پنجاب میں تبدیلی کی افواہیں، کیوں؟

پنجاب میں تبدیلی کی افواہیں، کیوں؟
پنجاب میں تبدیلی کی افواہیں، کیوں؟

  

پنجاب میں تبدیلی کی افواہیں گردش کر رہی ہیں اور مجھے کپتان کے وہ الفاظ یاد آ رہے ہیں کہ جب تک تحریک انصاف کی حکومت ہے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ہی رہیں گے۔ کیا کپتان اپنی اس بات پر بھی یوٹرن لیں گے؟ یا صرف افواہوں کے ذریعے عثمان بزدار کو ہٹانے کی فضا پیدا کی جا رہی ہے۔ ویسے تو عثمان بزدار کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں، دو سال کے عرصے میں متعدد بار انہیں اسی طرح گھر بھیجنے کی افواہیں اُڑائی گئیں مگر وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلے بلکہ مزید کچھ مضبوط ہو گئے، کسی سیانے کی یہ بات مجھے اچھی لگی کہ اب جبکہ دو سال کی ٹریننگ کے بعد عثمان بزدار وزارت اعلیٰ کے داؤ پیچ سیکھ گئے ہیں تو انہیں ہٹانا بہت بڑی حماقت ہو گی۔ کسی نئے وزیر اعلیٰ کو لانا اور پھر اسے بھی دو سال کی تربیتی مدت سے گزارنا پنجاب کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ ابھی تک تو سبھی کو معلوم ہے عثمان بزدار وزیر اعظم عمران خان کی ضد ہیں انہوں نے اب تک کتنے ہی مواقع پر عثمان بزدار کا دفاع کیا ہے وہ انہیں وسیم اکرم پلس کہتے آئے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ عثمان بزدار اب تک کے تمام وزرائے اعلیٰ سے بہتر ثابت ہوں گے۔ لیکن جو بات پچھلے چند دنوں سے مجھے چبھ رہی ہے، وہ کپتان کی اس معاملے میں خاموشی ہے، ان کی طرف سے ایسا کوئی بیان نہیں آیا جو ان تمام افواہوں کا قلع قمع کر دے شہباز گل بھی ایک ٹی وی چینل پر عثمان بزدار کے بارے میں اس طرح کی دو ٹوک بات نہیں کر رہے تھے، جیسے وہ پہلے کیا کرتے تھے کہ عثمان بزدار کہیں نہیں جا رہے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ ابھی عثمان بزدار کو تبدیل کرنے کے لئے ملک کی دو بڑی شخصیات میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

ان ساری افواہوں کے باوجود وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی باڈی لینگوئج بتاتی ہے کہ انہیں ایسا کوئی خدشہ نہیں، انہوں نے بلوچستان کا دورہ کیا اور وزیر اعلیٰ جام کمال کو پنجاب کی طرف سے متعدد منصوبوں کی پیش کش کی، پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بلوچستان کے طالب علموں کا کوٹہ بڑھانے کی یقین دہانی بھی کرائی، انہوں نے زیارت میں قائد اعظم کی آخری قیام گاہ بھی دیکھی اور اس سے پہلے تونسہ میں عمائدین کے ایک بڑے اجلاس سے خطاب بھی کیا، ایک ایسے موقع پر جب تبدیلی کی افواہیں گردش کر رہی ہوں، ماضی میں وزیر اعلیٰ لاہور نہیں چھوڑتے تھے، مگر عثمان بزدار دوسرے صوبے میں جا کر اپنی بے فکری کا ڈنکا بجا رہے ہیں سوال یہ ہے کہ اب ایسی کیا بات ہوئی ہے کہ عثمان بزدار کو تبدیل کرنا ضروری ہو گیا ہے، معاملات تو پہلے کی طرح چل رہے ہیں ہاں صرف ایک ایسی بات ہو سکتی ہے جسے ان افواہوں کی بنیاد قرار دیا جائے اور وہ ہے کپتان کی عثمان بزدار سے دوری یا ناراضی، اس کے بھی فی الوقت کوئی آثار نظر نہیں آ رہے کیونکہ وزیر اعظم عمران خان نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا، کچھ واقفانِ حال یہ بھی کہتے ہیں کہ کپتان تو عثمان بزدار سے خوش ہیں البتہ کچھ مقتدر قوتیں پنجاب کے حالات سے خوش نہیں اور ان کا دباؤ ہے کہ پنجاب میں تبدیلی لائی جائے۔

ان کے سامنے سرنڈر کر جائیں گے اور عثمان بزدار کو تبدیل کرنے پر تیار ہو جائیں گے، اس بارے میں کسی کے پاس بھی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں، تاہم جو سب سے اہم اشارہ دیا جا رہا ہے وہ چودھری برادران کی عمران خان سے دوری ہے۔ جس کا اظہار بجٹ کے موقع پر بھی کھل کے ہو چکا ہے، جب چودھری برادران نے وزیر اعظم کے عشایئے میں شرکت نہیں کی تھی، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پچھلے دو ہفتوں میں عثمان بزدار کی چودھری پرویز الٰہی سے دو تین ملاقاتیں ہوئی ہیں اور خود وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے پاس ان کے چیمبر گئے، کیا چودھری برادران عثمان بزدار کی تبدیلی کے لئے زور لگا رہے ہیں یا پھر واقعی پنجاب کے حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ ایک نئے وزیر اعلیٰ کی ضرورت نا گزیر ہو چکی ہے۔

گڈ گورننس نہ ہونے کا اعتراف تو کیا ہی جا رہا ہے، تاہم اس میں بھی جو سب سے بڑا عنصر سامنے لایا جاتا ہے، وہ پنجاب میں بڑھتی ہوئی کرپشن ہے۔ بیورو کریسی سمیت تمام دفاتر کرپشن کی آماجگاہ بن گئے ہیں اور عوام کا کوئی کام بھی بغیر رشوت کے نہیں ہوتا۔ یہ وہ تاثر ہے جو آج پنجاب میں ایک عمومی شکل اختیار کر گیا ہے۔ لوگ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگاتے ہیں کہ صوبے میں ذخیرہ اندوز مافیا کو بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے سرکاری افسران وزیر اعلیٰ کی اس ہدایت کو ہوا میں اڑا دیتے ہیں کہ مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے۔ کیونکہ وہ آگے مافیاز سے اپنا حصہ لیتے ہیں۔ آٹا، چینی، گوشت اور دیگر اشیائے ضروریہ راتوں رات غائب اور اس کے بعد مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ملتا، یہ ایک خرابی ہے تو دوسری خرابیاں سرکاری دفاتر سے متعلق ہیں، جہاں منہ پھاڑ کے رشوت لینے کا کلچر پروان چڑھ چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ارکانِ اسمبلی کسی سرکاری افسر کی ڈھکے چھپے انداز میں پشت پناہی کرتے تھے، اب تو علی الاعلان حمایت کی جاتی ہے۔

اس کی سب سے بڑی مثال ملتان سے دی جا سکتی ہے۔ جہاں ڈپٹی کمشنر اور ارکانِ اسمبلی کا گہرا گٹھ جوڑ چل رہا ہے۔ حتیٰ کہ پنجاب اسمبلی میں بھی ڈپٹی کمشنر ملتان کی اعلیٰ کارکردگی بارے ملتان کے ارکانِ اسمبلی نے ایک قرار داد پیش کر دی یہ تو آگ اور پانی کا ملاپ ہے۔ اس طرح تو عوام کی داد رسی کا ہر دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ ”تو میرا حاجی بگویم میں تیرا حاجی بگو“ کی صورتِ حال ہو تو ایک دوسرے پر نظر کون رکھے گا۔ آج ملتان کی صورت حال بہت خراب ہے، پچھلے دنوں تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ نے ایسے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ ملتان پورے پنجاب میں کرپشن کے حوالے سے بازی لے گیا ہے۔ ایسی باتیں جو بھی کرے انہیں توجہ سے سننا چاہئے مگر حیرت ہے کہ عثمان بزدار نے اس پر توجہ ہی نہیں دی۔ انہیں چیف سکریٹری اور آئی جی سے فوراً رپورٹ طلب کرنی چاہئے تھی کہ ملتان میں گورننس کی صورتِ حال کیا ہے۔ مگر انہوں نے شاہ محمود قریشی کی وجہ سے ملتان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔

صوبے کا حاکم ہونے کیو جہ سے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار یہاں ہونے والے ہر سیاہ و سفید کے ذمہ دار ہیں،ا نہیں بہت پہلے یہ سوچ لینا چاہئے تھا کہ سب سے زیادہ توجہ گڈ گورننس پر دینی ہے۔ آپ بے شمار ترقیاتی کام بھی کر گزر یں اور گورننس بہتر نہ ہو تو وہ سب کام رائیگاں جاتے ہیں آج میڈیا پر اس بات کے تذکرے ہوتے ہیں کہ صوبے میں افسروں کی تعیناتی بھاری رشوت لے کر کی جا رہی ہے، ضلع کی ڈی سی شپ کروڑوں روپے میں بکتی ہے اور وزیر اعلیٰ آفس میں بیٹھا ایک شخص اس سارے کھیل کی نگرانی کر رہا ہے۔ شہباز شریف کے زمانے میں افسروں کی تعیناتی کا ایک طریقہئ کار موجود تھا، کسی بھی سیٹ کے لئے تین افسروں کے ناموں کا پینل چیف سکریٹری کی طرف سے وزیر اعلیٰ کو بھجوایا جاتا، جس کے بعد وہ خود ان سے انٹرویو کر کے کسی ایک نام کی منظوری دیتے، اس میں بلا شبہ شہباز شریف کی مرضی شامل ہوتی تاہم یہ تاثر پیدا نہیں ہوتا تھا کہ کسی کے نام کی اچانک لاٹری نکل آئی۔ اب تو اچانک کسی افسر کا نام سامنے آتا ہے اور وہ ضلع کا مالک بن بیٹھتا ہے۔ اس کی تقرری کے لئے کیا طریقہئ کار اختیار کیا گیا، کسی کو کچھ علم نہیں ہوتا۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اگر ان افواہوں کی گرد میں گم ہونے سے بچ جاتے ہیں، تو انہیں اپنی گورننس بہتر بنانی ہو گی ا ور اس کے لئے انہیں ان تمام کمزوریوں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ جو ان کے اردگرد موجود افراد کی وجہ سے جنم لیتی ہیں یہ اردگرد والے ہمیشہ حکمرانوں کو ذلیل و رسوا کر دیتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -