سیاستدانوں کو بدنام کیوں کیا جاتا ہے؟

سیاستدانوں کو بدنام کیوں کیا جاتا ہے؟
سیاستدانوں کو بدنام کیوں کیا جاتا ہے؟

  

یوں تو دنیا بھر میں سیاستدانوں کی زندگی میں بہت زیادہ نیک نامیاں نہیں لکھی جاتیں۔شاید ہی کوئی سیاستدان ہو،جس پر عوام نے کوئی نہ کوئی الزام نہ لگایا ہو، لیکن پاکستان میں سیاستدانوں نے ضرورت سے زیادہ بدنامی اپنے نام لگائی ہے۔آمروں نے طویل آمریت کے دوران اپنی مرضی کا نظام لانے کے لئے سیاسی لوگوں کو بہت رسوا کیا اور بغیر کسی کا نام لئے سیاسی لوگوں کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہے گئے،لیکن آمریت کے ادوار کے بعد جب بھی سیاسی لوگوں کو موقع ملا تو ان میں بعض چالاک اور ہوشیار لوگوں نے کرپشن، اقراءپروری، جھوٹ اور ریا کاری سے بدنامی حاصل کی اور ایک دوسرے کے خلاف جھوٹے سچے الزامات کی مسلسل بوچھاڑ کرکے سیاست کو بدنام کیا،جو کسر باقی تھی، وہ آزاد میڈیا نے پوری کردی۔ان نازیبا اور بچگانہ حرکتوں کے باوجود اگر ہم نے اپنے ملک پاکستان کو دنیا میں باعزت مقام دلوانا ہے، اس کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے تو ہمیں اس ملک کو جمہوری راستے پر گامزن کرنا پڑے گا، اس کے لئے سیاستدانوں کو اپنے اندرونی خلفشار، مفادات اور گروہی سیاست کو ختم کرنا ہوگا، اپنے سیاسی مخالفین پر گھناﺅنے، گندے جھوٹے الزامات لگانے سے پرہیز کرنا ہوگا۔

آسمان سے فرشتے اتر کر ہماری مدد بالکل نہیں کریں گے۔ہمارا نظام حیات فرشتوں نے بنا کر نہیں دینا، ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی اکرم کی وساطت سے ایک مضبوط اور مکمل ضابطہ حیات عطا فرمایا ہے،جس کو اپنا کر ہم نے اپنی زندگی کے اندرونی و بیرونی معاملات خود ہی چلانے ہیں۔ہمارے پاس جو بھی اچھا ہے، برا ہے ۔ لائق ہے یا نالائق ہے۔ کمزور ہے یا طاقت ور اسی سے اپنے ملک کا نظام چلنا ہے اور زندہ رہنے کی کوشش کرنی ہے۔ ملک میں رہنے والے تمام طبقوں کو انتہا پسندی کی سوچ کو ختم کرنا ہوگا۔انتہاپسندی یا شدت پسندی، بہرحال ملک و قوم کے لئے نقصان دہ ہے۔ موجودہ دور میں جمہوریت کا نظام ہی ترقی کا ضامن سمجھا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں سول جمہوری نظام شائد عوام کو ہضم نہیں ہوتا یا سول حکمران کام اس طرح کے کرتے ہیں کہ عوام آمریت کو یاد کرنے لگتے ہیں۔

کراچی کے بعد اب لاہور کے چند حصوں میں بھتہ خوری کا رواج شروع ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔کراچی میں امن و امان قطعی طور پر ختم ہوچکا ہے۔صوبائی اوروفاقی حکومت کا انتظامی امور پر کوئی کنٹرول نہیں۔امیر ہو یا غریب، سب پریشانی کی زندگی گزار رہے ہیں، اس کے باوجود میرے خیال میں جمہوریت اور سیاستدان لازم و ملزوم ہیں جو حالات کی ستم ظریفیوں اور عوام سے بچ جائیں گے۔سیاستدان ووٹ کے ساتھ بنتا ہے اور ووٹ کی مجبوری سے مرتا ہے۔یہ سیاستدان کی کہانی ہے ۔ایک نجی ٹی وی چینل پر ہماری وزیرخارجہ حنا ربانی کھر کے بجلی کے بل کا چرچا ہورہا تھا۔پروگرام کا میزبان کیمرے سے بل دکھا رہا تھا، جو تقریباً سات کروڑ روپے کا تھا اور وزیرخارجہ صاحبہ نے یہ جمع نہیں کروایا تھا۔

اسی پارٹی کی ایک خاتون ناراض ہورہی تھیں کہ آپ لوگ شریف لوگوں کو بدنام کررہے ہیں۔ہوسکتا ہے ،انہوں نے عدالت میں کیس دائر کررکھا ہو۔میزبان یا کسی کو بھی وزیرخارجہ حنا ربانی کے قیمتی ہار، جو سفید ہیروں کا ہے یا ہزاروں ڈالروں کے چشمے، بیگ یا لاکھوں روپے کے جوتے کا ذکر کرنے کی قطعی ضرورت نہیں۔بجلی کا بل ادا کرنا یا نہ کرنا الگ کیس ہے۔واپڈا والے کسی آفیسر کو بلانا چاہیے تھا جو ہر مہینے بلوں میں اضافے کا اعلان کردیتے ہیں اور گزرے ہوئے کئی مہینوں کا بل ایڈجسٹمنٹ کے نام پر وصول کررہے ہیں۔موجودہ حالات میں پاکستانیوں نے جس صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی مثال شاید پوری دنیا میں بھی نہیں ملے گی،سابقہ ادوار میں پچاس پیسے چینی مہنگی ہونے پر حکومت ختم ہوگئی۔آٹا نہ ملنے پر بھی حکومت کی چھٹی ہوئی تھی۔مہنگائی اور امن و امان کی وجہ سے عوام سخت مشکلات میں ہیں، لیکن دھیان بجلی اور گیس کی طرف ہے۔

وزیرخارجہ کے بل کا بہت چرچا ہوا، حالانکہ میرے ملک میں بے شمار وزیر ،مشیر ہیں ،جو مفت کا مال کھا رہے ہیں اور عیش کررہے ہیں۔دوسرے صوبوں کا پتہ نہیں، لیکن پنجاب میں بے شمار لوگوں کو غلط بل بھیجے جارہے ہیں۔یہ کتنا ظلم ہے کہ وزیر،مشیر کروڑوں کے بل جمع نہیں کرواتے، لیکن سفید پوش افراد کو تنگ کیا جارہا ہے۔بجلی کی لوڈشیڈنگ چودہ گھنٹے اور بل ہزار گنا زیادہ۔تین سو یونٹ تک بجلی خرچ کرنے والے کو چودہ روپے فی یونٹ کے حساب سے بل بھیجا جارہا ہے اور غلط بل ہونے کے باوجود کہاجاتا ہے کہ 1/3حصہ جمع کروائیں، وہی بات کہ آمریت کے دور میں بھی عوام کے ساتھ اس طرح کاظالمانہ سلوک نہیں ہوتا تھا،شاید لوٹ مار کرنے والے کم لوگ ہوتے ہیں، ان کا خرچہ کم ہوتا ہے۔

میرے ملک کے صدر آصف علی زرداری ایک نہایت سمجھدار شخص ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلے اس طرح کا سیاستدان برسرِ اقتدار نہیں رہا ہوگا، جس نے اپنے مخالف ترین لوگوں کو اپنے ساتھ حکومت میں شامل کیا ہو۔ آفرین ہے آصف علی زرداری صاحب پر کہ چار سال آرام سے نکالے اور اب پانچواں سال بھی آڑام سے نکال لیں گے۔ان کی حکومت کو اور ان کو کوئی خطرہ نہیں، چونکہ عوام بجلی کے بل ادا کررہے ہیں۔نجی اور سرکاری املاک کو جلایا جارہا ہے، جلوس نکل رہے ہیں، عوام مررہے ہیں، لیکن زرداری صاحب نے مفاہمت کو رواج دے کر سب کو مات کردیا ہے، عوام کی جو بھی مشکلات ہیں، ان میں صدر آصف علی زرداری کا کوئی قصور نہیں۔وہ تمام اختیار پارلیمنٹ اور صوبوں کو منتقل کرچکے ہیں، اسی لئے کوئی بھی صوبائی اپوزیشن لیڈر یاوفاقی اپوزیشن لیڈر صدر آصف علی زرداری کے خلاف نہیںبولتے، کیونکہ تمام اپوزیشن عوامی مسائل میں برابر کی حصہ دار ہے۔  ٭

مزید : کالم