کورونا کی وبا کے دوران ایشیاکے سمندروں میں کونساشرمناک کام ہوتا رہا؟

کورونا کی وبا کے دوران ایشیاکے سمندروں میں کونساشرمناک کام ہوتا رہا؟
کورونا کی وبا کے دوران ایشیاکے سمندروں میں کونساشرمناک کام ہوتا رہا؟

  

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایک ایسے وقت میں جب دنیا کورونا وائرس سے لڑنے میں مصروف تھی  ایشیابھر میں شرم سے عاری  بحری قزاقوں نے  لوٹ مار مچائے رکھی۔ 

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بتایا ہے کہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کے دوران ایشیا بھر میں قزاقی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

سال کے پہلے چھ ماہ میں 50 کیسز رپورٹ ہوئے اور یہ تعداد گزشتہ برس اس دورانیہ میں 25  تھی۔ یہ رپورٹ ری کیپ نام ادارے کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔

ایسے واقعات جو کسی ریاست کی حدود سے باہر ہوں انھیں قزاقی کہا جاتا ہے جبکہ اگر یہ کسی ریاست کی حدود میں ہوں تو انھیں مسلح ڈکیتی کا نام دیا جاتا ہے۔

امریکی یونیورسٹی آف ٹینیز کے سکالر برینڈن پرنز کا کہنا ہے کہ امکان یہی ہے کہ کورونا وائرس کے دوران لوگ سمندری قزاقی پر مجبور ہوئے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے خوف یہ ہے کہ کووڈ 19 کے باعث عالمی تجارت میں کمی آئے گی جس سے شرح نمو بھی کم ہو گی اور اس کے باعث غربت میں اضافہ ہو گا اور بیروزگاری بڑھے گی اور پھر سمندری قزاقی میں بھی اضافہ ہو گا۔‘

خیال رہے کورونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 38 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اب تک اس مرض کے باعث پانچ لاکھ 90 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دنیا میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک امریکہ ہے جہاں تقریباً 35 لاکھ افراد اس مرض سے متاثر ہیں جبکہ وہاں اب تک ایک لاکھ 37 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد میں اس مرض کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 5,505 اموات ہوئی ہیں اور ایک لاکھ 83 ہزار سے زیادہ مریض صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔ ادھرانڈیا میں متاثرین کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -