امریکی سائنس دانوں کا تجربہ کامیاب، کورونا وائرس کے علاج کیلئے سب سے موثر ادویات دریافت

امریکی سائنس دانوں کا تجربہ کامیاب، کورونا وائرس کے علاج کیلئے سب سے موثر ...

  

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکی سانئس دانوں کو کروناوائرس کے علاج کیلئے اہم بریک تھرو مل گیا ہے اور انہوں نے اس کے لئے ایک اہم دوا دریافت کر لی ہے۔ ”فارما سیوٹیکل ٹیکنالوجی“ نے نیو یارک کے ماؤنٹ سینائی میڈیکل سنٹر کی تحقیقی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق کولسٹرول کم کرنے والی دوا فینوفائیبریٹ پہ ”کووڈ19-“ سے متاثرہ مریض کے پھیپھڑوں کو پانچ دن میں صافر کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کولسٹرول کم کرنے والی دوا کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (FDA)نے پہلے ہی محفوظ قرار دے کر منظور کر رکھا ہے اور اس دوا کومنظور کرانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ رپورٹ میں سائنس دانوں نے لکھا ہے کہ کرونا وئرس خودبخود اپنی تعداد نہیں بڑھا سکتا۔ اسے کسی جاندار کا جسم درکار ہے جس مں ی داخل ہوکر وہ اس کے خلیئے میں داخل ہوتا ہے اور وہاں سے پروٹین یا چکنائی حاصل کرکے اپنی تعداد بڑھاتا جاتا ہے اور وہ یہ کام پھیپھڑوں میں داخل ہو کر کرتا ہے۔ کولسٹرول کم کرنے والی دوا چربی کو کم کرتی ہے۔ کرونا کے مریضوں کو جب یہی دوا دی گئی تو اس نے پھیپھڑوں میں وائرس کی خوراک بننے والی چربی کو کم کرنا شروع کردیا اور جب یہ چربی کم ہونا شروع ہوئی تو وائرس پانچ دنوں میں بھوکا رہ کر مر گیا۔ سائنس دانوں نے تجربہ گاہ میں پھیپھڑے کے ٹشو پر تجربہ کیا جو کامیاب رہا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دوا کے استعمال کے بعد مریض پر اثرات صرف ویسے رہ جاتے ہیں جسے نزلہ زکام میں ہوتے ہیں لیکن ان کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ نیو یارک کے طبی سائنس دانوں نے دوا پر مزید تجربے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اس کا مریضوں پر ہسپتالوں میں اس دوا سے باقاعدہ علاج شروع ہو جائیگا۔

کورونا دوا

مزید :

صفحہ اول -