کرپشن الزامات میں 2انوسٹی گیشنز، 8انکوائریاں منظور، 8عدم ثبوت پر بند

  کرپشن الزامات میں 2انوسٹی گیشنز، 8انکوائریاں منظور، 8عدم ثبوت پر بند

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں) قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں 2 انوسٹی گیشنز کی منظوری دی گئی، جن میں آفیسرز، آفیشلز آف ریونیو، منظور قادر، سابق ڈائر یکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر کیخلاف انوسٹی گیشن کی منظوری شامل ہیں جبکہ 8 انکوائریوں کی بھی منظوری دی گئی جن میں پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کراچی کے اہلکاران اور افسران، شہزاد ریاض، سکندر راپوتو، شجاع راپوتو حیدرآباد،جامشورو ٹاؤن ناظم تلوکہ سہیون ضلع دادو، غلام حیدر جمالی، سابق انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کراچی، منظور علی مگسی، لیاقت علی جتوئی، آفیسرز، آفیشلز آف پاکستان ریلوے اینڈ ریونیو دیپارٹمنٹ، کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اہلکاران و افسرا ن، محکمہ ریونیو حکومت سندھ نارتھ ناظم آباد کراچی سینٹرل اور دیگر کیخلاف انکوائر یو ں کی منظوری دی گئی۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹیو بورڈ نے ڈاکٹر انجم رحمن، پرنسپل شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج لیاری، جی ایم عمر فاروق بوریرو، محمد حبیب، ایڈیشنل سیکریٹری، ڈی ڈی او، محمد ہارون، صوبائی اسمبلی سندھ کیخلاف انکوائری چیف سیکریٹری کو مزید قانونی کاروائی کیلئے بھیجنے کی منظوری دی۔ نیب کی ایگزیکٹیو بورڈ نے کرا چی پورٹ ٹرسٹ کے اہلکاران وا فسران کیخلاف انکوائری وزارت پورٹ اینڈ شپنگ کو قانونی کاروائی کیلئے بھیجنے کی منظوری دی۔ نیب کے ایگزیکٹیو بورڈ نے لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ سندھ کے افسران و اہلکاران محمد قاسم اور دیگر، میسرز ضیاء الدین ہسپتال کی انتظامیہ، کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے پارکنگ اور اینٹی انکورچمنٹ کے شعبہ کے اہلکاران و افسران، ہاکی ایسوسی ایشن و یسٹ کی انتظامیہ اور دیگر، بشیر داؤد، مریم داؤد اور دیگر، امان اللہ میسرز العصر گروپ کراچی اور آفیسرز، آفیشلز آف سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ وکیشنل ٹریننگ اتھارٹی اور دیگر کیخلاف اب تک عدم شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق انکوائریاں بند کرنے کی منظوری دی۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا ا جلا س چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبا د میں منعقد ہوا،اجلاس میں ڈپٹی چیئر مین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اکاؤ نٹیبلٹی،ڈی جی آپریشن اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبا ل کا کہنا تھا نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں، تمام انکوائریاں اورانویسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جو حتمی نہیں۔ نیب قانو ن کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا موقف معلوم کر نے کے بعد مزید کاروائی کرنے یا نہ کر نے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ نیب  "احتساب سب کیلئے " کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔میگاکرپشن کے مقدما ت کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ بدعنوانی ایک ناسور ہے جو ملکی ترقی و خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔نیب بدعنوان عناصر،اشتہاری اور مفرو ر ملزمان کے مقدما ت کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لارہا ہے۔نیب افسران ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں "نیب کا ایمان -کرپشن فری پاکستان "ہے۔ 

نیب 

مزید : صفحہ اول


loading...