کم عمر اور نا تجربہ کار ڈرائیور شہریوں کی زندگی کیلئے خطرہ بن گئے

کم عمر اور نا تجربہ کار ڈرائیور شہریوں کی زندگی کیلئے خطرہ بن گئے

  

لاہور(رپورٹ: یونس باٹھ) صوبائی دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ سمیت دیگر گاڑیاں کم عمر و بغیر لائسنس یافتہ ڈرائیور چلانے لگے آئے روز حادثات معمول بن گئے۔ نا تجربہ کار ڈرائیورز شہریوں کی زندگی کیلئے خطرہ بن گئے۔ بد ترین ٹریفک جام کے مسئلہ نے بھی سر اٹھا لیا، رواں برس 170 افراد ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوئے جبکہ مختلف حادثات میں اب تک 25000سے زائد شہری زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق شہرکی مختلف شاہراہوں اور روٹس پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ جس میں رکشہ بس سوزوکی ٹریکٹر واٹر ٹینکر وغیرہ شامل ہیں جن میں سے اکثر کو کم عمر وبغیر لائسنس یافتہ ڈرائیورز چلاتے نظر آتے ہیں جو نا تجربہ کاری کی وجہ سے حادثات کا شکار ہوتے ہیں جو اپنی جانوں سمیت شہریوں کی زندگی کیلئے بھی خطرہ بن گئے ہیں۔ کم عمر ڈرائیورز کی جانب سے تیز رفتاری اور غلط ڈرائیونگ کے باعث شہر کے مختلف مقامات میں لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی معمول بن گئے ہیں۔ ڈرائیونگ کے حوالے سے شعور نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک جام رہنا بھی معمول بن گیا ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور نا تجربہ کار کم عمر بغیر لائسنس یافتہ ڈرائیورز کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ سب سے زیادہ حادثات کا شکار موٹر سائیکل سوار ہوئے ریسکیو کے اعداد و شمار کے مطابق موٹرسائیکل حادثات کی تعداد رواں برس 14000 تک پہنچ گئی 6 ماہ میں 170 افراد ٹریفک حادثات میں جان کی بازی ہار گئے اس حوالے سے ڈی جی ریسکیو رضوان نصیر کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور ڈرائیورز کی غفلت ایک بڑی وجہ ہے۔ ٹریفک حادثات کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔

ٹریفک حادثات

مزید :

صفحہ آخر -