شرح سود میں اضافہ نئی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہے،شہباز اسلم

شرح سود میں اضافہ نئی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہے،شہباز اسلم

لاہور(نیو ز رپورٹر)تاجر رہنما و ممبر لاہور چیمبرز آف کامرس وانڈسٹری سابق وائس چیئرمین فرایا شہباز اسلم نے مہنگائی میں اضافہ اور معاشی صورتحال پر خدشات کے باعث مرکزی بینک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے مانیٹرنگ پالیسی میں شرح سود میں ایک فیصد اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرح سود میں اضافہ نئی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہے کیونکہ شرح سود میں اضافہ سے نئی انویسٹمنٹ متاثر ہوگی اور سرمایہ تجارتی سرگرمیوں کی بجائے محفوظ منافع کیلئے بینکوں میں رکھنے کو ترجیح دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فاؤنڈ ر چیئرمین عدنان بٹ،ارشد بیگ،تنویر احمد،حقیق احمد،شاہد بیگ اور دیگر صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ شہباز اسلم نے کہا کہ شرح سود میں مسلسل اضافہ کے باعث اس کی شرح5فیصدسے بڑھ کر13.25فیصد ہوگئی ہے۔شرح سود میں اضافہ سے بنکوں کے ڈیپازٹ میں تو اضافہ ہورہا ہے لیکن اس کے باعث صنعتی ترقی میں کمی واقع ہو گی کیونکہ شرح سود میں اضافہ سے صنعتی مقاصد کے لیے قرضوں میں خودبخود اضافہ ہوگیا ہے۔

جس سے صنعتکار پریشانی کا شکار ہیں اور ان کے قرضوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

صنعتی شعبہ کے قرضوں میں اضافہ سے صنعتی برادری متاثر ہوگی اضافہ واپس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بلند شرح سود اور عالمی معاشی حالات میں ابتری کے باعث پاکستانی درآمدات اور برآمدات بھی متاثر ہورہی ہیں اس لیے اسٹیٹ بنک شرح سود میں اضافہ کو فوری واپس لے کیونکہ خطہ میں پاکستان میں شرح سود سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود میں اضافہ سے عوام نئی سرمایہ کاری کی بجائے بنکوں میں رقم رکھنا زیادہ محفوظ سمجھ رہے ہیں اگر یہی رقم نئی صنعتوں کے قیام میں استعمال ہوگی تو اس سے ملکی صنعتی ترقی میں اضافہ ہوگااورملک میں روزگار کے نئے مواقع میسر آتے بے روزگاری میں کمی واقع ہوتی اورصنعتی ترقی کے باعث حکومت کے ریونیو میں بھی اضافہ ہوتا۔

مزید : کامرس


loading...