پارلیمانی کمیٹی کا الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی میں دیڈ لاک پر اظہار تشویش

پارلیمانی کمیٹی کا الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی میں دیڈ لاک پر اظہار تشویش

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی برائے الیکشن کمیشن نے قبائلی اضلاع سمیت سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ہونے والے ضمنی انتخابات کو شفاف بنانے کیلئے بھرپور اقدامات کرنے کی سفارش کی ہے کمیٹی نے الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعیناتی میں پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی کو اس سلسلے میں دوبارہ اجلاس طلب کرنے کی بھی سفارش کی ہے کمیٹی نے چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان میں عوامی مسائل کے حل کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو بھی طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن سسی پلیجو کی سربراہی میں گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، اجلاس میں سینیٹر فاروق ایچ نائیک،سینیٹر پرویز رشید،سینیٹر مصدق ملک،سینیٹر سکندر میندرو،سینیٹر گیان چند،انوار الحق کاکڑسینیٹر میر محمد یوسف بادینی اور سینیٹر عابدہ محمد عظیم کے علاوہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان،سیکرٹر ی الیکشن کمیشن اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کو بتایا ہے کہ قبائلی اضلاع میں ہونے والے انتخابات میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے رزلٹ ٹرانسمشن سسٹم استعمال نہیں کیا جائے گا،انتخابات کے پرامن انعقاد کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں امیدواروں کو انتخابی مہم آزادانہ طریقے سے چلا رہے ہیں اور کسی بھی شکایت کی صورت میں کمیشن فوری اقدامات کر رہا ہے،تمام پولنگ سٹیشنوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں،دور دراز پولنگ سٹیشنوں سے نتائج کی آمد میں تاخیر کی صورت میں قانون کے تحت رات کے 2بجے تک مکمل رزلٹ نشر کرنا ممکن نہیں ہوگا،پولنگ سٹیشنوں پر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کا مقصد انتخابات کو پرامن اور شفاف بنانا ہے،قبائلی اضلاع میں انتخابات کی مانیٹرنگ کیلئے میڈیا سمیت انتخابات کی مانیٹرنگ کرنے والی تنظیموں کے نمائندوں کو پریس کارڈ جاری کئے جا رہے ہیں۔  اجلاس کو قبائلی اضلاع میں 20 جولائی کو ہونے والے انتخابات پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی الیکشن شریف اللہ خان نے بتایاکہ قبائلی اضلاع کے 16حلقوں پر ہونے والے انتخابات میں مجموعی طور پر 28لاکھ مرد اور خواتین ووٹرز حصہ لیں گے انہوں نے بتایاکہ قبائلی اضلاع کیلئے مختص16جنرل نشستوں خواتین کی چار اور ایک اقلیتی نشست پر مجموعی طور پر 458امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جس میں 133امیدواران نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے جبکہ اس دوران 12ریٹائرڈ ہوگئے اور 313امیدوارو ں کے مابین مقابلہ ہوگا انہوں نے بتایا کہ انتخابات کیلئے تمام تر انتظامات مکمل ہیں اور بیلٹ پیپر کے علاوہ انتخابات میں استعمال ہونے والا دیگر تمام مواد ریٹرننگ افسران کے سپرد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایاکہ انتخابی مہم کے دوران الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیموں نے مجموعی طو ر پر 47بے ضابطگیوں کا نوٹس لیکر انہیں موقع پر حل کردیا تھا جبکہ الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کی جانب سے قبائلی اضلاع کیلئے انصاف روزگار سکیم سمیت جنوبی وزیر ستان میں ایم پی او کے خاتمے اور تبادلوں کے احکامات جاری کرنے سے بھی روک دیا تھا۔اس موقع پر کمیٹی کی چیئرپرسن سسی پلیجو نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کو قبائلی اضلاع میں ہونے والے انتخابات کے دوران آزادی اظہار پر پابندیوں کی شکایات ملی ہیں اور انہیں اس پر تشویش ہے انہوں نے کہاکہ انتخابات میں رزلٹ ٹرانسمشن سسٹم استعمال نہ ہونے سے انتخابی نتائج میں تاخیر ہوسکتی ہے جس سے شکوک و شبہات جنم لیں گے جس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ قبائلی اضلاع میں انتخابات کو مکمل طور پر آزادانہ اور شفاف بنانے کیلئے الیکشن کمیشن اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...