سرکاری ہسپتالوں کو پرائیوٹائیز کرنےکی خبروں میں کتنی صداقت ہے؟ معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفرمرزا نےحقیقت کھول دی

سرکاری ہسپتالوں کو پرائیوٹائیز کرنےکی خبروں میں کتنی صداقت ہے؟ معاون خصوصی ...
سرکاری ہسپتالوں کو پرائیوٹائیز کرنےکی خبروں میں کتنی صداقت ہے؟ معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفرمرزا نےحقیقت کھول دی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفرمرزا نے کہا ہے کہ ہیلتھ ریفارمز پی ٹی آئی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے،حکومت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں کو پرائیوٹائیز کرنے کے حوالے سے تمام خبریں من گھڑت ہیں،ہسپتال حکومتی سرپرستی میں ہی چلیں گے لیکن انتظامی امور اور بہتر فیصلہ سازی کیلئے لوکل مینجمنٹ کی خدمات لی جائیں گی،موجودہ ہیلتھ سیکٹر میں مسائل کی زمہ دار سابقہ حکومتوں کی پالیسیاں ہیں،سابقہ ادوار میں ہیلتھ سیکٹر کے مسائل کو کبھی بھی ترجیحی بنیادوں پر حل نہیں کیا گیا۔

ہیلتھ سیکٹر کے حوالے سے اپوزیشن کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفرمرزا نے کہا کہ ہیلتھ ریفارمز پی ٹی آئی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے،پاکستان کا کووڈ19 کے حوالے سے رسپونس اور تیاریاں دْنیا میں بہترین رہیں،ہم نےجلد ہی اقدامات اْٹھائے جس کی وجہ سے خطے میں ہمارا پہلا کیس تاخیر سے 26 فروری کو رپورٹ ہوا،کیسز میں پھیلاؤ کے حوالے سے پاکستان میں کئی ممالک سے زیادہ تیزی سے کمی آئی۔ ڈاکٹر ظفر مرزانے کہا کہ بروقت فیصلہ سازی اور اللہ کی رحمت سے ہم جلد ہی وباء کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں آگئے،سمارٹ لاک ڈاؤن، ایس او پیز پر عمل درآمد اور ٹی ٹی کیو کی حکمت عملی پر عمل درآمد کیا گیا،این سی او سی کے قیام سے ملکی سطح پر وباء کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے مانیٹرنگ کے عمل کو بہتر بنایا گیا،حکومت کی جانب سے پہلی دفعہ پی ایم ڈی سی میں اصلاحات کا عمل شروع کیا گیا ہے،پی ایم ڈی سی کرپشن اور نااہلیت کا منبہ بنا رہا، جس میں سسٹم سے مالی فوائد کے لیے پالیسیز بنائی گئی تھیں،پی ایم ڈی سی قانون سے ریگولیٹری اتھارٹی کو جدید طریقوں سے استوار کیا جاسکے گا،ملک میں سرکاری ہسپتالوں کے معیار ناکارہ ہوچکے ہیں،حکومت کی جانب سے تمام ہسپتالوں میں اصلاحات کے عمل کی کوشش جاری ہے،حکومت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں کو پرائیوٹائیز کرنے کے حوالے سے تمام خبریں من گھڑت ہیں،ہسپتال حکومت سرپرستی میں ہی چلیں گے لیکن انتظامی امور اور بہتر فیصلہ سازی کیلئے لوکل مینجمنٹ کی خدمات لی جائیں گی،غریب مریضوں کو علاج کی فراہمی جاری رہے گی تاہم معیار پہلے سے بہتری کی جانب جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی میں ریفارمز کے ذریعے بیرون ملک سے تعلیم یافتہ ڈاکٹرز کے مسائل کو بھی حل کیا جائے گا، اس حوالے سے بڑے فراڈز کی مثالیں موجود ہیں، اِن میں سے کچھ دیگر ممالک سے لو لیول ڈگریز کے حامل ہیں،ہمیں فارن گریجوایجٹس کو مناسب پالیسی اور سیکورٹی کے بغیر لائسنس نہیں دینے چاہیں،پاکستان میں موجودہ ہیلتھ سیکٹر میں مسائل کی زمہ دار سابقہ حکومتوں کی پالیسیاں ہیں،سابقہ ادوار میں ہیلتھ سیکٹر کے مسائل کو کبھی بھی ترجیحی بنیادوں پر حل نہیں کیا گیا،یہ دیکھ کر حیرانگی ہوتی ہے وہی لوگ آج ہیلتھ سیکٹر میں ترقی کے چیمپئن بننے کی بات کرتے ہیں،پی ٹی آئی حکومت تمام تر مسائل سے آگاہ ہے اور دن رات مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

مزید :

قومی -