عالمی عدالت انصاف میں بھارت کو شکست، کلبھوشن کو رہا کرنے کی درخواست مسترد، پاکستان قونصلر رسائی دے، سزا پر نظر ظانی کرے، عدالت، ویانا کنونشن جاسوسوں پر لاگو نہیں ہوتا، ایڈہاک جج جسٹس تصدیق جیلانی کا اختلافی نوٹ

  عالمی عدالت انصاف میں بھارت کو شکست، کلبھوشن کو رہا کرنے کی درخواست مسترد، ...

دی ہیگ(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان کو بڑی فتح مل گئی جبکہ بھارت کو منہ کی کھانی پڑی، عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بریت کی درخواست مسترد کر دی۔عالمی عدالت انصاف کے صدر جج عبدالقوی احمد یوسف نے دی ہیگ کے پیس پیلس میں کلبھوشن کیس کا فیصلہ سنایا۔ عالمی عدالت نے14صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں کہا کہ کلبھوشن بھاری شہری ہے اس کا حسین مبارک پٹیل اور فضل پٹیل کے نام سے جاری پاسپورٹس اصلی ہیں جو بھارتی حکومت نے جاری کئے ہیں۔ یادیو حسین مبارک پٹیل کے نام پر 17 بار بھارت سے باہر گیا اور بھارت آیا۔ کلبھوشن یادیو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہا تاہم ویانا کنونشن جاسوسی کرنے والے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا۔ پاکستان نے ویانا کنونشن میں طے شدہ قونصلر رسائی کے معاملات کا خیال نہیں رکھا۔ پاکستان کا موقف تھا کہ کلبھوشن جعلی پاسپورٹ اور نام سے پاکستان میں داخل ہوتا رہا۔ کلبھوشن یادیو کے کیس میں ویانا کنونشن کا اطلاق نہیں ہوتا۔ عدالت نے پاکستانی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کلبھوشن بھاری شہری ہے پاکستان کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے جبکہ بھارت پاکستان کو کلبھوشن یادیو کا اصلی پاسپورٹ فراہم کرے۔ عالمی عدالت انصاف میں بھارت کی جانب سے کلبھوشن یادیو کے کیس کے ملٹری ٹرائل اور بریت کی درخواست پر کہا کہ کلبھوشن کے خلاف مقدمہ اور اس کی سزا ویانا کنونشن کی خلاف ورزی نہیں پاکستان نے یادیو کی گرفتاری کے فوراً بعد بھارت کو آگاہ کیا۔ پاکستان میں یادیو کو سنا گیا اور اپیل کا حق بھی دیا گیا۔ کلبھوشن یادیو کی بریت کی درخواست مسترد کی جاتی ہیعالمی عدالت انصاف نے بریت کی بھارتی درخواست مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ کلبھوشن جادھو کو سنائی جانے والی سزا کو ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی تصور نہیں کیا جاسکتا۔جج نے کہا کہ پاکستان کی ہائیکورٹ جادھو کیس پر نظر ثانی کر سکتی ہے، ہمارے خیال میں پاکستان کی سپریم کورٹ بھی نظر ثانی کا حق رکھتی ہے۔ پاکستان نے ویانا کنونشن میں طے شدہ قونصلر رسائی کے معاملات کا خیال نہیں رکھا۔عالمی عدالت انصاف کے فیصلے میں کہا گیا کہ ویانا کنونشن جاسوسی کے الزام میں قید افراد کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا۔عالمی عدالت انصاف نے عالمی عدالت انصاف کے کیس کی سماعت کے حوالے سے دائرہ اختیار پر پاکستان کا اعتراض بھی مسترد کردیا۔پاکستان کے ایڈہاک جج جسٹس تصدق جیلانی نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھا۔اختلافی نوٹ میں تصدق جیلانی نے مؤقف اپنایا کہ ویانا کنونشن جاسوسوں پر لاگو نہیں ہوتا۔جسٹس تصدق جیلانی نے لکھا کہ ویانا کنونش لکھنے والوں نے جاسوسوں کو شامل کرنے سوچا بھی نہیں ہوگا، بھارتی درخواست قابلِ سماعت قرار نہیں دی جانی چاہیے تھی۔ بھارت مقدمے میں حقوق سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا مرتکب ہوا۔فیصلے کے حوالے سے پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ عدالت نے واضح کہا ہے کہ کیس پر نظر ثانی کی جائے۔انور منصور نے کہا کہ کلبھوشن کی رہائی نہ ہونا پاکستان کی فتح ہے، عالمی عدالت نے واضح طور پر کہا ہے کہ کلبھوشن رہا نہیں ہوگا۔پاکستانی وقت کے مطابق کیس کا فیصلہ شام 6 بجے سنایا جانا تھا جس میں معمولی تاخیر ہوئی، فیصلہ سننے کے لیے پاکستان کی ٹیم اٹارنی جنرل کی قیادت میں دی ہیگ پہنچی تھی جو عالمی عدالت انصاف میں موجود رہی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو پاکستان میں ہی رہے گا اس سے پاکستان کے قوانین کے مطابق ہی نمٹا جائے گا یہ پاکستان کی فتح ہے اپنے ٹویئٹ میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں ہی رہے گا یہ پاکستان کی فتح ہے، اس سے پاکستان کے قوانین کے مطابق ہی نمٹا جائے گا کلبھوشن یادیو کیس کے فیصلے پر دفترِ خارجہ کا ردِ عمل بھی آگیا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ فیصل جاوید خان نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو پاکستان کی حراست میں رہے گا۔ عالمی عدالت انصاف کے باہرترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلبھوشن کاکیس بھارت کی ریاستی دہشتگردی کاواضح ثبوت ہے، عالمی عدالتنے واضح کردیاکمانڈرکلبھوشن جادھو پاکستان کی حراست میں رہیگا۔انہوں نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو نے ان جرائم کااعتراف پاکستان کی عدالت میں سماعت کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کی جانب سے دہشتگردی کے واقعات میں کئی پاکستانی خواتین بیوہ اوربچے یتیم ہوئے تھے اور کلبھوشن کی جانب سے دہشتگردی کے واقعات میں کئی پاکستانی جاں بحق ہوئے۔فیصل جاوید نے بتایا کہ کلبھوشن جادھو کے پاس سے جعلی نام حسین مبارک پٹیل کابھارتی پاسپورٹ ملا اور کلبھوشن کی رہائی نہ ہونا پاکستان کی فتح ہے۔واضح رہے کہ عالمی عدالت کے فیصلے نے پاکستانی ملٹری عدالتوں پر اعتماد کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ عالمی عدالت نے پاکستانی ملٹری عدالتکے فیصلے کو نہ تو کالعدم قراردیا نہ غلط ثابت کیا بلکہ اسے مانتے ہوئے پاکستانی سے نظرِ ثانی کرنے کو کہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف نے ایک شاندار فیصلہ دیا ہے جس میں پاکستان کی واضح جیت ہوئی ہے۔ کلبھوشن یادیو کیس کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سب سے پہلے اللہ کا شکر ہے کہ اس نے پاکستان کو ایک ملک کے طور پر سرخرو کیا ہے، اس کامیابی پر پاکستانی قوم عدلیہ کا سسٹم، اٹارنی جنرل اور ان کے وکلا کی ٹیم اور دفتر خارجہ سمیت سب خراج تحسین کے مستحق ہیں۔انہوں نے بتایا کہ عالمی عدالت میں انڈیا نے 5 مطالبات کیے تھے جو مسترد کردیے گئے۔ انڈیا نے مطالبہ کیا کہ ملٹری کورٹ کی سزا کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جائے جسے مسترد کردیا گیا۔ انڈیا کے مطالبے ملٹری کورٹ کی سزا کو ختم کیا جائے کو بھی رد کردیا گیا۔ کلبھوشن کو رہا کیا جائے اور اس کو انڈیا بھیجا جائے پر بھی عالمی عدالت نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ انڈیا کے مطالبے اگر کلبھوشن کو رہا نہیں کیا جاتا تو ملٹری کورٹ کی سزا کو ختم کرکے سول کورٹ میں مقدمہ چلایا جائے پر عالمی عدالت نے اسے رہا نہیں کیا اور نہ ہی ملٹری کورٹ کے فیصلے کو ختم کیا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم نے عالمی عدالت میں کہا کہ کلبھوشن یادیو نیوی کمانڈر ہے، عدالت نے اسے تسلیم کیا۔ ہم نے کہا وہ دہشتگرد ہے، ہمارا یہ موقف بھی درست ثابت ہوا۔ عالمی عدالت میں ہمارے کلبھوشن کے پاسپورٹ کے حوالے سے موقف کو بھی تسلیم کیا گیا اور پاکستان کی ملٹری کورٹ کی جانب سے دی جانے والی سزا کو بھی قانون کے مطابق قرار دیا ہے۔ یہ بہت ہی شاندار فیصلہ ہے عالمی عدالت نے اس کیس کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ پاکستان کی عدلیہ اور پاکستان کی فتح ہے کیونکہ عالمی عدالت نے کلبھوشن کے کیس میں کہا ہے کہ پاکستان اس کو جس طریقے سے بھی چاہتا ہے اس کو دیکھے۔ جب بھی کسی ملزم کو عدالت موت کی سزا دیتی ہے تو اس پر نظر ثانی اسی سسٹم کے اندر ہوتا رہتا ہے۔کیا پاکستان کو ایسا ہی فیصلہ آنے کی امید تھی؟ اس سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب عدالت میں کیس گیا ہوتا ہے تو دونوں پارٹیوں نے سوچا ہوتا ہے کہ کیا کیا ہوسکتا ہے۔ فریقین بہتر سے بہترین اور برے سے برے پہلوں پر غور کر رہے ہوتے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان پراعتماد تھا کہ ہمارے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، اسی لیے ہمیں امید تھی کہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔پاکستان کے ایڈہاک جج تصدق حسین جیلانی کے اختلافی نوٹ پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہوں نے تکنیکی بنیادوں پر یہ نوٹ لکھا ہے اور انہوں نے آئی سی جے کے دائرہ کار پر اپنا موقف دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کی جیت ہوئی ہے، پاکستان بہت ہی تھوڑے عرصے میں عالمی عدالت گیا، ہم وہاں گئے اور عالمی قوانین کی پابندی کی جس کا ہمیں فائدہ ہوا کیونکہ اگر ہم وہاں نہ جاتے تو یہ کیس آج بھی متنازعہ ہوتا۔ واضح رہے کہ عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو رہا کرنے کی بھارتی اپیل بھی مسترد کر دیا اور سزائے کو بھی ختم نہیں کیا بلکہ سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کے لیے پاکستان کو نظرِ ثانی کرنے کا کہا ہے ہے۔۔عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن جادھو سے متعلق کیس کا فیصلہ 21 فروری کو محفوظ کیا تھا۔پاکستان نے جواب الجواب عالمی عدالت انصاف میں جمع کرادیاواضح رہے کہ کلبھوشن جادھو کو 3 مارچ 2016 کو بلوچستان کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، اس پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین الزامات ہیں اور بھارتی جاسوس نے تمام الزامات کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف بھی کیا ہے۔10 اپریل 2017 کو کلبھوشن جادھو کو جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی گی تھی۔لیکن بھارت کی جانب سے عالمی عدالت میں معاملہ لے جانے کے سبب کلبھوشن کی سزا پر عمل درا?مد روک دیا گیا ہے۔پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 25 دسمبر 2017 کو کلبھوشن جادھو کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کرائی جب کہ اس ملاقات میں کلبھوشن نے والدہ اور اہلیہ کے سامنے جاسوسی کا اعتراف کیا،

کلبھوشن کیس

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن) بھارت نے جاسوس کلبھوشن کے بارے میں عالمی عدالت کے فیصلے کواپنی جیت قرار دیدیا۔بھارت کی وزیر خارجہ سشما سواراج نے عالمی عدالت انصاف کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کے بعد ٹوئٹر پر اپنے رد عمل میں اس کی تائید کی اور کہا کہ وہ اس فیصلہ کو خوش آمدید کرتی ہیں اور یہ انڈیا کے لیے ایک زبردست جیت ہے۔ چار ٹویٹس پر مشتمل پیغام میں انھوں نے وزیر اعظم مودی کی جانب سے کلھبوشن جادھو کا کیس عالمی عدالت انصاف لے جانے کے قدم کی تعریف کی اور انڈین موقف پیش کرنے والے وکیل ہرش سالوے کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے اپنے آخری پیغام میں کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ اس فیصلے سے کلبھوشن جادھو کے گھر والوں کو تسلی ملے۔عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ بھارت کیخلاف آنے پر بھارتی شہریوں کو”مرچی”لگ گئی،کل بھوشن کیخلاف فیصلہ آنے پر عالمی عدالت کے سامنے احتجاج اور عدالتی فیصلے پر شدید نعرے بازی کی گئی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی عدالت کی جانب سے کل بھوشن پر بھارتی جاسوس ہونے کی مہرثبت کرنے بھارتی شہریوں نے ہیگ میں عالمی عدالت کے سامنے فیصلے کیخلاف شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔

مزید : صفحہ اول


loading...