ریگولرائز یشن پنجاب کنٹریکٹ ریسیکوملازمین کیلئے احسن اقدام ہے: ڈاکٹر رضوان نصیر

ریگولرائز یشن پنجاب کنٹریکٹ ریسیکوملازمین کیلئے احسن اقدام ہے: ڈاکٹر رضوان ...

  

لاہور(کرائم رپورٹر)ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا ریسکیو سروس کے ملازمین کے دوسرا بیج 3227ریسکیوز پر مشتمل کی ریگولرائزیشن کا سلسلہ فائنل مراحل میں ہے اوراس کا نوٹیفکیشن جلد جاری کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریگولرائزیشن پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018کے تحت کی جارہی ہے جو محنت کرنے والے کنٹریکٹ ریسکیو ملازمین کے لیے احسن اقدام ہے۔ ڈی جی ریسکیو پنجاب نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز ریسکیو ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا جس میں ریسکیو ہیڈکواٹرز اور ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کے تمام شعبہ ہائے جات کے سربراہان نے شرکت کی۔ شعبہ ہیومن ریسورس کے سربراہ ڈاکٹر فواد شہزاد مرزا نے ڈی جی ریسکیو کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس سے قبل کنٹریکٹ پرکام کرنے والے 5609ریسکیورز اور 195ریسکیو آفیسر ز کو سال 2010میں مستقل کر دیا گیا تھا اور یہ فیصلہ پنجاب ایمرجنسی کونسل میں کیا گیا تھا تمام افسران بشمول ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیرکی سیٹیں ریگولر کی گئی تھیں کونسل میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ فیصلہ ریسکیو سروس کی رسکی نوکری کی وجہ سے کیا جا رہا ہے اور کونسل نے ڈاکٹر رضوان نصیر کی ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم کے قیام کی کاوشوں اور کاکردگی کو سراہا اور کہا کہ ایمرجنسی ریسپانس کا منظم نظام اور ڈاکٹر رضوان کی خدمات قابل تحسین ہیں اور ڈاکٹر رضوان جیسے لوگ ملک کیلئے بہت بڑااثاثہ ہیں۔

ڈی جی ریسکیو پنجاب نے کہا کہ یہ میرے لیے قابل اطمینان تھا کہ میرے 5609ریسکیورز اور 195افسران کو کنٹریکٹ سے مستقل کر دیا گیا تھا لیکن بد قسمتی سے ڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان نصیر کے عہدے کو اس میں شامل نہ کیا گیاجو ایک کھلا تعصب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میرے پاس معزز عدالت کا دروازہ کھٹکٹھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ریسکیو سروس کا نظام اس وقت متعارف کروایا تھا جب ملک میں ایسا ایمرجنسی ریسپانس کا نظام موجود نہیں تھا۔ آج ایمرجنسی سروس نے 85لاکھ سے زائد ایمرجنسی متاثرین کو حادثات و سانحات میں بلا تعصب اور بروقت ریسکیو کیا۔

مزید :

علاقائی -