گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں کورونا کے کتنے مریض صحت یاب اورکتنے بد قسمت افراد جان کی بازی ہار گئے؟تفصیلات جانئے

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں کورونا کے کتنے مریض صحت یاب اورکتنے بد قسمت ...
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں کورونا کے کتنے مریض صحت یاب اورکتنے بد قسمت افراد جان کی بازی ہار گئے؟تفصیلات جانئے

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پہلی بار کورونا وائرس کے گزشتہ 24 گھنٹوں 14027 مریض صحتیاب ہوئے جبکہ 30 مزید مریض انتقال کرگئے اور 1170 نئے کیسز سامنے آئے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وبائی بیماری شروع ہونے کے بعد سے پہلی بار 14027 مریض گزشتہ 24 گھنٹوں میں صحتیاب ہوئے ہیں،اب تک صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 88103 ہوگئی ہے جوکہ 79فیصدشرح بنتی ہے،یہ حوصلہ افزا بات ہےلیکن ہم اس پرمزید قابو پانے کیلئےجدوجہد جاری رکھیں گے،وائرس کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے مزید 30 مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 1952 اموات کے بعد شرح 1.7 فیصد رہی۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اس وقت 21183 مریض زیر علاج ہیں ان میں سے 20355 گھروں میں، 73 قرنطینہ مراکز میں اور 755 مختلف اسپتالوں میں ہیں جبکہ488 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے جبکہ 69 مریضوں کو وینٹی لیٹرز پرمنتقل کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 10299 ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 1170 کیسوں کا پتہ چلا ہے جو 11 فیصد ہیں۔ انہوں نے کہا تشخیصی شرح میں کافی حد تک کمی آئی ہے لیکن اس پر مزید قابو پایا جانا چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 625501 ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں جس میں سندھ بھر میں 111238 کیسز کا پتہ چلا ہے جو مجموعی طور پر تشخیصی شرح کا 18 فیصد ہیں۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ 1170 نئے کیسوں میں سے 477 کیسز کراچی سے پائے گئے ہیں ان میں سے ضلع شرقی 153، ضلع جنوبی 117، ضلع وسطی 172، ضلع ملیر 59، ضلع کورنگی 48 اور ضلع غربی 28 میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد میں 96، خیرپور 46، تھرپارکر اور سانگھڑ میں 44-44، شہید بینظیر آباد 42، سکھر اور کورنگی 38-38، میرپورخاص 30، ٹھٹھہ 29، نوشہروفیروز 26، ٹنڈو محمد خان 24، جامشورو 18، لاڑکانہ 17، دادو اور جیکب آباد 16-16، شکار پور اور قمبر 15-15، ٹنڈو الہیار 11، بدین 9،عمرکوٹ اور کشمور 5-5 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کورونا وائرس کے انفیکشن کی شرح کم ہونا شروع ہوگئی ہے لیکن یہ خیال درست نہیں کہ وبا ختم ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا ہم سب کو ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا اور ماسک پہننا، ہاتھ دھونے اور سماجی دوری اپنانے کو روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنانا چاہئے۔

مزید :

کورونا وائرس -