لڈن‘ مویشی منڈی میں انٹری‘ پارکنگ فیس کے نام پر جگا ٹیکس وصول کرنیکا انکشاف 

لڈن‘ مویشی منڈی میں انٹری‘ پارکنگ فیس کے نام پر جگا ٹیکس وصول کرنیکا ...

وہاڑ(سٹی رپورٹر، نامہ نگار) مویشی منڈی کرپشن کا گڑھ بن گئی محکمہ کیپٹل فارم کے اہل کاراور انکے ساتھی شہریوں اور بیوپاریوں کو ددنوں ہاتھوں سے لوٹنے لگے تفصیل کے مطابق لڈن شہرمیں لگنے والی جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی مویشی منڈی کرپشن کا گڑھ بن گئی محکمہ کے افسران کی ملی بھگت (بقیہ نمبر10صفحہ12پر)

سے منڈی میں آنے والے بیوپاریوں اور شہریوں سے منڈی میں انٹری اور پارکنگ فیس کے نام پر جگا ٹیکس لیا جانے لگا پارکنگ فیس کے نام پر اوور چارجنگ کی جانے لگی رکشہ پر لائے جانیوالے جانور والوں سے 200 روپے مزدامیں آنے والوں سے500روپے لیے جاتے ہیں جبکہ ان کورسید 300روپے والی دی جاتی ہے اور ٹرک پر آنیوالوں سے700روپے وصول کرنے لگے اس کے علاوہ منڈی میں حکومت کی طرف سے بیوپاریوں کو دی جانے والی سہولیات کا بھی فقدان ہے جانوروں اوربیوپاریوں کیلئے نہ تو چھاؤں کا بندوبست کیا جاتا ہے اور نہ ہی پینے کے پانی کا اور اپنی مد دآپ کے تحت جانوروں کیلئے چھاؤں کے انتظامات ٹینٹ لگانے پر بھی جگا ٹیکس وصول کیا جانے لگامحکمہ کیپٹل کی طرف سے تعینات ہونے والے اہل کار خرم شہزاد پیسے لیکر منڈی کے اندرپانی پینے کیلئے ریڑھی اور کھاناکھانے کیلئے ہوٹل بنائے گئے جو کہ حفظان صحت کے اصولوں کے بر خلاف ہے وہی پر جانورکھڑے ہیں اور وہی پر بیوپاری اور شہری کھانا کھانے پر مجبور ہیں اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے جانوروں خریداربلکل فری ہے لیکن اس منڈی میں بھتہ خور افرادپیسے وصول کر رہے ہیں منڈی میں جیب کترے اور نوسر باز سرعام پھر رہے ہیں جو ہر منڈی میں محنت کش بیوپاریوں سے لاکھوں روپے لیکر فرارہوجاتے ہیں جب میڈیا کی ٹیم نے محکمہ کیپٹل کے اہل کار خرم سے موقف لیا تو انہوں نے کہا کہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں لیکن وہاں پر موجود پیوپاریوں نے چیخ چیخ کر کہا کہ یہاں بھتہ خوری سرعام ہو تی ہے ہم نے خود پیسے دیئے ہیں جنکی رسیدیں بھی ہمارے پاس ہیں 

لڈن مویشی منڈی 

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...