امریکہ اور چین کے درمیان سرد جنگ

امریکہ اور چین کے درمیان سرد جنگ
امریکہ اور چین کے درمیان سرد جنگ

  

کرونا وائرس نے دنیا کے ساتھ ساتھ جس طرح امریکہ جیسی سپر طا قت کو متا ثر کیا اور امریکی معیشت کی بنیا دوں کو ہلا کر رکھ دیا اس سے امریکی حکمران طبقہ بو کھلا ہٹ کا شکار نظر آرہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس سال نومبر میں امریکی صدراتی انتخابات کی مہم میں چین ایک سیاسی کارڈ بن چکا ہے۔ صدر ٹرمپ اور ڈیمو کر یٹ پا رٹی کے صدراتی امیدوار ”جو با ئیڈن“ دونوں اپنے آپ کو چین کا مخالف ثابت کرنے کیلئے پورا زور لگا رہے ہیں۔امریکی ووٹرز کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ امریکہ میں تو سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا مگر اب کرونا وائرس سمیت امریکہ کے اکثر مسائل کا ذمہ دار چین ہی ہے۔ ٹرمپ سمیت ان کی انتظامیہ کے اکثر عہدے دار کئی ماہ سے چین کے خلاف سخت بیایات دے رہے ہیں اب امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری ڈیوڈ سٹل ول کا ایک دلچسپ بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے چین کو ”سمندر(بحیرہ جنوبی چین) کی نئی ایسٹ انڈیا کمپنی“ قرار دے دیا ہے جبکہ اس سے چند روز قبل امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے بھی ”بحیرہ جنوبی چین“ پر چین کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔یوں ایسا دکھائی دے رہاہے کہ ”بحیرہ جنوبی چین“ کو لیکر ایک مرتبہ پھر امریکہ اور چین کے ما بین با قاعدہ سرد جنگ شروع ہو چکی ہے۔

اس مسئلہ کی شدت کا اندازہ چند سال پہلے امریکی تھنک ٹینک”رینڈ“کی اس رپورٹ سے لگا یا جا سکتا ہے کہ جس کے مطابق بحیرہ جنوبی چین کے مسئلہ پر امریکہ اور چین کے ما بین جنگ بھی ہو سکتی ہے۔ حالیہ عرصہ میں اس مسئلہ پر شدت اس وقت پیدا ہو ئی کہ جب 2015 میں نیدر لینڈ کے شہر ہیگ میں قائم عالمی عدالت نے بحیرہ جنوبی چین پر چین کے دعویٰ کو مسترد قرار دیتے ہوئے فلپائن کے موقف کو درست قرار دے دیا۔ تاہم چین نے عالمی عدالت کے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے واضح طور پر انکار کردیا۔ اس معاملے میں زیا دہ سنگینی اس وقت پیدا ہو ئی کہ جب2016 میں چین کے وزیر دفا ع چانگ وینکوان نے بغیر کسی لگی لپٹی کے اعلان کیا کہ بحیرہ جنوبی چین کے مسئلے پربراہ راست جنگ بھی ہو سکتی ہے۔

بحیرہ جنوبی چین کے پانیوں اور علاقوں پر تنازعہ کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔تاہم اس معاملہ میں شدت حالیہ عرصے میں ہی پیدا ہوئی۔ چین، فلپائن، تائیوان، ملائیشیا، ویت نام اور برونائی کے بحیرہ جنوبی چین کے حوالے سے اپنے اپنے موقف ہیں۔سمندری علاقوں کے ساتھ ساتھ Paracelsاور Spratlysنا م کے جزیروں پر بھی چین اور دوسرے ممالک کے اپنے اپنے دعویٰ ہیں۔یہ دونوں جزیرے غیر آباد ہیں تا ہم ان کے با رے میں د عوی ٰکیا جا تا ہے کہ کہ یہ دونوں جزیرے قدرتی وسائل سے ما لا مال ہیں۔اگرچہ قدرتی وسائل کے حوالے سے کسی بھی قسم کی کھوج یا تلاش نہیں کی گئی تاہم اطراف کے علاقوں کے قدرتی وسائل سے ما لامال ہو نے کے با عث قیاس یہی کیا جا تا ہے کہ Paracelsاور Spratlysکے جزیرے بھی قدرتی وسائل سے ما لا مال ہونگے۔

چین کا انتہائی جنوبی صوبہ ہینان کا کئی سو میل کا علاقہ ”بحیرہ جنوبی چین“ کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور چین کا دعوی ٰہے کہ Paracelsاور Spratlysصدیوں سے چین کا اٹوٹ حصہ رہے ہیں۔اس حوالے سے چین کا 1947کا نقشہ انتہا ئی اہمیت کا حامل ہے کہ جس میں یہ جزیرے چین کے حصے کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔تائیوان کا بھی عین یہی دعوی ٰہے۔ویت نا م کا دعویٰ ہے کہ چین نے 1940کی دہائی سے پہلے ان دونوں جزیروں پر کبھی اپنا دعویٰ نہیں کیا تھا۔دیت نا م کے مطابق Paracelsاور Spratlysکے جزائر 17ویں صدی سے اس کے ما تحت رہے ہیں اور اس حوالے سے اس کے پاس دستاویزات بھی ہیں۔فلپائن کا دعوی ٰہے کہ Spratlysکے جزیرے کی اس سے جغرافیائی قربت ہے اسلئے یہ اسی کا حصہ ہے۔ اسی طرح ملائیشیا اور برونا ئی کا دعوی ٰہے کہ بحیرہ جنوبی چین کے علاقے اس کے معاشی زونز سے متصل ہیں اسلئے اقوام متحدہ کے United Nations Convention on the Law of the Seaکے مطابق ان علاقوں پر انہی کا اختیا ر ہے۔

تاہم اس مسئلہ کا سب سے خطرنا ک پہلو یہ ہے کہ امریکہ ”بحیرہ جنوبی چین“کے معاملے پر تائیوان، ویت نام، فلپائن اور برونا ئی جیسے ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر اس علاقے میں اپنی با لادستی مضبوط بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تو آسٹریلیا کی جا نب سے بھی یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہ بحیرہ جنوبی چین میں امریکہ کی معاونت کرتے ہوئے چین کے خلاف جا سوسی بھی کرے گا۔

چین کیلئے یہ بات بہت زیا دہ با عث تشویش ہے کہ امریکہ اپنے بحری جہازوں کے ذریعے اس علاقے میں گشت کرتا رہتا ہے یوں چین کا دو سو میل طویل معاشی زون براہ راست امریکہ کے بحری جہا زوں کی زد میں رہتا ہے۔چین کا موقف رہا ہے کہ امریکہ، چین کی اجا زت کے بغیر چار سال پہلے اس کے سمندری پانی اور علاقوں میں اپنی فو جی مشقیں بھی کرتا رہاہے اوریوں امریکہ، چینی قوانین کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی کا مرتکب ہو تا رہاہے۔امریکہ کے اس رویے کے ردعمل میں چین بھی اپنے معا شی زون کی سخت فوجی نگرانی کرنے پر مجبور ہے۔یہاں پر ا س با ت کو بھی یا د رکھنا ضروری ہے کہ اپریل2001میں بحیرہ جنوبی چین کے پاس چینی صوبے ہینان میں امریکی طیارے EP-3اور چینی طیا رے F-8 fighterکے درمیان ایک فضائی حادثہ بھی ہوا تھا۔ اسی طر ح بحیرہ جنوبی چین کے پانی میں جون2009میں امریکی اور چینی آ بدوزوں کے مابین بھی حادثہ ہو چکا ہے۔ ان دونوں واقعات پر چین کا انتہائی سخت ردعمل بھی سامنے آیا تھا کہ امریکہ طیا رہ اور آبدوز چین کی حدود میں کیا کر رہے تھے؟

”بحیرہ جنوبی چین“ کی معا شی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگا یا جا سکتا ہے کہ ہر سال 5.3ٹریلین ڈالرز کی تجارت ”بحیرہ جنوبی چین“ کے راستے سے ہی ہو تی ہے جبکہ ان 5.3ٹریلن ڈالرز میں سے 1.2ٹریلن ڈالرز کی تجارت امریکی کمپنیوں کی جانب سے ہی کی جا تی ہے۔یہ امر ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امریکہ کی سامراجی پالیسیوں کی بدولت پہلے مشرق وسطیٰ کے خطے میں آگ لگی، خانہ جنگیاں ہوئیں، داعش جیسی تنظیمیں قائم ہوئیں اور اب امریکی سامراجی پالیسیوں سے مشرق بعید کے امن کو بھی خطرات لا حق ہو سکتے ہیں۔اسلئے اس خطے کے ممالک کو اس سارے تنا زعہ میں امریکہ کو با لکل با ہر رکھنا چاہیے اور پرامن طریقے سے مسئلہ کو حل کرنا چاہیے۔”بحیرہ جنوبی چین“ کے مسئلے کا پا کستان کے ساتھ کو ئی برا ہ راست تعلق تو نہیں ہے مگر امریکہ جس طرح بھارت اور خطے کے دوسرے چھوٹے بڑے ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنا چا ہ رہا ہے ایسے میں یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان امریکی گیم پلان کا حصہ بننے کیلئے قطعی طور پر تیار نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -