ملک چلانے کیلئے پیسے نہیں، ٹیکسوں پر دباؤ میں نہیں آئیں گے: عمران خان 

  ملک چلانے کیلئے پیسے نہیں، ٹیکسوں پر دباؤ میں نہیں آئیں گے: عمران خان 

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،آئی این پی، آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میری بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں ہے،میر اجینا مرنا پاکستان میں ہے ہم ٹیکس اکٹھا کرنے کے معاملے پر دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ ہمارے پاس ملک چلانے کیلئے پیسہ نہیں ہے۔ ادارے چلانے کیلئے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم سرمایہ کاروں کیلئے ٹیکس معاملات میں آسانی پیدا کررہے ہیں،ہم پاکستان کو عظیم ملک بنائیں گے،، جب کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کے مفادات کچھ اور ہیں، جن پر کیسز ہیں ان سب کے رشتہ دار باہر بھاگے ہوئے ہیں،اگلے سال کے لیے پوری قوت سے 5500 ارب ریونیو اکٹھا کریں گے، ٹیکس نظام درست ہو تو قرضے بھی اتریں گے اور ترقیاتی کام بھی ہوں گے،ہماری کوشش ہوگی صنعت کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں کیوں کہ حکومت سمجھتی ہے کہ صنعتی ترقی ہی ملک کو آگے لے کر جاسکتی ہے، ایف بی آرمیں 700 ارب روپے کی چوری ہو رہی ہے اس لیے ہمارا پہلا کام ایف بی آر کو ٹھیک کرنا ہے۔ بدھ کو گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کی اسلام آباد میں تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن سے قبل لوگ ووٹ کی خاطر اسلام کو بیچتے ہیں‘ ہمیں نبی کریم حضرت محمدؐ کے اصولوں اور سنت پر چلنے کا حکم ہے یہ ہماری بہتری کیلئے ہیں نبی کریمؐ نے دنیا کی امامت کی مدینہ کی ریاست کے اصولوں میں عدل و انصاف اور رحم تھا۔ مدینہ کی ریاست میں بوڑھوں‘ غریبوں اور نادرا لوگوں کی ذمہ داری لی گئی وہاں انصاف تھا معاشرتی ترقی کیلئے ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل ضروری ہے۔ نبی کریم حضرت محمدؐ نے فرمایا کہ پرانی قومیں اس لئے تباہ ہوئیں وہاں کمزور اور طاقتور کیلئے الگ الگ قانون تھا۔ آج اربوں روپے کی چوری کرنے والے کو جیلوں میں اے سی دیئے جاتے ہین جبکہ چھوٹے مجرم کے ساتھ جیلوں میں برا سلوک ہوتا ہے طاقتور قوموں میں امیر و غریب کیلئے یکساں قانون ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ریاست مدینہ میں امیر شخص سے ٹیکس لیا جاتا تھا جو کہ کمزور افراد پر خرچ کیا جاتا تھا۔ عمران خان نے کہا کہ میری بیون ملک کوئی جائیدادیں نہیں ہیں میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے۔ جو لوگ منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں روپیہ باہر لے گئے ان کا اور عام لوگوں کا مفاد ایک نہیں ہے۔ ان کے مفادات کچھ اور ہیں پاکستان میں روپے کی قدر گرنے سے ایسے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ان لوگوں کے رشتہ دار ملک سے بھاگے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کو مشکل حالات سے نکالنے میں معیشت کا اہم کردار ہے جب ہمارا قرضہ چھ ہزار روپے سے تیس ہزار اڑب روپے ٹک گیا اس وجہ سے ہمارا پچھلے سال کا آدھا ٹیکس قرصوں کے سود کی ادائیگی مین چلا گیا ہمارے ملک میں ٹیکس کی جی ڈی پی کا تناسب دنیا میں سب سے کم ہے اس طرح ملک نہیں چل سکتا۔ پاکستان کا ستر فیصد ٹیکس 300 کمپینیاں دیتی ہیں جبکہ سروس سیکٹر بیس فیصد مین سے ایک فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے اس طرح پاکستان نہیں چل سکتا۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہم سے پیسے لے لیں لیکن ہمیں ٹیکس نیٹ میں نہ ڈالیں اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ایف بی آر پر اعتماد نہیں کرتے اور لوگ درست بھی ہیں کیونکہ ماضی میں ایف بی آر میں سات سو ارب روپے کی چوری ہوتی تھی اب یہ ہمارا کام ہے کہ ایف بی آر کو ٹھیک کریں اور اس سلسلے میں ہم نے تیاری کرلی ہے ہم ٹیکس اکٹھا کرنے کے معاملے میں دباؤ میں نہیں آئیں گے اگر میں نے ایسا کیا تو یہ قوم سے غداری کے مترادف ہوگا۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارے پاس ملک چلانے کیلئے پیسہ ہی نہیں ہے اور جب ٹیکس اکٹھا نہیں ہوگا تو ادارے چلانے اور بنانے کیلئے پیسہ بھی نہیں ائے گا۔ ہم نے تمام لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے ہم تیکس معاملات میں اصلاحات لائیں گے اور آسانیاں پیدا کریں گے۔ اس سلسلے میں ہیلپ لائن قائم کی جارہی ہے تاکہ لوگ مستفید ہوسکیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 22 کروڑ کی آبادی میں صرف پندرہ لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں اگر ہر کوئی تھوڑا تھوڑا بھی ٹیکس ادا کرے تو ہم قرضوں کی دلدل سے بھی نکل جائیں گے اور اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم بھی دے سکتے ہیں۔ ہم سرمایہ کاروں کیلئے آسانیاں پیدا کریں گے۔ میں خود اس معاملے کو دیکھ رہا ہوں۔ عمران خان نے کاہ کہ ہم پوری طرح اسمگلنگ پر قابو پائیں گے اس سلسلے میں میں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی دعوت دی ہے کہ آئیں اور ہمارے ساتھ بیٹھیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ‘ گجرات اور سیالکوٹ کو ملا کر ایک گولڈن ٹرائی اینگل بنا رہے ہیں۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم ہا ؤس میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ جس میں ملکی سکیورٹی اور سلامتی سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی۔

وزیراعظم 

مزید : صفحہ اول


loading...