باپ رے باپ۔۔۔

باپ رے باپ۔۔۔

جگنو ۔۔۔

باپ رے باپ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جگنو ۔۔۔ روزنامہ پاکستان کی ویب سائٹ کے ایک ریڈر نوید حسن صاحب نے بذریعہ فیس بک (http://www.facebook.com/DailyPakistan.OfficialPage) پوچھا ہے کہ بجلی کا مسئلہ کب حل ہو گا؟؟؟ آسان سا جواب تو یہ ہے کہ جب پاکستان میں اُتنی بجلی پیدا ہو گی جتنی پاکستانیوں کو ضرورت ہے تو یہ مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن یہ جواب تو ہر کوئی جانتا ہے لیکن جو سوالات میرا پونے تین سال کا بیٹا مجھ سے پوچھتا ہے اُن کا جواب میرے لیے مشکل پیدا کر دیتا ہے۔۔۔ وہ کہتا ہے بابا بجلی کیوں جاتی ہے؟؟؟ (اگرچہ وہ بجلی کا صرف لفظ ہی جانتا ہے ،یہ نہیں جانتا کہ اِس کا مطلب کیا ہے ،باوجود اِس کے کہ جب بجلی آتی ہے تو وہ زور زور سے چلانا شروع کر دیتا ہے’لائٹ آ گئی۔۔۔لائٹ آ گئی‘ ۔۔۔)

اِسی طرح کے معصوم اور مختلف مگر درست سوالات وہ کرتا ہی رہتا ہے لیکن میرے پاس اِن سوالوں کے صحیح جواب نہیں ہوتے اور میں کمال مہارت سے اُسی طرح کے جوابات سے اُس کا دِل بہلاتا ہوں جیسے ہمارے حکمران ہمارا دِل بہلاتے ہیں لیکن حکومت کی نسبت ہم باپوں کو ایک نقصان ہے کہ نہ تو ہم وزیروں کی طرح مسلسل جھوٹ بول سکتے ہیں اور نہ ہی ہمارے ’قلمدان ‘بدلے جا سکتے ہیں۔۔۔ چونکہ ’ہم اور ہمارے قلمدان ‘بدلے نہیں جا سکتے اِس لیے ہمیں ’مسلسل ‘کوئی نہ کوئی ’بات ‘بنانا پڑتی ہے جس کی وجہ سے مجھے تو لگنے لگا ہے کہ بچوں کو بڑا کرتے کرتے کہیں میں بھی ’پکا‘حکمران نہ بن جاﺅں جو بہلاتے تو ’ باپ ‘ کی طرح ہیں لیکن ’باپوں ‘ کی طرح اپنی قوم کےلئے کرتے کچھ نہیں ۔۔۔

مزید : بلاگ