کورونا……عزم و ہمت کے سو دن

کورونا……عزم و ہمت کے سو دن

  

سردارعثمان بزدار نے بھی اس وباء کی روک تھام اور عوام کو اس موذی وباء سے

بچانے کیلئے فوری حکمت عملی اپنائی اور اس پر بلاتاخیر عملدرآمد شروع کردیا

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے تدارک کیلئے گذشتہ 100دنوں کا جائزہ لیتے ہیں تو

صوبہ پنجاب اپنے متعدد تیر بہ ہدف اقدامات کے باعث نمایاں نظرآتا ہے

جب کرونا کی وبا آئی تو اس وقت پنجاب میں ایک سو ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت تھی

آج یہ استعدادکار 12ہزار ٹیسٹ روزانہ ہوچکی ہے

پنجاب میں ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹریز کی تعداد 17تک پہنچ چکی ہے

صوبہ بھر میں آکسیجن بیڈز9276، ہائی ڈپینڈنسی یونٹس 2600اور وینٹی لیٹرز کی تعداد 2302تک پہنچ چکی ہے

محکمہ تعلقات عامہ کے افسران نے وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب،صوبائی وزراء اور دیگر انتظامی افسران

کی سرگرمیوں کو پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر کوریج کیلئے ہر اول دستے کا کردار ادا کیاہے

تحریر:جاوید یونس

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور ان کی ساری ٹیم نے خالی بیان بازی کی بجائے مختلف مسائل کے حل کیلئے فوری فیصلے اور ان پر عملدرآمد کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ عوام بھی ایک جمہوری حکومت سے محض بیان بازی کی بجائے عمل کی توقع رکھتے ہیں۔ جب کرونا کی وباء دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی داخل ہوئی تووزیراعظم پاکستان عمران خان نے تمام صوبوں کو حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور دیگر صوبوں کی طرح وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار نے بھی اس وباء کی روک تھام اور عوام کو اس موذی وباء سے بچانے کیلئے فوری حکمت عملی اپنائی اور اس پر بلاتاخیر عملدرآمد شروع کردیا۔آج جب ہم کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے تدارک کیلئے گذشتہ 100دنوں کا جائزہ لیتے ہیں تو صوبہ پنجاب اپنے متعدد تیر بہ ہدف اقدامات کے باعث نمایاں نظرآتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور متعلقہ انتظامی اداروں کے فیصلوں کی بدولت فخر کے ساتھ اس بات پر اطمینان کا اظہار کیاجاسکتا ہے کہ پنجاب بھر میں ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف نے قومی جذبے کے تحت صف اول میں حکومت کی پالیسیوں کے تحت عوام کو کرونا سے بچانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ پاک فوج، پولیس، ریسکیو1122کے کردار کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ لاک ڈاؤن کے دوران پولیس اور دیگر انتظامی اداروں نے اپنے فرائض قومی جذبے کے ساتھ سرانجام دیئے۔ اس وباء سے نمٹنے کیلئے محکمہ تعلقات عامہ کے افسران خصوصاً ڈویژنل و ضلعی دفاترنے اپنابھرپور کردار ادا کیاہے۔وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب،صوبائی وزراء اور دیگر انتظامی افسران کی سرگرمیوں کو پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر کوریج کیلئے ہر اول دستے کا کردار ادا کیاہے جس کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔ لوگوں کا روزگار بھی چلتا رہا۔ حکومت کے مثبت فیصلوں سے تجارتی، صنعتی، اقتصادی اور سماجی سطح پر بھرپور زندگی کے ساتھ آگے بڑھتا رہا۔

اپوزیشن اور اقتدار سے محروم طبقہ سردار عثمان بزدار کے بروقت فیصلوں سے پریشان ہوا اور ان کے خلاف منفی پراپیگنڈہ شروع کردیامگر وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنی سیاسی بصیرت، تدبر اور ذہانت سے تمام معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کیا۔ سردار عثمان بزدار نہ صرف اپوزیشن کو بیک فٹ پر لے گئے بلکہ وہ ایک بہترین ناظم اعلیٰ کے روپ میں سامنے آئے۔ وہ ایسے سیاستدان کے روپ میں سامنے آئے جو ہر بحران سے صاف بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ کرونا وائرس کی وباء کے دوران سردار عثمان بزدار نے حقیقتاً ایک متحرک لیڈر کاکردار ادا کیا ہے۔ شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے وہ سب سے پہلے میدان میں آئے اور کرونا وائرس کے خدشے کی پرواہ کئے بغیر صوبہ بھر کے ہنگامی بنیادوں پر دورے کئے اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ مریضوں کیلئے قائم کئے گئے قرنطینہ سنٹروں کے دورے کئے اور مریضوں کی خیریت دریافت کی۔ حکومت پنجاب نے عوام کو اس موذی وباء سے بچانے کیلئے جو عملی اقدامات اٹھائے وہ اس طرح ہیں۔

حکومت پنجاب نے کرونا وائرس کے مریضوں کی بہترنگہداشت اور علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر صوبہ بھر میں قرنطینہ سنٹرز اور آئسولیشن وارڈز قائم کئے۔ ایکسپو سنٹر لاہور میں ایک ہفتہ کے دوران قرنطینہ سنٹر قائم کیا اس کے علاوہ 8فیلڈ ہسپتال قائم کرنے کے ساتھ ساتھ تمام ضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز کا قیام عمل میں لایاگیا۔ تمام ضلعی و تحصیل ہسپتالوں کے آئی سی یوز اور ایچ ڈی یوز کے بیڈز اور وینٹی لیٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیاگیا تاکہ سیریس مریضوں کو فوری طور سے وینٹی لیٹرز پر منتقل کیاجاسکے۔ کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کیلئے ایک مربوط حکمت عملی مرتب کی گئی اور اس پر عملدرآمد کیلئے سیکنڈری اینڈ پرائمری ہیلتھ کیئر سنٹر میں جدید ترین کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا قیام عمل میں لایاگیا جو چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے ذاتی طور پر اس سنٹر کا معائنہ کیا اور اس کی کارکردگی کو بڑھانے کیلئے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ حکومت پنجاب نے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ کیا۔کرونا کی وبا سے نمٹنے کیلئے 13جنوری سے عملی اقدامات کا آغاز کیاگیا۔کابینہ کمیٹی برائے کرونا کنٹرول تشکیل دی گئی اور پنجاب میں کرونا ایمرجنسی کا نفاذ کیاگیا۔

جب کرونا کی وبا آئی تو اس وقت پنجاب میں ایک سو ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت تھی لیکن بزدار حکومت کے اقدامات کی بدولت آج یہ استعدادکار 12ہزار ٹیسٹ روزانہ ہوچکی ہے۔پنجاب میں ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹریز کی تعداد 17تک پہنچ چکی ہے۔صوبہ بھر میں آکسیجن بیڈز9276، ہائی ڈپینڈنسی یونٹس 2600اور وینٹی لیٹرز کی تعداد 2302تک پہنچ چکی ہے اور اب تک 5لاکھ سے زائد افراد کے ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں۔حکومت نے کرونا کیلئے درکار ادویات کی فراہمی کے مسئلے کو حل کیا۔اس وقت پنجاب میں مطلوبہ ادویات اور انجکشن کی کوئی کمی نہیں۔ ادویات کی بلیک مارکیٹنگ کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ادویات یا انجکشن کی قلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔کرونا سے بچاؤ کیلئے خصوصی ایپ اور انفارمیشن سسٹم تشکیل دیاگیاہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید ترین نظام کے ذریعے کرونا وائرس کے 2لاکھ سے زائد مشتبہ مریضوں تک رسائی ممکن بنائی گئی اور بین الاقوامی ماہرین کی معاونت سے سمارٹ ٹیسٹنگ کا نفاذ کیاگیا۔حکومت نے فوری طور پر ایک ہزار سے زائد ڈاکٹروں، کنسلٹنٹس، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو بھرتی کیا۔اس سے ایک طرف مریضوں کو بروقت طبی سہولیات دستیاب ہوئیں تو دوسری طرف کئی بے روزگار ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو روزگار کے مواقع میسر آئے۔ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف نے ہر اول دستے کے طور پر کام کیا۔حکومت نے ان کی جان کی حفاظت کیلئے ایک کروڑ سے زائد حفاظتی لباس اور آلات فراہم کئے تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔ حکومت نے ڈاکٹروں،نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف کیلئے رسک الاؤنس دینے کا اعلان کیااس کے علاوہ کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے دوران اس وباء کا شکار ہوکر وفات پانے والوں کیلئے شہدا پیکیج کا اعلان کیا۔ کرونا وائرس کے مریضوں اور دیگر شہریوں کی فوری امداد اور ضروری آگہی فراہم کرنے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن 1033قائم کی گئی۔ حکومت پنجاب نے اس وبا سے محفوظ رہنے، حفاظتی اقدامات اٹھانے اور افواہوں کی روک تھام کیلئے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بھرپور آگاہی مہم چلائی گئی جس کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوئے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بہترین فیصلہ سازی اور مشاورت کیلئے صوبہ کے نامور طبی ماہرین پر مشتمل ٹیکنیکل ورکنگ گروپ تشکیل دیئے جن کی تجاویز اور آراء کی روشنی میں اس موذی وبا سے نمٹنے کیلئے حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے۔ ایران سے آنے والے زائرین، تبلیغی جماعتوں اور دوسرے ملکوں سے آنے والے پاکستانیوں کی مکمل سکریننگ کی گئی اور قائم کئے گئے قرنطینہ سنٹروں میں ان کو کھانے پینے سمیت تمام سہولیات فراہم کی گئیں۔ کرونا ٹیسٹ منفی آنے پر ان کو گھروں میں جانے کی اجازت دی گئی۔ صوبہ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھنے کے پیش نظر 4اپریل کو حکومت نے پنجاب امتناع وبائی امراض آرڈی ننس 2020نافذ کیاگیا جس کے تحت تمام مارکیٹیں، شاپنگ مال، ریسٹورنٹ، شادی ہال، سرکاری و غیر سرکاری دفاتر کو بندکردیاگیا۔ صوبائی وضلعی حدود اور اندرون شہر آمدورفت کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کو بندکردیاگیا۔ کھانے پینے کی اشیاء کی دکانیں، میڈیکل سٹورز، پٹرول پمپس کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیاگیا تاکہ لوگ اپنی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرسکیں۔ حکومت نے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جس کے خاطرخواہ نتائج سامنے آئے ہیں جس کے نتیجے میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں خاطرخواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک کی معیشت کو کافی نقصان پہنچا جس پر حکومت نے مرحلہ وار تجارتی مراکز،دکانوں، شاپنگ مالز، مارکیٹوں اور کاروباری مراکز کو کھولنے کا اعلان کیا مگر اس کے لئے ایس او پیز مرتب کئے گئے جن پر سختی سے عملدرآمد کرایاجارہا ہے۔

لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ غریب طبقہ اور دیہاڑی دار مزدور متاثر ہوا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ان کی تکالیف کو دور کرنے اور ان کے گھر کا چولہا جلانے کیلئے صوبے کے سب سے بڑے ”احساس کفالت پروگرام“ کے تحت 165 ارب روپے کی خطیر رقم غریب خاندانوں کو 12ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے تقسیم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پنجاب نے لاک ڈاؤن سے متاثرہ غریب خاندانوں کیلئے 10ارب روپے کی لاگت سے انصاف امداد پروگرام کا آغاز کیا۔ بزدار حکومت نے کاروباری طبقہ اور متاثرہ انڈسٹری کو ریلیف دینے کیلئے 18ارب روپے کا ریلیف پیکیج دیاہے۔اسی طرح نجی سکولوں کی فیسوں میں 20فی صد کمی کی گئی۔100دنوں میں بزدار حکومت نے کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے درست سمت قدم اٹھائے ہیں۔مکمل احتیاط ہی کرونا کا واحد علاج ہے۔اپنے آپ اور عزیز و اقارب کو بچانے کیلئے ماسک، سینی ٹائزر استعمال کیا جائے اور سماجی فاصلے کی احتیاط کی جائے۔ احتیاط نہ کرنے سے کرونا وائرس سب کو متاثر کرسکتا ہے۔شہری ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ماسک استعمال کریں۔دکانداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ماسک نہ پہننے والے گاہکوں کو دکان میں داخل نہ ہونے دیں۔ مختلف علاقوں کو بندکرکے کرونا کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جن علاقوں میں کرونا ختم ہوجائے گا اس کو ڈی سیل کردیا جائے گا۔ عدالت عظمیٰ نے کرونا وائرس کے خلاف اٹھائے گئے حکومتی اقدامات سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں حکومت پنجاب کے اقدامات پر اطمینان کااظہار کیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کرونا وائرس کے مرض میں مبتلا ہونے والے صحافیوں کیلئے بھی خصوصی پیکیج کا اعلان کیا اور ان کو مالی امداد بھی فراہم کی گئی۔ صوبائی وزیر نے صحافیوں اور اخبار فروشوں میں حفاظتی کِٹس بھی تقسیم کیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت صحافتی برداری کو ہرممکن سہولیات فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دے سکیں۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے متعلقہ حکام کو ایس او پیز پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس پر قابو پانے کیلئے عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔سماجی فاصلہ برقرار رکھنے سے ہی اس بیماری کا پھیلاؤ کم ہوگا۔ عوام کی صحت سب سے زیادہ عزیز ہے۔ مریضوں کو گھروں میں آئسولیشن میں رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنا ہی کرونا وائرس سے نمٹنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس موذی وباء سے نمٹنے کیلئے حکومتی اقدامات کا بھرپور ساتھ دیں کیونکہ عوامی شراکت سے ہی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ محکمہ صحت کو ترجیحی بنیادوں پر فنڈز فراہم کئے گئے ہیں۔ شہری”پرہیز علاج سے بہتر ہے“ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

٭٭Article-Azam-o-Himat kay 100 din by Javed Younis٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -