لالہ ئ  صحرائی: میرے بزرگ، میرے دوست 

لالہ ئ  صحرائی: میرے بزرگ، میرے دوست 
لالہ ئ  صحرائی: میرے بزرگ، میرے دوست 

  

محترم محمد صادق صاحب (لالہ ئ  صحرائی) مرحوم و مغفور سے تعارف اس زمانے میں ہوا جب ہم لوگ 1947ء میں مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے جہانیاں میں سکونت پذیر ہوئے۔ میری عمر اس وقت ۱۱سال تھی اور میں ہائی سکول جہانیاں میں پانچویں جماعت میں زیرتعلیم تھا۔ وہ اکثر والد محترم چودھری نذیر احمد صاحب مرحوم و مغفور سے ملاقات کے لیے آتے تھے۔ والد صاحب سے ان کا یہ تعارف دینی اور نظریاتی بنیاد پر تھا۔ دونوں حضرات جماعت اسلامی سے وابستہ تھے اور سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے لٹریچر سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ محترم محمد صادق صاحب جب بھی والد صاحب سے ملنے آتے تو ہماری بھی ان سے ملاقات ہوجاتی تھی، یعنی یہ تعلق والد صاحب کے واسطے سے تھا، براہ راست نہیں تھا۔ اس کے بعد جب میں سنِ شعور کو پہنچا، میٹرک پاس کیا، کالج میں داخل ہوا تو ان کے ساتھ براہ راست ایک تعلق پیدا ہوگیا جو ان کی زندگی بھر ہمیشہ قائم رہا۔ اب میں ان کی نظر میں چودھری نذیر احمد صاحب کا ایک سکول جانے والا بچہ نہ رہا تھا بلکہ ان کا ایک کم عمر جونیئر دوست تھا جس پر وہ ہمیشہ شفقت فرماتے رہے۔ 

جب میں نے میڈیکل کی تعلیم مکمل کرکے لاہور میں رہائش اختیار کرلی تو محترم والد صاحب ملتان شہر میں قیام پذیر ہوگئے۔ حکیم محمد عبداللہ صاحب اور ان کے فرزند حکیم عبدالحمید سلیمانی جو میرے بہنوئی تھے، جہانیاں میں ہی رہے۔ ان سے ملاقات کے لیے سال میں ایک دو مرتبہ جہانیاں جانا ہوتا تھا۔ محترم محمد صادق صاحب کا گھر بھائی عبدالحمید صاحب کے گھر سے ملحق تھا۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ میں جہانیاں جاؤں اور ان سے ملاقات نہ ہو۔ انھیں بھائی عبدالحمید صاحب کے ذریعے میرے پروگرام کا پہلے ہی پتا چل جاتا تھا اور وہ میرے منتظر ہوتے تھے اور صبح ہی کہلا بھیجتے کہ انھیں ملے بغیر نہیں جانا۔ ان کی یہ محبت بالکل بے لوث اور پُرخلوص تھی۔

محترم محمد صادق مرحوم بہت پراثر شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے بارے میرے ذہن میں ہمیشہ ایک خوش لباس، صاف ستھرے اور نفاست پسند انسان کا تصور آتا ہے۔ اکثر شیروانی پہنتے تھے اور سر پر جناح کیپ ہوتی تھی۔ میں نے کبھی ان کو بلند آواز سے بولتے نہیں سنا۔ ہمیشہ دھیمے لہجے میں بات کرتے تھے۔

جہاں تک مجھے یاد ہے محترم محمدصادق صاحب طویل عرصے تک مولانا حکیم محمدعبداللہؒ کے دواخانہ سلیمانی جہانیاں سے بھی منسلک رہے۔ وہاں صدربازار میں دوسری منزل پر ان کا دفتر تھا۔ ہمارا وہاں اکثر جانے کا اتفاق ہوتا تھا۔ جہانیاں کے باہر سے کوئی اہم شخصیت آتی تو اسے بھی انھی کے دفتر میں لے جایا جاتا۔ ایک مرتبہ مجھے یاد ہے کہ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب جو اس وقت جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر تھے، پنجاب کے صوبائی انتخابات کے سلسلے میں مختلف شہروں کا دورہ کرتے ہوئے جہانیاں پہنچے تو محمدصادق صاحب کے دفتر ہی میں ان کی لوگوں سے ملاقات کرائی گئی۔ میں خود بھی اس مجلس میں موجود تھا۔ 

محترم محمدصادق صاحب کی اصل پہچان ادیب کی تھی۔ لالہ ئ  صحرائی تخلص کرتے تھے۔ ابتدا میں جب مجھے ان کے اس تخلص کا پتا چلا اور اس کے معنی معلوم ہوئے تو یہ تخلص مجھے بہت اچھا لگا۔ اس وقت وہ شاعر نہیں تھے۔ میرے خیال میں انھوں نے شاعری صرف نعت گوئی کے لیے اختیار کی اور یہ اس وقت ہوا جب وہ اپنے دونوں بیٹوں ڈاکٹر جاوید اور ڈاکٹر نوید کے پاس طائف گئے جہاں یہ دونوں بھائی سعودی ہسپتالوں میں کام کر رہے تھے۔ وہاں انھیں کافی وقت مدینہ منورہ میں گزارنے کا موقع ملا اور نعت نگاری کی ابتدا حرمین شریفین میں مانگی دعاؤں کی قبولیت کے صدقے ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے کثیر تعداد میں نعتیں لکھیں اور ان کی نعتوں کے کئی مجموعے یکے بعد دیگرے شائع ہوتے رہے اور کچھ مجھے بھی پہنچتے رہے۔ میری معلومات کی حد تک انھوں نے کبھی بھی یہ کتابیں تجارتی نقطہئ نظر سے نہیں چھاپیں۔ اکثر چھاپ کر لوگوں میں مفت تقسیم کردیتے تھے اور دوستوں کو تحفتاً دے دیتے تھے۔ 

ادیب ہونے کے ناطے محمد صادق صاحب کے اس زمانے کے اکثر معروف ادیبوں سے رابطے تھے اور شناسائی سے بڑھ کر دوستی بھی تھی۔ یہ پاکستان کے ابتدائی سالوں کی بات ہے کہ ایک مرتبہ احمد ندیم قاسمی مرحوم ان سے ملنے کے لیے جہانیاں آئے۔ وہاں اور بھی بہت سے مقامی لوگ احمد ندیم قاسمی سے ملنے آئے۔ اس محفل میں مَیں بھی موجود تھا۔ ان دنوں ”انجمن ترقی پسند مصنّفین“ کا بہت چرچا تھا۔ انجمن میں بہت سے کمیونسٹ ادیب بھی تھے۔ احمد ندیم قاسمی مرحوم بھی اس انجمن کے سرگرم رکن تھے۔ اس روز جب وہ محمدصادق صاحب کے ہاں سے رخصت ہوگئے تو اس محفل میں کسی نے اُن سے پوچھا کہ کیا احمد ندیم قاسمی بھی انجمن ترقی پسند مصنّفین کے رکن ہیں؟ محمد صادق صاحب نے جواب دیا کہ ہاں، وہ بھی اس انجمن کے رکن ہیں لیکن ان میں اور دوسرے بہت سے ارکان میں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ اس انجمن کے اکثر ارکان دل سے کمیونسٹ نہیں ہیں۔ احمد ندیم قاسمی مخلص ترقی پسند ہیں، منافق نہیں ہیں۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے۔ لیکن جہاں تک میری معلومات ہیں، بعد میں احمد ندیم قاسمی کمیونسٹ نہیں رہے تھے۔ دین کی طرف بہت رجحان تھا اور اس حال میں اللہ کو پیارے ہوئے۔ 

محترم محمدصادق صاحب سے آخری ملاقات ان کے نئے گھر میں ہوئی جو پرانے گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھا۔ مجھے اس ملاقات کی تاریخ یا سال یاد نہیں۔ میرے ساتھ بھائی عبدالحمید سلیمانی اور عبدالوحید سلیمانی بھی تھے۔ تھوڑی دیر بعد وہ مہمانوں کی تواضع کے لیے کچھ لانے کے لیے گھر کے اندرونی حصے میں جانے لگے تو ہم نے انھیں بہت منع کیا کہ کسی تکلف کی ضرورت نہیں ہے لیکن انھوں نے ہمیں چائے پلائے بغیر جانے نہیں دیا۔ بھائی عبدالحمید صاحب کہنے لگے کہ یہ ہمیں ایسے جانے نہیں دیں گے اور شاید انھوں نے یہ بھی کہا کہ محمدصادق صاحب کو اگر تواضع سے منع کیا جائے تو وہ بُرا مانتے ہیں، اس لیے وہ جو بھی کرتے ہیں انھیں کرنے دیں۔ اس ملاقات کے تھوڑے ہی عرصے بعد محمدصادق صاحب خالقِ حقیقی سے جاملے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، میں اس وقت ملک سے باہر تھا اس لیے ان کے جنازے میں شریک نہیں ہوسکا لیکن وہ ان خفتگانِ خاک میں سے ہیں جن کو میں اکثر یاد کرلیتا ہوں۔ 

مزید :

رائے -کالم -