سینیٹ، ڈیزل پٹرول کی قیمتیں خطے میں سب سے کم ہیں: حکومت

  سینیٹ، ڈیزل پٹرول کی قیمتیں خطے میں سب سے کم ہیں: حکومت

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں بجلی چوری روکنے کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بجلی کے نقصانات پر قابو پائیں۔ تکنیکی نقصانات کم کرنے کیلئے ترسیل اور تقسیم کے بنیادی ڈھانچوں کی بحالی کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حکومت بجلی چوری کو روکنے کیلئے حکومت ایک نظام متعارف کرا رہی ہے۔ حکومت بچوں سے گھر یلو مشقت کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔ وزارت نے ملک میں بچوں سے زیادتی کے خاتمہ کا قانون متعارف کرایا ہے۔ سرکاری ملازمین کی ریٹائر منٹ کی عمر ساٹھ سال سے کم کرکے 55سال کرنے کے حوالے سے افواہوں کو دوٹو ک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہاگیاایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ اسوقت پیٹرول پر 47 روپے86پیسے،ہائی سپیڈ ڈیزل پر 51روپے41پیسے، سپیریئر کیروسین آئل پر 14 روپے 62 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل پر 11روپے17پیسے ٹیکسز عائد ہیں، اس وقت پاکستان میں ڈیزل اور تیل کی قیمت خطے میں سب سے کم ہے، سال 2017-18میں 178 ارب روپے سے زیادہ پیٹرولیم کی مد میں جمع کئے گئے جبکہ سال 2018-19میں 206 ار ب روپے سے زیادہ پٹرولیم لیوی کی مد میں جمع کئے گئے، اس وقت بجلی کی کمی کا سا منا نہیں کیونکہ ملک کی طلب کو پورا کرنے کیلئے کافی پیداوار دستیاب ہے،کیونکہ پیداوار میں کمی کا سامنا نہیں ہے اسلئے ملک میں لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی، کراچی ا لیکٹرک پرائیو یٹ کمپنی ہے، حکومت مقدار سے زیادہ ان کو گیس فراہم کر رہی ہے، جنوری2017 تاتین جون 2020تک نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کو ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ور ز یوں سے متعلق 4281کیسز موصول ہوئے ان میں سے 1701سماعت کے مرحلہ میں ہیں 1538 ابتدائی تحقیقات کے مرحلہ میں ہیں، 1042کو نمٹا دیا گیا ہے، ان خیالات کا اظہار سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان، وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری،وزیرمملکت پارلیمانی امور علی محمد جان نے ارکان کے سوالوں کے جواب میں کیا۔جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا، وقفہ سوالات کے دوران عمر ایوب خان نے ایوان کو بتایا اس وقت پیسکو میں میٹر ریڈرز کی کل آسامیوں کی تعداد 2628 ہے جبکہ 960 خالی ہیں، لائن مینوں کی کل آسامیاں 7162ہیں جبکہ 4600 خالی ہیں، ملک میں 8880فیڈرز ہیں، 20 فیصدر ہائی لاس ایریاز میں ہیں، ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں کہ جس کے تحت سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے ہارٹ ٹائم میٹر ریڈرز کی ملازمتوں کو باقاعدہ بنایا جائے۔ ابھی تک پاکستان میں گیس کے ذخائر زیادہ نکلے ہیں، سندھ ابھی گیس میں سر پلس نہیں رہا، پاکستان میں ڈیزل اور تیل کی قیمت خطے میں سب سے کم ہے، پاکستان تیل پیدا کرنیوالا ملک نہیں ہے،کوئی ملک ٹیکس کے بغیر تو چل ہی نہیں سکتا، دریں اثنا ء سینیٹ میں مالی سال 2018-19کیلئے قومی اقتصادی کونسل کی سالانہ رپورٹ میں پیش کر دی گئی۔ اجلاس کے دوران سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کے چیئرمین سینیٹر رحما ن ملک نے "گرفتار، نظر بند یا تحقیقاتی تحویل میں لئے گئے افراد کے حقوق کا بل "2020پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کی جس کے بعد انہوں نے" اسلام آباد امتناع گداگری بل "2020اور" تحفظ صارفین اسلام آباد(ترمیمی) بل "2020پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹیں پیش کیں، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین سینیٹر عبدالغفور حیدری نے عوامی اہمیت کے حامل نکتہ جو اسلام آباد ایئرپورٹ پر عمرہ زائرین سے تفتیش سے متعلق ہے پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی، بعد ازاں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے مالی سال 2018-19کیلئے قومی اقتصادی کونسل کی سالانہ رپورٹ سینیٹ میں پیش کی۔ اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان نے احسان اللہ احسان کے بلاول بھٹو کو دھمکی آمیز ٹویٹ کا معاملہ اٹھا یا اور کہا احسان اللہ احسان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے بلاول کو دھمکی دی گئی اکاؤنٹ کو پی ٹی اے نے ویری فائی کیا،حکومت اس کے اسٹیٹس سے ہمیں آگاہ کرے، احسان اللہ احسان دہشتگرد ہے اس نے عالمی پبلک سکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، بلاول کی والدہ بھی دہشتگردی کا شکار ہوئیں، وزیر اعظم نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا،لیکن اپنا بیان آج تک واپس نہیں لیا، اگر بلاول بھٹو کو کچھ ہوا تو ذمہ دار عمران خان ہوں گے۔سینیٹ میں قا ئد ایوان سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا گزشتہ ادوار میں پی آئی اے سمیت قومی اداروں میں سیاسی بھرتیاں ہوئیں ایک چیئرمین ایسا بھی تھا جس کے دور میں پی آئی اے نیچے جا رہی تھی اور انکی اپنی ائیر لائن بن رہی تھی، شہزاد وسیم کی تقریر کے دوران سینیٹر مولا بخش چانڈیو اٹھ کھڑے ہوئے، سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا بیٹھنا ہے تو خاموشی سے بیٹھیں ورنہ ایوان سے چلے جائیں،شہزاد وسیم کے رویئے پر اپوزیشن اراکین سینیٹ اجلاس سے واک آٹ کر گئے،چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر میاں عتیق شیخ کو ناراض اراکین کو منانے کیلئے بھیجا، سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ محترمہ کی شہادت کے بعد اس واقعے کی تحقیقات پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہونی چاہیے تھی۔چین کی شراکت داری سے خطے میں استحکام آئے گا۔بعدازاں ایوان کا اجلاس پیر کی سہ پہر چار بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔

سینیٹ اجلا

مزید :

صفحہ اول -