے تمام اہم عہدوں پر شفاف عمل کے تحت تعیناتیاں کی ہیں۔ کالج اساتذہ کے تبادلوں کے حوالے سے صوبائی وزیر نے کہا کہ ٹرانسفر سسٹم کو آن لائن کر رہے ہیں اب اساتذہ کو دفتروں کے چکر نہیں لگانا پڑیں گے۔

وزیر ہائر ایجوکیشن نے کہا کہ تعلیم پر سیاست نہیں ہونی چاہئے اس لئے تعلیمی پالیسی پر اپوزیشن سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے، اپوزیشن کو بھی تعلیمی اصلاحاتی کمیٹی کا حصہ بنایا جائے گا۔ یونیورسٹیر کے بارے پوچھے گئے سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ تمام سرکاری جامعات کے لئے یکساں چارٹر ہو گا جبکہ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن یونیورسٹیز کے اقدامات کی مانیٹرنگ کرے گا۔ تعلیمی نظام میں اچانک تبدیلی سے طلبہ کے نقصان کا خدشہ ہے اس لئے انتہائی سوچ بچار کے جامع پالیسی مرتب کی ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں کا معیار بین الاقوامی اداروں کے برابر لانا ہے۔رواں سال انٹر کے رزلٹ کارڈ میں ایک کالم گریڈنگ کا بھی ہو گا۔ پاس ہونے والے طلبہ کے نمبروں کے تناسب سے گریڈ دیئے جائیں گے۔ جبکہ امتحانی پرچہ طالب علموں کی مضمون کے بارے میں سمجھ اور تخلیقی صلاحتیں چانچنے کے لئے ترتیب دیا جائے گا۔ موجودہ نظام میں وہ طلبہ زیادہ کامیاب ہو رہے ہیں جن کا رٹا اچھا ہے۔ انہوں نے کہا ہائر ایجوکیش میں بہتری کے لئے سکول سسٹم میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ وزیر سکول ایجوکیشن بھی بنیادی تبدیلیاں کر رہے ہیں جبکہ 12 ویں جماعت تک تعلیم کو سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے تحت کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...