وہ علاقے جہاں بدھ مت کو ماننے والوں کی اکثریت ہے کورونا وائرس سے محفوظ کیسے رہے؟ ایسا انکشاف کہ سائنسدان بھی حیران رہ گئے

وہ علاقے جہاں بدھ مت کو ماننے والوں کی اکثریت ہے کورونا وائرس سے محفوظ کیسے ...
وہ علاقے جہاں بدھ مت کو ماننے والوں کی اکثریت ہے کورونا وائرس سے محفوظ کیسے رہے؟ ایسا انکشاف کہ سائنسدان بھی حیران رہ گئے

  

ہنوئی(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر کو کورونا وائرس نے تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے لیکن کچھ ایسے ممالک ہیں جو چین کے قریب ترین ہیں، جہاں سے کورونا وائرس پھیلا تھا، اس کے باوجود وہاں کیسز اور اموات نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہ دلچسپ اتفاق ہے کہ ان تمام ممالک میں بدھ مت کے ماننے والوں کی اکثریت ہے۔ اس انکشاف نے سائنسدانوں کو بھی ورطہئ حیرت میں ڈال رکھا ہے کہ آخر بدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت والے ممالک میں کورونا وائرس زیادہ کیوں نہیں پھیلا؟

اکانومسٹ کے مطابق ان ممالک میں ویت نام، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، لیوس اور میانمار شامل ہیں۔ وائرس چین سے پھیلا اور یہ ملک چین کے قریب ترین تھے۔ اب جنوبی ایشیاء میں بھارت کورونا وائرس کا گڑھ بن چکا ہے اور یہ ممالک اس کے بھی قریب تر ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں وائرس کے کیسز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ویت نام کی آبادی 9کروڑ 70لاکھ ہے اور وہاں کورونا وائرس سے اب تک ایک بھی موت واقع نہیں ہوئی۔

تھائی لینڈ کی آبادی 7کروڑ ہے اور وہاں صرف 58اموات ہوئی ہیں اورگزشتہ 40دن میں مقامی سطح کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا، جتنے کیس سامنے آئے ان کا تعلق بیرون ملک سے آنے والے لوگوں سے تھا۔ تباہ حال میانمار میں اب تک صرف 317کیس سامنے آئے ہیں اور 6اموات ہوئی ہیں۔ کمبوڈیا میں 141اور چھوٹے سے ملک لیوس میں اب تک صرف 19کیس سامنے آئے ہیں۔

اس کا موازنہ ان کے قریبی ممالک کے ساتھ کریں تو وہاں تباہ کن صورتحال نظر آتی ہے۔ انڈونیشیاء میں اب تک 68ہزار 100کیس سامنے آ چکے ہیں اور 3400اموات ہو چکی ہیں۔ فلپائن میں 50ہزار 400کیس آ چکے ہیں اور 1300اموات ہو چکی ہیں۔سائنسدان تاحال یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ بدھ مت کے ماننے والوں کی اکثریت والے ممالک میں وائرس کیوں نہیں پھیلا اور وہاں کیوں اموات کم ہوئی ہیں۔ حالانکہ ان ممالک کے شہریوں کا چین میں بہت آنا جانا ہے اور چینی تاجر اور دیگر لوگ بھی بڑی تعداد میں ان ممالک کا سفر کرتے رہتے ہیں۔ میانمار میں تو چینی تاجر اور حتیٰ کہ سمگلر ڈیرے ڈالے رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود وہاں وائرس نہیں پھیلا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -کورونا وائرس -