حکومت کی تبدیلی اور نوکرشاہی کے مسائل

حکومت کی تبدیلی اور نوکرشاہی کے مسائل
حکومت کی تبدیلی اور نوکرشاہی کے مسائل

  

حکومتوں کی تبدیلی کے بعد بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ شروع ہو جاتی ہے اور کئی افسران کے یا تو تبادلے کر دیے جاتے ہیں یا ان کو دور درازعلاقوں میں بھیج دیا جاتا ہے تاہم کچھ افسران ایسے بھی ہیں جن کی چاندی ہو جاتی ہے۔کچھ ایسا ہی اب شہباز شریف کے اقتدار میں آنے کے بعد ہوا ہے، جہاں ایف آئی اے کے چند افسران کا مبینہ طور پر تبادلہ کردیا گیا ہے جبکہ وفاقی نوکرشاہی میں مزید افسران کے تبادلوں کا امکان بھی ہے اب ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کے تبدیل ہونے کی صورت میں  ایک بار پھر پولیس سمیت بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلے عمل میں لائے جائیں گے۔ اس حوالے سے ایک سابق بیوروکریٹ سے رابطہ کیا اور ان سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کس طرح کی بے چینی اور اضطراب کی کیفیت میں بیوروکریٹس ہوتے ہیں جب ملک میں حکومت کی تبدیلی ہوتی ہے اور بیوروکریٹس کو کن مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے  ایک سابق  سیکرٹری نے اپنانام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قانونی طور پر ہر بیوروکریٹ اس بات کا پابند ہے کہ اس کی جہاں پر بھی پوسٹنگ ہو وہاں پر وہ خدمات انجام دے۔

انہوں نے بتایاتو بہت سارے افسر شاہی کے افسران ذہنی طور پر اس حوالے سے تیار ہوتے ہیں لیکن سب سے زیادہ مسئلہ ایک فیملی کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ جو افسر جس شہر میں رہ رہا ہوتا ہے اس نے اپنے بچوں کے داخلے مختلف اسکولوں میں کرائے ہوئے ہوتے ہیں جہاں ان کے دوست یار ہوتے ہیں اور بچوں کو یہ بات سمجھانا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ وہ ایک شہر کو چھوڑ کر دوسرے شہر کیوں جا رہے ہیں جہاں پر ان کے دوست یار نہیں ہوں گے۔سیکرٹری کے مطابق ''فیملی اس وقت بھی یقینا بہت پریشان ہوتی ہے جب کسی افسرکا کوئی نئی حکومت تبادلہ ایسے علاقے میں کردے جو شورش زدہ ہو۔  ایسے میں فیملی نفسیاتی طور پر بہت زیادہ پریشان ہو جاتی ہے اور اس افسر پر فیملی کی طرف سے دباؤ ہوتا ہے کہ وہ اس جگہ نہ جائے اب اس کے درمیان ایک طرف فیملی ہوتی ہے اور دوسری طرف اس کی نوکری اور لازمی بات ہے کہ وفاقی اداروں میں نوکری بہت محنت کے بعد ملتی ہے خصوصاً وہ افراد جو سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے آتے ہیں ان کے لیے ایسے لمحات بہت زیادہ پریشان کن ہوتے ہیں۔

لاہور پولیس کے ایک سابق سی سی پی او کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کے آتے ہی ساتھ کچھ بیوروکریٹس کی چاندی ہو جاتی ہے اور کچھ کو سزا ملتی ہے۔ انہوں نے بتایا، ہر وزیر اعظم اور وزیر اعلی اپنی ٹیم لے کر آنا چاہتا ہے جیسے نواز شریف فواد حسن فواد اور اس کے ساتھی بیوروکریٹس کو لے کر آئے تھے اور عمران خان اعظم خان کو لے کر آئے تھے۔ تو سیاسی طور پر جو بیوروکریٹس پہچان رکھتے ہیں ان کے لیے پریشانی ہوتی ہیں۔ لیکن پچاس فیصد ایسے بھی بیوروکریٹس ہوتے ہیں جو اپنی آزادانہ رائے رکھتے اور اس کا اظہار بھی کرتے ہیں اس طرح کے بیورو کریٹس کو بھی نئی حکومت کے سامنے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔“صوبوں میں بھی صورت حال اس سے مختلف نہیں ہوتی،ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی کامیابی پرپنجاب بالخصوص لاہور میں تعینات افسران میں تبادلوں کے حوالے سے ایک بار پھر کھلبلی مچ گئی ہے،کچھ افسران ایسے ہوتے ہیں جن کی شناخت اور تعیناتی سیاسی جماعتوں کے نام سے ہوتی ہے۔سابق سی سی پی او کے بقول بیس فیصد بیوروکریٹ ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ ''ایسے بیوروکریٹس عموماًٰ ہر حکومت کے ساتھ آسانی سے چل لیتے ہیں اور ان کے لیے کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔“یادرہے کہ جن کا تعلق ڈیولپمنٹ پروجیکٹ سے ہوتا ہے ان کو ہٹائے جانے کی وجہ سے سرکار کا اچھا خاصا پیسہ اور وسائل ضائع ہوتے ہیں۔

''ایک پروجیکٹ کو بنانے کے لیے آپ کو ریسرچ کرنا پڑتی ہے فیزیبیلیٹی رپورٹ بنتی ہے اس کے حوالے سے افسران کے کئی دورے ہوتے ہیں، ملاقاتیں ہوتی ہیں، ان کی رپورٹیں لکھی جاتی ہیں لیکن جب کوئی نیا وزیراعظم یا وزیر اعلی آکر اس پروجیکٹ میں دلچسپی نہ ظاہر کرے اور اس پروجیکٹ کو بند کر دیا جائے تو یقیناً وہ سارا پیسہ اور وسائل جو پہلے استعمال کیے گئے تھے وہ ختم ہو گئے۔پریشانی صرف وفاقی نوکر شاہی میں نہیں ہوتی بلکہ صوبائی نوکرشاہی بھی حکومتوں کی تبدیلی کی وجہ سے پریشان رہتی ہے۔ گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر، جن کا تعلق بلوچستان کے شہر تربت سے ہے، کا کہنا ہے کہ سردار اپنی پسند کے بیوروکریٹس کو لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ''ہمارے صوبے میں سرداروں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسے بیوروکریٹس کو لائیں، جو انکو کما کر دیں جو بیوروکریٹس قابلیت رکھتے ہیں اور کسی طرح کی کرپشن میں ملوث نہیں ہوتے ہیں ان کے لیے چیزیں نسبتاً نئی حکومت کے آنے کے بعد مشکل ہو جاتی ہیں۔وفاق کے حوالے سے ان کا کہنا  ہیکہ،وفاقی سطح پر معتوب افسران کو ایسے اداروں میں بھیج دیا جاتا ہے جن کو پرکشش نہیں سمجھا جاتا۔ جبکہ جو منظور نظر بیوروکریٹس ہوتے ہیں ان کو کسٹم، پولیس، وزارت خارجہ اور اسی طرح کے اچھے اداروں میں بھیج دیا جاتا ہے۔سابق سی سی پی او کے بقول ریاست کا پیسہ اس طرح بھی ضائع ہوتا ہے کہ جو افسران منظور نظر نہیں ہوتے ان کو او ایس ڈی بنا دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ریاست سے تنخواہیں تو لیتے رہتے ہیں لیکن وہ کسی طرح کا کام نہیں کرتے۔

مزید :

رائے -کالم -