ایوانِ صدر میں: علما کا ایک اور اجلاس

ایوانِ صدر میں: علما کا ایک اور اجلاس

  

ایوانِ صدر (اسلام آباد) میں صدرِ پاکستان جناب ڈاکٹر عارف علوی کے زیر صدارت ممتاز شیعہ علما کے ساتھ ایک ”فکری نشست“ کا انعقاد کیا گیا،اس میں محرم الحرام کے دوران مجالس اور جلوسوں میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر غور ہوا۔بتایا گیا ہے کہ شرکا کے درمیان20نکاتی ایس او پیز پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ، وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری، اور گورنر پنجاب چودھری محمد سرور بھی شریک تھے،جبکہ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت، بلتستان کے ممتاز شیعہ علما کی ایک بڑی تعداد بھی ویڈیو لنک کے ذریعے موجود تھی۔ اجلاس سے خطاب فرماتے ہوئے جناب صدرِ پاکستان نے ارشاد فرمایا کہ ماہِ رمضان اور عیدالفطر کے موقع پر تمام مکاتب فکر کے علما کرام سے مشاورت کے بعد جو حکمت ِ عملی وضع کی گئی تھی،اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے اور علمائے کرام نے وبا کی روک تھام کے لیے مطلوب اقدامات کے حوالے سے مکمل تعاون کیا۔جناب صدر نے توقع ظاہر کی اس بار (عیدالاضحی اور محرم الحرام کے مواقع پر) بھی علما مثالی تعاون کا مظاہرہ کریں گے۔

یاد رہے کہ چند روز پہلے صدرِ پاکستان کی دعوت پر عیدالاضحی پر قربانی اور نمازِ عید کی ادائیگی کے حوالے سے علما کرام کا (ویڈیو لنک ہی کے ذریعے) ایک بڑا اجلاس منعقد ہو چکا ہے، اور اس میں کئی اقدامات پر اتفاق بھی کیا جا چکا ہے۔ عیدالاضحی کے بعد چونکہ محرم الحرام کا مہینہ بھی آنا ہے، اور اس حوالے سے مجلسوں اور جلوسوں سے سابقہ بھی پیش آتا ہے،اس لیے ممتاز شیعہ علما سے مشاورت کا اہتمام ضروری سمجھا گیا۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی پیشے کے اعتبار سے تو دندان ساز ہیں، لیکن اپوزیشن کی سیاست کا وسیع تجربہ رکھنے کی وجہ سے دانت گننے اور کھٹے کرنے کے فن سے بخوبی آشنا ہیں۔ ایک وسیع المطالعہ اور پابند صوم و صلوٰۃ شخص کے طور پر انہیں قومی حلقوں میں وسیع پذیرائی حاصل ہے۔ان سے اختلاف کرنے والے بھی ان کا احترام کرتے، اور ان کی سنجیدگی و متانت کا اعتراف کرتے ہیں۔کورونا وائرس کے حملے کے پیش ِ نظر، سب سے پہلے ان ہی نے حرمین شریفین اور مصر کی جامعہ الازہر کے علما سے رابطہ قائم کر کے فتویٰ حاصل کر لیا تھا کہ وبا کے پیش ِ نظر مسجدوں میں باجماعت نماز کی ادائیگی ترک یا محدود کی جا سکتی ہے۔حکومت کو اس حوالے سے اقدام کرنے کا شرعی حق حاصل ہے۔ چند افراد باجماعت نماز کی ادائیگی کے ذریعے عبادت گاہوں کو آباد رکھ سکتے اور عامتہ المسلمین گھروں میں نماز ادا کر کے اس فریضہ سے سبکدوش ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں مفتیانِ کرام اور علمائے کرام کی اچھی خاصی تعداد کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کی تباہ کاری کا ادراک نہیں ہو پا رہا تھا،انہوں نے ایچ پچ سے کام بھی لیا، لیکن ڈاکٹر صاحب کی مساعی کسی نہ کسی حد تک کامیاب رہیں۔رمضان المبارک اور عیدالفطر کی سرگرمیوں کے بعد کورونا کا حملہ شدید ہوا، لیکن پھر بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر صدرِ پاکستان سرگرم نہ ہوتے تو حملہ کہیں زیادہ شدید ہو سکتا تھا۔اب الحمد للہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کم ہو رہی ہے، اور پورے معاشرے میں اِس حوالے سے اطمینان کا سانس لیا جا رہا ہے،لیکن عیدالاضحی اور محرم الحرام کے اجتماعات نے لوگوں کو خوفزدہ کر رکھا ہے۔اگر اِس دوران سماجی فاصلے کا اہتمام نہ کیا گیا، ماسک نہ پہنے گئے، اور اجتماعات میں کندھے سے کندھا ملانے کی کوششیں جاری رکھی گئیں تو پھر کورونا وائرس ایک نئے جوش و خروش سے حملہ آور ہو سکتا ہے،اور اسے محدود سے محدود کرنے کی کوششوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔اب ہر شخص اس بات کو اچھی طرح جان چکا ہے کہ یہ وائرس انسانوں سے انسانوں کو منتقل ہوتاہے، اور اس کو محدود کرنے کا واحد ذریعہ انسانوں کے درمیان فاصلہ برقرار رکھنا، اور ایک دوسرے کی سانسوں سے محفوظ رہنے کے لئے ماسک پہنے رکھنا ہے۔معمولاتِ زندگی کی بحالی اس وائرس کے محدود ہونے کے ساتھ مشروط ہے۔ صدرِ پاکستان کے سامنے علما کرام نے جن قواعد و ضوابط کی پابندی کرنے اور کرانے کا جو عہد کیا ہے، دُعا کی جانی چاہیے کہ اس پر عمل بھی ہو۔جذباتی اور غیر ذمہ دار افراد ان کی دھجیاں اڑانے کی جسارت نہ کر سکیں۔علمائے کرام کو یاد رکھنا چاہیے کہ انسانی زندگی کی حفاظت سب سے بڑا فریضہ ہے۔اگر اس کی ادائیگی میں کوتاہی ہو گی تو روزِ حشر شدید خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ اہل ِ پاکستان کو محفوظ رکھے، اور ہر ذمہ دار کو کورونا وائرس کو قومی زندگی سے بے دخل کرنے کے لیے کئے جانے والے اقدامات کی اہمیت کا مسلسل احساس رہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -