شہباز شریف اور عام آدمی

شہباز شریف اور عام آدمی
 شہباز شریف اور عام آدمی

  

میاں محمد شہباز شریف نے ثابت کردیاہے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے ،وہ اپنی اُن "حرکتوں" سے باز ہرگز نہیں آئیں گے،جنہوں نے اِس ملک کو جی بھر کر لوٹنے والے لٹیروں اور عوام کو اپنی ملازم سمجھ کر ظلم و ستم ڈھانے والوں، شدید گرمی میں قوم کو لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کرکے اپنے محلات روشن کرنے والے بے حس لوگوں کی نیندیں حرام کررکھی ہیں۔ شہباز شریف نے بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف عوامی احتجاج میں بغیر کسی سیکیورٹی اور پروٹوکول کے شرکت کرکے عوام سے اظہار یکجہتی کیا، مینار پاکستان پر خیمے میں آفس قائم کردیا، جہاں وہ باقاعدگی سے تو جاتے ہی ہیں ،مگرگذشتہ دنوں وہ ایک عام آدمی کی طرح بس میں سوارہوکر، کرایہ اداکرکے ٹینٹ آفس پہنچے۔وزیراعلیٰ پنجاب حقیقی معنوں میں خادمِ عالیٰ ہیں یہ بات آج نہیں بلکہ وہ بہت پہلے ثابت کرچکے ہیں ۔

 1997ءکی بات ہے جب میاں صاحب نے پہلی مرتبہ وزارتِ اعلیٰ کا قلمدان سنبھالا تھا۔ سخت ترین سردیوں کی ایک کہر زدہ رات تھی اور انسان و حیوان خون منجمد کردینے والی سردی سے بچنے کے لئے ٹھکانوں میں دبکے ہوئے تھے۔ رات کے پچھلے پہر جب سردی اپنے عروج پر تھی ماڈل ٹاﺅن کی ایک کوٹھی سے پرانے ماڈل کی سیاہ شیشوں والی کار نکلی ،جسے سر پر گرم ٹوپی پہنے ایک شخص ڈرائیو کررہا ہے۔ شہر کی مختلف سڑکوں اور گلیوں میں آہستہ آہستہ کار چلاتے ہوئے یہ شخص حالات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایک جگہ پولیس ناکے پر اسے مشکوک گاڑی جان کر روک لیا گیا، دروازہ کھول کر وہ شخص باہر نکلا تو سب کی سٹی گم ہوگئی ،کیونکہ وہ شخص کوئی اور نہیں ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف ہے۔ ایک اچھے حکمران کی طرح اپنی نیند اور آرام کی قربانی دے کر عوام کے مسئلے مسائل کا جائزہ لے رہا ہے۔ اسی طرح جب جیل روڈ تعمیر ہورہی تھی تو اکثر و بیشتر میاں صاحب تعمیری کام کا جائزہ لینے کے لئے دن تو ایک طرف آھی رات کو بھی اچانک پہنچ جایا کرتے تھے ۔ رات کے پچھلے پہر خود کو حتی المقدور حد تک پوشیدہ رکھ کر شہر کی حالت کا جائزہ لینا یا آدھی رات کو تنہا ہی تعمیری منصوبوں کا جائزہ لینے کے لئے پہنچ جانا یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ عوام کی خدمت کا فریضہ نمود و نمائش کی خاطر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے سرانجام دیتے ہیں، وگرنہ اِس صوبے کو ایسے ایسے حکمران بھی میسر آچکے ہیں، جن کے عزیز بھی اگر سفر کے لئے نکلتے تھے تو پروٹوکول کی خاطر سڑکوں پر عوام کی آمد و رفت جبراً روک دی جاتی تھی۔ خواہ اُس سے عوام کو جتنے چاہے ،مسائل درپیش ہوں اور چاہے کوئی مریض تڑپتا ہوا طبّی امداد کے انتظار میں دم توڑ جائے۔

میاں صاحب 20فروری 1997ءسے 12اکتوبر 1999ءتک پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے جس کے دوران انہوں نے صوبہ پنجاب کو عالمی سطح پر ایک ماڈل بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے،صوبے میں امن و امان قائم کیا، گھوسٹ سکولوں کا خاتمہ کیا، اقرباءپروری اور سفارش کی روک تھام کی، غیرضروری اخراجات کی روک تھام کی، پنجاب بھر میں سرکاری استعمال کے لئے کوئی نئی گاڑی نہیں خریدی گئی اور پولیس میں پہلی مرتبہ پڑھے لکھے نوجوانوں کی بھرتی خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر کی گئی۔ شہباز شریف کو اُن کے اہداف حاصل نہیں کرنے دئیے گئے اور اکتوبر 1999ءکو ایک آمر نے بھاری مینڈیٹ سے منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر جبری قبضہ کرلیا اور ملک کی تاریخ میں سیاہ ترین ابواب رقم کئے۔ بدقسمتی سے فروری 2008ءمیںملک پر وہ نام نہاد جمہوری حکومت مسلط ہوگئی، جس نے جمہوریت کے نام کو بٹہ لگایا اور ملک و قوم کو انتہائی گہرے زخم دئیے۔ پیپلز پارٹی حکومت نے اُسی آمر کو انتہائی عزت و احترام کے ساتھ گارڈ آف آنر دے کر ملک سے فرار کروایا، جس نے ملک کو تو تباہ کیا ہی ،لیکن جس پر خود پیپلز پارٹی کی رہنما محترمہ بینظیربھٹو کے قتل کے الزامات ہیں ۔میاں محمد شہباز شریف عوام کی خدمت کی جس "لت " میں مبتلا ہیں وہ آمریت کی سختیوں کے باوجودکم نہیں ہوئی، بلکہ کچھ بڑھی ہی ہے ۔

 2008ءمیں دوسری مرتبہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد میاں صاحب نے صوبے میں فروغ تعلیم کے لئے گرانقدر اقدامات اٹھائے ، نوجوانوں کو کمپیوٹرز دئیے، صوبے میں انفراسٹرکچر بہتر کیا، انڈر پاسز اور اوور ہیڈ برجز بنوائے، لیکن وفاقی حکومت چونکہ خود نااہل ہے اور کچھ بھی نہیں کررہی ،لہٰذا اسے پنجاب کے عوام کی خوشحالی بھی گوارا نہیں ۔اِسی لئے میاں محمد شہباز شریف کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی جارہی ہے، بجلی اور گیس کی فراہمی کے سلسلے میں پنجاب کو بُری طرح نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے نمائندے وہ "دانشور اور قابل" لوگ بھی میاں صاحب پر تنقید کررہے ہیں جو انگریزی توکیا اپنی قومی اُردو زبان میں بھی ایک فقرہ تک درست نہیں بول سکتے۔ خود اِن کی جہالت اور عوام دشمنی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ سال جب ڈینگی نے تباہی مچا دی ، ہزاروں لوگ بیمار اور سینکڑوں لوگ جان بحق ہوگئے، پیپلز پارٹی کے نمائندے عوام کو اِس آفت سے نجات دلانے کے لئے کردار ادا کرنے کے بجائے تکبر اور غرور کے بول بولتے اور یہ کہتے رہے کہ پنجاب حکومت ایک معمولی مچھر پر قابو نہیں پاسکی، حالانکہ خود کو خدا قرار دینے والے نمرود کی موت اِسی مچھر کی وجہ سے ہی ہوئی تھی اور آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی ہرسال کروڑوں افراد مچھر کی پھیلائی ہوئی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ شہباز شریف کے لئے یہ کہہ کر اِن جاہلوں کے منہ بند کرنا بہت آسان تھا کہ چلو تم ہی اِس مچھر پر قابو پاکر دکھا دو ،لیکن انہوں نے توانائیاں فضول سمت میں خرچ کرنے کے بجائے عوام کو اِس آفت سے چھٹکارا دلانے کے لیے ایم این اے پرویز ملک، اُن کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک اور دیگر ساتھیوں کی مدد سے بھرپور اقدامات اٹھائے جن کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔

پاکستان آج ایشین ٹائیگر ہوتا اگر پاکستان پر اس وقت مسلط حکمرانوں نے اِس چار روزہ زندگی میں عیش وعشرت اور لوٹ مار کا بازار گرم کرنے کے بجائے دلوں میں میاں صاحب جیسا جذبہ پیدا کیا ہوتا لیکن پیپلز پارٹی انتہائی محنت اور خلوص نیت کے ساتھ ملک کو حقیقی معنوں میں پتھر کے دور میں دھکیلنے کے لیے اپنی تمام توانائیاں صرف کررہی ہے ،جس کا ثبوت روزانہ چودہ چودہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ، کراچی اور بلوچستان میں آئے روز درجنوں افراد کی ہلاکت ہے۔ قومی انتخابات جلد ہی منعقد ہورہے ہیں، عوام روٹی کپڑے اور مکان کے نعروں کے جھانسے میں آکر ایک مرتبہ تو دھوکہ کھاچکی ہے، لیکن اب اُسے اِن نعروں کے فریب میں نہیں آنا چاہے۔ مسلم لیگ ن کا کردار بھی اُن کے سامنے ہے جس نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا، جس کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے ملک وقوم کی خاطر اقتدار سے علیحدگی اختیار کی اور جس کے وزیراعلیٰ آج بھی عوام کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہوکر دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور دوسری طرف پیپلز پارٹی کے کارنامے سب کے سامنے ہیں، جس نے عوام کو بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کا تحفہ دیا، ٹارگٹ کلنگ کو فروغ دیا، کرپشن کی انتہا کی اور اپنے سوئس بینک اکاﺅنٹ بھرے۔ عوام کا بہت بڑا حصہ تو مسلم لیگ ن کے ساتھ ہے ہی لیکن جیالوں کو بھی اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے ایک مرتبہ یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اُن کی قیادت نے انہیں کیا دیا؟[ناصر سعید تاجر رہنما او رمسلم لیگ ن کے ٹریڈرز ونگ کے کوچیئرمین ہیں]۔ ٭

مزید : کالم