”ناصر زیدی- اک درویش دلربا“

”ناصر زیدی- اک درویش دلربا“
”ناصر زیدی- اک درویش دلربا“

  

اوائل 2017ء کا ذکر ہے ایک دوست کے ہمراہ، فیروز سنز، مال روڈ پر کسی کتاب کی تلاش میں تھے۔ گھومتے پھرتے ”ماہنامہ ادبِ لطیف“ پر نظر پڑ گئی (جو عرصہ بعد دکھائی دیا تھا) ہاتھ بڑھا کر اٹھا لیا۔ سرسری چند صفحات الٹ پلٹ کئے مگر ”اداریہ“ پر نظر ٹھہر گئی”مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زبان میں“ پڑھنا شروع کیا تو اس نے جکڑ لیا۔ کسی آدمی کا یوں بے طرح کچھ کہنا بہت اچھا لگا۔ چنانچہ واپسی پر ادبِ لطیف ہمارے ساتھ تھا۔

ویسے لکھنے پڑھنے کا شوق تو اوائل عمری ہی میں تھا، جسے ہم بوجوہ ٹالتے رہے (وہ جو کہا جاتا ہے تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روز گار کے) مگر پڑھنے کے شوق سے کبھی دست کش نہ ہو سکے۔ آغاز لڑکپن ہی سے نجانے کیا کچھ نہ پڑھ ڈالا، مگر تشنگی تھی کہ ہمہ وقت طاری رہا کرتی۔ اُردو ادب میں نسیم حجازی، قراۃ العین حیدر، رضیہ بٹ سمیت معروف و مقبول افسانہ نگار، منٹو، کرشن چندر اور بدیسی میکسم گورکی، ٹالسٹائی تک رسائل میں ادبِ لطیف سے لے کر مختلف ڈائجسٹوں تک، جو کچھ ہاتھ لگا، کھنگالتے چلے گئے۔ ان وقتوں میں ہر ناول، ہر پرچہ اپنی اپنی ترنگ میں ہوا کرتا تھا کیونکہ آج کل جیسا تیز رفتار سوشل میڈیا تو کیا، ریڈیو، ٹی وی بھی زیادہ عام نہ تھا۔ دیگر رسائل و اخبارات کے ساتھ ساتھ ”ادبِ لطیف“ سے بھی تسکین ذوق کر لیا کرتے تھے۔ اور اب اس دورِ پر آشوب میں جب یہ ہاتھ لگا تو ایڈیٹر صاحب سے ملنے کا بھی اشتیاق ہوا، کیونکہ مدیر محترم نے جو ایڈریس پرچے پر درج کر رکھا تھا، وہ ہماری رہائش گاہ سے محض چند منٹ کی مسافت تھی۔ چنانچہ ہمت کر کے ان کا فون ملایا۔ وہ نہایت نستعلیق اردو میں مخاطب تھے، ہم نے ملاقات کی درخواست کی جو قبول کر لی گئی۔ یہ ہمارے گمان سے باہر تھا کہ قدرت ہمیں کس نابغہئ روز گار شخصیت سے ملاقات کا شرف عطا کرنے والی تھی۔

اگلے ہی روز، وقتِ مقررہ، ہم ان کے دولت کدہ پہنچ گئے، جو دفتر ادبِ لطیف بھی تھا اور ان کی قیام گاہ بھی۔ وہ باہر تشریف لائے کیا رنگ و ناز پر تجسس آنکھیں، قدرے لمبی سنہری مائل زلفیں، کھلتا خوشنما چہرہ، فربہ اندام مگر گزرے ہوئے 72 سال کا اک دلبر سا عکس لئے۔ وہ بزرگِ رعنا ہمارے سامنے موجود تھے۔ ایک لحظے کے لئے ہم کچھ کھو سے گئے۔ ہم نے سلام عرض کیا۔ اُنہوں نے سرتا پا ہمارا ایک تنقیدی جائزہ لیا اور اندر آنے کی اجازت دے دی۔ اندرون خانہ کیا تھا؟ چہار جانب ہزاروں کتب، کچھ شیشہ بند الماریوں کی زینت، کچھ ڈرائنگ روم کی شیلفوں پر، اوپر تلے، ادھوری خواہشات کے مانند، ایک دوسرے میں مدغم، گویا گھر تھا یا کتابوں کا کوئی گمشدہ گلستان۔ ہم ایک صوفہ نما نشست پر بیٹھے، ان کا مسکراتا، فون پر کسی سے محو گفتار چہرہ دیکھتے رہے۔ علم و تحقیق کے موتی برساتا، حیران کن یاد داشت کی مالک وہ باکمال ہستی ”ناصر زیدی“ تھے۔ فون سے جان چھوٹی تو وہ ہماری جانب متوجہ ہوئے ”جی فرمایئے!“ ہم بھول چکے تھے جو کہنا چاہتے تھے مگر خود کو مجتمع کیا اور عرض کیا ”جناب! آپ کا“ ادبِ لطیف تو اب کبھی کبھار ہی سامنے آتا ہے۔ ایک عرصہ ہوا ہم یہی شوق پالتے رہے کہ کسی اچھے ادبی رسالہ میں اپنا بھی کوئی کام شائع ہو سکے۔ اب قدرے فرصت ملی ہے تو حاضر ہوئے ہیں کہ ہمیں بھی اپنے رسالہ میں تھوڑی سی جگہ عنایت کریں۔ انہوں نے ایک حیرت بھری نگاہ سے ہمیں دیکھا اور کہا ”آپ شکل و صورت سے تو کوئی پراپرٹی ڈیلر یا کسی ٹھیکیدار ٹائپ آدمی دکھتے ہیں۔“ آپ کا شعر و ادب سے اور وہ بھی ”ادبِ لطیف“جیسے رسالے میں شائع ہونے کا شغف کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا ہے۔

ان کے استہزایہ انداز سے ہمیں کوئی خاص پریشانی نہ ہوئی بلکہ ہم نے مسکراتے ہوئے انہیں مخاطب کیا ”دیکھیں حضور والا شاید کسی کے چہرے کے نقوش، اس کے اندرون کا عکس ہوتے ہوں گے، مگر یہاں معاملہ قدرے مختلف ہے۔ میں ادب لطیف ہی نہیں کئی دیگر رسالوں و اخبارات کا بھی عمدہ قاری ہوں۔ آپ کا شہرہ سن رکھا تھا۔“ آپ کے کالم ”بادِ شمال“ کا مطالعہ بھی کرتا رہتا ہوں جس میں آپ اشعار کی درستگی اور اردو زبان و ادب میں ہونے والی اغلاط کی نشاندہی کیا کرتے ہیں۔ یہ انوکھا کام ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ آپ جیسی ہستیاں نایاب ہوتی جا رہی ہیں اور آپ سے ملاقات ہی میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ ویسے مجھے بھی لکھنے کا، لکھنے والوں کو جاننے کا شوق تھا، جو یہاں کھینچ لایا ہے۔ آپ کے ”ادبِ لطیف“میں کچھ جگہ عنایت ہو جائے تو مزید لکھنے کی ”جسارت“ بھی کر سکتا ہوں۔ وہ کچھ حیران ہوئے اور فرمایا ”کچھ لکھا ہے تو لایئے، ابھی دیکھ لیتے ہیں۔

“ ہاتھ میں دبے لفافے میں، ہم نے ایک قلمی مسودہ پہلے ہی سے رکھا تھا، لفافہ کھولا اور چند صفحات ان کے آگے رکھ دیئے۔ انہوں نے اک اندازِ لاپرواہی سے وہ کاغذات اُٹھائے اور بغور مطالعہ شروع کر دیا۔ چند لمحوں بعد انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا ”سچ بتاؤ“ کس سے لکھا کر لائے ہو یا کہاں سے نقل کیا ہے؟ ہمیں اپنی تحریر پر کچھ ایسا ناز تو نہیں تھا مگر ایسی بے توقیری کی بھی توقع نہ تھی۔ ہم نے شکوہ کناں نگاہوں سے انہیں دیکھا اور عرص کیا ”بابا جی! آپ کوئی ”موضوع“ عطا فرمائیں اور ساتھ کاغذ قلم، اسی جگہ کو امتحان گاہ سمجھ لیتے ہیں۔“ وہ قدرے خفیف ہوئے مگر پھر ہمیں چائے وغیرہ کا پوچھا جس سے انکار کا کوئی محل نہ تھا۔ بہر حال یہ ان کے ساتھ ہماری پہلی ملاقات کا احوال تھا اور گھنٹہ بھر کی اس ملاقات کے بعد تو شاید کوئی دن ہوگا، جب ان کی صحبت سے محروم ہوئے۔ اسی دوران انہوں نے ہمارے کئی آرٹیکل ”ادبِ لطیف“میں شامل کئے اور انہی کی تحریک پر ہم نے کالم بھی لکھنا شروع کئے، جن کی اصلاح وہ کیا کرتے۔ مزے کی بات سنیں تین چار کالموں کی اشاعت کے بعد ایک دن بغیر کسی قطع و برید کے، ہمارا کالم پڑھ کر وہ بولے ”اب آپ“ ناقابلِ اصلاح ہو چکے ہیں آئندہ ہمیں دکھانے کی ضرورت نہیں۔

بعد ازاں ہمیں علم ہوا کہ وہ بغرضِ علاجِ دل شوکت خانم ہسپتال کچھ دن رہے پھر صحتیاب ہو کر اسی کے عقب میں موجود اس مکان میں منتقل ہوئے تھے۔ کسی دوست کے آنے پر کھلکھلاتے قہقہے بکھیرنا، فقرے چست کرنا، ان کا محبوب مشغلہ ہوا کرتا اکثر اپنے دفتر جاتے ہوئے، راستے میں انہیں ساتھ لے جانا، ہمارا معمول ہو گیا۔ وہ اپنے احباب کی محفل ہالیڈے ان ہوٹل (جو کہ آج کل Hospitality Inn) میں سجاتے، ہم انہیں وہاں ڈراپ کرتے، واپسی سہ پہر انہیں وہاں سے ہمراہ لینا اور گھر چھوڑنا ہمارا معمول تھا۔ اپنے رسالہ ”ادبِ لطیف“کا خاصا کام وہیں نپٹا لیتے۔ کمپوزر سے لے کر پرنٹنگ، بائینڈنگ والوں کو بھی وہیں بلاتے اور ہم عصر شعرأ و ادبا بھی اکثر وہیں ان کے ساتھ ملاقاتیں کرتے۔ اگرچہ صحت کے گونا گوں مسائل کا شکار تھے، مگر خوش ذوقی، خوش کلامی، خوش لباسی میں منفرد اسٹائل کے حامل تھے۔ غالباً بدھ کے روز ریڈیو پاکستان میں ان کا باقاعدہ پروگرام آن ایئر ہوا کرتاتھا۔ ہفتہ عشرہ میں ہمارے ہمراہ روز نامہ پاکستان کے دفتر کا چکر بھی لگاتے۔

محترم مجیب الرحمن شامی صاحب اور قدرت اللہ چودھری صاحب سے محبت و اُلفت کا دم بھرتے نہ تھکتے تھے۔ ایک خوبصورت واقعہ یاد آ گیا۔ ایک دن روزنامہ پاکستان کے دفتر سے واپسی پر کہنے لگے ”دیکھیں گلیانہ صاحب!“(وہ ہمیں نام کے بجائے قلمی نام گلیانہ صاحب کہا کرتے) یہ ہمارے قدرت اللہ چودھری صاحب بھی نہایت درویش صفت بندے ہیں ایک مرتبہ کسی نے ان سے لیا گیا قرض لوٹایا تو چودھری صاحب نے ہمیں (زیدی صاحب کو) مسرور لہجے میں کہا ”یار!“ آج میں افراطِ زر کا شکار ہو گیا ہوں چلو دوستوں کے ہمراہ کہیں چل کر نہایت اچھا لنچ انجوائے کرتے ہیں تاکہ اس بوجھ سے نجات حاصل ہو سکے۔ اسی طرح کے کئی قصے، اپنے دورِ اسپیچ رائٹر وزیر اعظم پاکستان کے تذکرے، محترم فیض صاحب کے ساتھ گزارے لمحات کی یادیں، نامور شعراء اور خاص طور پر احمد فراز سے قربت کی دلچسپ کہانیاں، ہمارے ساتھ شیئر کیا کرتے تھے، شہر کی معروف شخصیات جن میں جناب رانا نذر الرحمن (مرحوم) کی سرگزشت ”صبح کرنا شام کا“ کی ترتیب و تدوین و اشاعت کا کام بھی کر چکے تھے۔ وہ ان کے بڑے مداح تھے۔

دوستوں میں جناب نوابزادہ سجاد صاحب پروفیسر مدرس امجد شاکر صاحب، اکثر ان کے ہاں پائے جاتے۔ ہمارے ایک معروف ”انجینئر شاعر“ جناب صفدر رضا صاحب بھی ان کے قدر دانوں میں شمار تھے، وہ اپنے کلام کی اشاعت سے قبل ان سے اصلاح کے خواہش مند تھے جو ان کے یوں چلے جانے کے بعد ادھورا رہ گیا۔ درمیان میں ہمیں بھی ایک بڑی سرجری سے پالا پڑ گیا، جس بنا پر ہماری ملاقاتیں کچھ عرصہ موقوف رہیں۔ اسی دوران، نوابزادہ سجاد خاں صاحب سے معلوم پڑا کہ انہیں فالج کا اٹیک ہوا، جس پر ان کے بیٹے اُنہیں اسلام آباد اپنے ہاں لے گئے، جس کے چند روز بعد ان کے بچھڑنے کی منحوس خبر ملی۔ کئی نامور قلمکاروں نے ان کے لئے مضامین لکھے، جن میں محترم عطا الحق قاسمی صاحب، امجد اسلام امجد صاحب اور کراچی کے قلمکار بھی شامل ہیں۔ ہمیں قلق رہا کہ وقتِ آخر ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔ اپنی ذات میں ایک بھرپور انجمن، تنہائی کے باوجود ایک خوش اطوار شاعر و محقق جدا ہو گیا۔

ان کی بہت سی باتیں ایسی تھیں جن سے دانش کے موتی بکھرتے تھے مگر ان کی کہی گئی ایک بات جو ہمارے دل و دماغ پر نقش رہ گئی، کچھ یوں تھی کہ ایک روز، جب ہم نے ان کی تنہائی کو کرب آور قرار دے کر گزارش کی کہ اپنے بچوں میں جا کر شاید آپ خود کو زیادہ آسودہ محسوس کریں، لہٰذا وہاں چلے جائیں، جس پر انہوں نے کہا ”یاد رکھنا گلیانہ صاحب! “اگر آدمی کی جوانی کی لغزشیں، بڑی عمر میں جاکر آزمائشوں میں تبدیل ہو جائیں، اور آپ الحمد اللہ کہتے ہوئے ان سے گزرتے رہیں، تو سمجھ لیں آدمی دھل گیا اور دنیا سے جانے سے پہلے ہی اس کی روح پر سکون ہو گئی۔ خدائے بزرگ و برتر انہیں اپنے سایہ رحمت میں رکھے۔ (آمین)

اب سرد و گرم دھرکا کھٹکا نہیں رہا

ناصر کچھ ایسے میں نے زمین سرد اوڑھ لی

مزید :

رائے -کالم -