پنجاب اسمبلی میں وزیراعظم کو بھکاری کہنے پر ہنگامہ، چور چور کے نعرے

پنجاب اسمبلی میں وزیراعظم کو بھکاری کہنے پر ہنگامہ، چور چور کے نعرے

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کو بھکاری کہنے پر وزراء اور حکومتی ارکان میں شدید الفاظی جھڑپ، اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں،ایوان میں شور شرابہ،نعرے بازی کی وجہ سے کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اور اجلاس کا بائیکاٹ کردیا اور ایوان سے باہر چلے گئے، وزیر قانون دھمکی دی کہ جو ہماری قیادت کے بارے میں جس انداز میں بات کرے گا اسے اسی انداز میں جواب دیا جائے گا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 35 منٹ کی تاخیر سے پینل آف چیئرمین میاں محمد شفیع کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں صرف چند ارکان ہی ایوان میں موجودتھے وقفہ سوالات کے دوران متعددارکان اسمبلی کی عدم موجودگی کے باعث بہت سے سوالات ڈس پوز آف کر دئیے گئے۔جو چار سوالات ایوان میں زیر بحث آئے محکمہ کی جانب سے ان کے جوابات بھی نامکمل تھے۔ اجلاس کے دوران پینل آف چیئر مین میاں شفیع کے ماسک کی سٹریپ ٹوٹ گئی جس سے سرکاری ماسک کی کوالٹی کا بھنڈا بیچ ایوان میں پھوٹ گیا۔وقفہ سوالات کے ددوران صوبائی وزیر پراسیکیوشن چوہدری ظہیر الدین اور ن لیگ کے رکن ملک ارشد کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔وزیر قانون نے مسودہ قانون ”دی پنجاب کمیشن آن دی اسٹیٹس آف وومن“ ترمیمی بل 2020 ایوان میں متعارف کرا دیا۔ چیئر مین نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔عام بحث کا آغاز کرتے ہوئے ن لیگ کے رانا محمد اقبال نے کہا کہ پنجاب کا کسان آج بہت پریشان ہے۔ حکومت کسانوں کو بنکوں سے مارک آپ کم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرے۔حکومتی رکن عائشہ اقبال نے کہا کہ زرعی زمینوں کو سوسائٹی مافیاز سے بچایا جائے اور جگہ جگہ فارم ہاؤسز کی تعمیر کے خلاف بھی حکومت کارروائی کرے۔پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی نے کہا کہ پنجاب کا کسان جو دوسروں کو روٹی مہیا کرتا ہے وہ خود روٹی کو ترس رہا ہے،ہمارے وزیر اعظم خود بھکاری ہیں اور قوم کو بھی بھکاری بنانا چاہتے ہیں۔ ہمارے بچے یہودیوں سے مانگ کر نہیں کھا سکتے۔ ایوان میں وزیر اعظم عمران خان کو بھکاری اور یہودیوں سے مانگ کر کھانے والاکہنے پر حکومتی وزراء اور ارکان اسمبلی سراپا احتجاج ہو گئے اور نعرے بازی بازی شروع کردی۔ تقریر کے دوران بار بارحکومتی بنچوں سے مداخلت پرپیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی احتجاجا ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ اس پر ن لیگ نے بھی ان کا ساتھ دیا اورتمام اپوزیشن احتجاجا ایوان سے آٹا چور، چینی چور،پٹرول چور،دوائیاں چور اور گو عمران گو کے نعرے لگاتے ہوئے واک آؤٹ کرگئی جبکہ اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں،ایوان میں شور شرابہ نعرے بازی کی وجہ سے کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے اس کہا کہ حسن مرتضیٰ کا وزیراعظم کو بھکاری کہنا غلط ہے۔وزیراعظم کس کیلئے بھیک مانگ رہے ہیں وہ قوم کے لیے ملک کے لئے مانگ رہے ہیں جو جس زبان میں ہماری قیادت کے خلاف بات کرے گا اسے اسی زبان میں جواب دیں گے اور وزیرر اعظم کے خلاف کہے گئے الفاظ حذف کئے جائیں،جس پرپینل آف چیئر مین نے حکومت کی درخواست پر وزیراعظم کو بھکاری کے الفاظ کارروائی سے حذف کرا دئیے۔ پبلک اکاؤننٹس کمیٹی ٹو کے چیئر مین سید یاور بخاری نے فوڈ اتھارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ فوڈ اتھارٹی کا عملہ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس چھاپے مارکر خوامخواہ انہیں پریشان کرتا ہے اور بعد ازاں ان سے رشوت کی مد میں بھاری رقم بھی وصول کرتا ہے۔ دو اتھارٹی کے اہلکار چھاپے مارنے کے بعد کلیکشن پر لگ جاتے ہیں ڈی جی فوڈ کو یہاں بلا کر ان سے اس حوالے سے جواب طلب کیا جائے جس پر ایوان میں موجود فوڈ اتھارٹی کے چیئر مین نے حکومتی رکن یاور بخاری کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹو اتھارٹی بالکل صحیح کام کررہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو میعاری خوراک مل رہی ہے۔ اجلاس کے آخر میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ ایوان کی کارروائی کے ددوران حذف کئے گئے الفاظ سوشل میڈیا پر ویسے ہی چل رہے ہوتے ہیں ممبران اپنی تقریر کی ویڈیو اسمبلی سیکرٹریٹ سے لے لیتے ہیں اور اسے اسی شکل میں حذف کئے گئے الفاظ کے ساتھ وہ ویڈیو چل رہی ہوتی۔اس سے ممبران اسمبلی کا استحقاق مجروح ہوتا ہے۔ پنجاب اسمبلی کا ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس پیر کی سہ پہر دو بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -