جیت کا تحفہ

جیت کا تحفہ
 جیت کا تحفہ

  



کرکٹ کے عالمی ادارے آئی سی سی نے اس کھیل کے عالمی ایونٹ میں ہونے والے فائنل میں انگلینڈ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ٹرافی کا حقدار قرار دیا۔14 جولائی کو کھیلے جانیوالے فائنل میں انگلینڈ نے کیویز کو عالمی ادارے کے ناقص اور بے ڈھنگ اصولوں کی بنیاد پر فاتح قرار دیا اور انگلینڈ نے پہلی مرتبہ ایونٹ کی ٹرافی کو چومنے کا مزہ چکھا۔انگلینڈ کی جیت کے بعد کرکٹ ماہرین،کالم نگاروں،کمنٹیٹرز حتیٰ کہ آئی سی سی ایلیٹ پینل میں شامل اور اپنے دور کے مایہ ناز سابقہ امپائر سائمن ٹفل نے بھی اس جیت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے آئی سی سی پر سخت الفاظ میں تنقید کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کو اوو ر تھرو کے ملنے والے چار اضافی رنز کے ساتھ ایک رنز دیا جانا تھا جبکہ دوسرا رنز دینا کیویز کے ساتھ سراسر نا انصافی اور زیادتی ہے۔

جبکہ ایک رن کاؤنٹ ہونے کی وجہ سے بین سٹوکس کو سٹرائیک ملنا بھی امپائر کی کارکردگی اور آئی سی سی پر سوالیہ نشان ہے۔ بریٹ لی نے فائنل کی فاتح ٹیم کے فیصلے کو خطرناک قرار دیا جبکہ یوراج سنگھ،میک گل،گوتم گھمبیر،سٹائرس اور ورلڈ کپ کھیلنے والے انڈین کھلاڑی روہت شرما سمیت ہر ایک نے آئی سی سی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس فیصلے کو من گھڑت قرار دیا۔ نیوزی لینڈ ٹیم کے کپتان کین ولیمسن نے امپائر کے اس فیصلے کو کڑوی گولی کے مترادف قرار دیا۔لیکن آئی سی سی کی جانب سے امپائر کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور آئی سی سی اس بات کو ماننے سے انکاری ہے کہ امپائر نے غلطی کی ہے۔

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے ڈائریکٹرایشلے جائلز نے ٹیم کی فتح کو امپائر کی غلطی سے آلودہ ہونے کے تاثر کو ہوا میں اڑا دیااور کہا کہ میچ میں اگر مگر کی صورتحال کئی مرتبہ پیدا ہوئی۔مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ٹرافی پر قبضہ کر لیا ہے اور اب اسے کوئی نہیں چھین سکتا۔ اب اگر دیکھا جائے تو ایشلے جائلز جو خود بھی انگلینڈ ٹیم میں بطور کھلاڑی اپنی صلاحیتیں دکھا چکے ہیں ان ان تمام رولز سے آگاہ رہنے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کی ضرورت ہے لیکن انہوں نے اپنی ٹیم کی فتح کا اچھے طریقے سے دفاع کیا ہے۔

آئی سی سی نے اس ایونٹ میں اپنا دوہرا میعار دکھا کر اس ایونٹ کو بھی داغدار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور شائقین کرکٹ اس ایونٹ میں ہونے والے میچز کو بطور جواء دیکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کیونکہ اکثر کا خیال ہے کہ جب سے اس کھیل میں لیگز نے اپنا حصہ ڈالا ہے اور پیسوں کی بندر بانٹ نے کھلاڑیوں سمیت تمام ممالک کے بورڈز کا دماغ خراب کیا ہے تب سے لیکر اس ایونٹ کے فائنل تک اور آگے بھی یہ کھیل پاک صاف نہیں ہو سکتا۔کیونکہ جواء ہو گا تو دیکھنے والوں کی دلچسپی زیادہ بڑھے گی اور جب دلچسپی بڑھے گی تو دیکھنے والے جواء ضرور لگائیں گے تا کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ اکٹھا کر کے کسی ایک ٹیم کو جتوا دیا جائے۔

لیکن یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا پھر ان کھلاڑیوں کی واپسی بھی یقینی ہونی چاہیے جو اپنے ابتدائی کیرئر میں ہی اس کی بھینٹ چڑھ کر اس کھیل سے الگ کر دیئے گئے اور ان پر پابندیاں لگنے کے بعد ان کی کرکٹ اور مستقبل مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔لیکن اس بات کا فیصلہ بھی آئی سی سی ہی کرتی ہے کہ کون سے کھلاڑی کو باہر کرنا ہے،کتنی دیر کے لیے کرنا ہے،کب کرنا ہے۔لہٰذا میری ان تمام کھلاڑیوں کوجو کبھی نا کبھی کسی وقت آئی سی سی کی جانب سے بین کیئے گئے ہیں وہ پریشان مت ہوں کیونکہ ان جیسے اور مزید کرکٹرز نے ابھی اس کی بھینٹ چڑھنا ہے اور ان کا مستقبل بھی سولی کی بھینٹ چڑھے گا۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جس کے بعد پی سی بی میں یہ عہدہ غیر معینہ مدت کے لیے خالی ہے اور قوی امید ہے کہ قرعہ عبدالقادر،عامر سہیل،معین خان کے نام نکل آئے کیونکہ محسن حسن خان بطور ہیڈ کوچ اپنی ذمہ داریاں سر انجام دینا چاہتے ہیں،جبکہ کوچ کے لیے پی سی بی کی جانب سے گرانٹ فلاور سے بھی بات چیت جاری ہے اور ہمارے سابقہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر بھی دوبارہ سے قومی ٹیم کی کوچنگ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کوچنگ کا قرعہ کس کے نام نکلتا ہے تو دو،چار دن میں یہ بھی واضح ہوجائے گا۔لیکن ایک بات جو سب سے اہم ہے کہ کم از کم ٹیم کی سلیکشن کے لیے اس کو لایا جائے جو پرچی کی بجائے پرفارمنس پر یقین رکھتا ہو،جو کسی کا کیرئیر تباہ کرنے کی بجائے بچانے کی فکر میں اپنے عہدے کے ساتھ مخلص ہو۔رہ گئی بات آئی سی سی کی تو نا تو ان لوگوں نے کبھی کسی کی مانی ہے اور نا مانیں گے کیونکہ یہ انڈیا کے اشاروں پر چلنے کے عادی ہیں،فیصلے بھی انڈیا میں ہوتے ہیں اور نتائج بھی انہی کے کہنے پر نکلتے ہیں۔آئی سی سی تو چال کا ایک مہرہ ہے کھیلنے والے اور ہیں۔

مزید : رائے /کالم