احساس ِ تفاخر

احساس ِ تفاخر
احساس ِ تفاخر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کیا آپ کو یاد ہے کہ آخری مرتبہ کب آپ پوری قوت سے خوشی، یکجہتی اور قومی جذبے سے نعرہ زن ہوئے تھے یا ایک وارفتگی کی کیفیت میں ڈوب کر پرچم لہراتے ہوئے قومی ترانہ گایا تھا؟ میَں سیاسی جلسے جلوسوں یا ”مستعار شدہ “ریلیوں، جن میںبھرتی کے افراد، کچھ مفاد....روزی روٹی.... کی خاطر بے دلی سے نعرے لگا رہے ہوتے ہیں، کی بات نہیںکررہی۔ کیا وہ وقت پھر سے آئے گا؟ کیا اُمنگوںکی سنہری دھوپ میں اُن والہانہ جذبوںکی گونج سنائی دے گی ؟وہ روشنی جو کبھی اس سرزمین کو منور کررہی تھی، وہ خوشبو جو کبھی اس سرزمین سے پھوٹتی تھی اوروہ محبت جو اس دھرتی کے سینے میں دھڑکتی تھی کوہم دیکھ چکے ہیں، محسوس کر چکے ہیں اور اس بات کو زیادہ عرصہ نہیںگزرا ۔ اُس وقت پاکستانیت کا جذبہ توانا تھا اور لوگ اپنے سیاسی قائدین اور آئین کا احترام کرتے تھے....تاہم یہ سب منظر اس طرح بدل گیا، جیسے کبھی تھا ہی نہیں، پیتل پر سونے کی ملمع کاری ہونے لگی اور کوئلے کے بیوپاری ہیروں کا مول کرنے لگے۔ ہمارے کم ظرف سیاسی رہنماﺅںنے آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیر دیں، اپنے مفاد کو تحفظ دینے کے لئے قانون کو تبدیل کر دیا گیا اور جہاں اس سے بھی کام نہ چلا، بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس سے انحراف کیا گیا۔ عوام مشت ِ غبار کی طرح بے توقیرہو کر سول اور ملٹری استعمار کے ہاتھوں احتیاج کے صحرا میں بکھر گئے۔ ان کے مقدر کے ستارے دھندلا گئے۔

مَیں موجودہ ملکہ الزبتھ یا برطانوی شاہی خاندان کی کوئی بہت بڑی مداح نہیںہوں ،مگر گزشتہ ہفتے مَیں نے ٹی وی پر لندن میںہونے والی ڈائمنڈ جوبلی تقریات کو دیکھا۔ لاکھوں برطانوی شہری بارش میںکھڑے ہوکر نعرے لگارہے تھے....” ملکہ زندہ باد“۔ یہ منظر دیکھ کر میرا ذہن اُس وقت کو یاد کرنے لگا] جب 51 سال پہلے ملکہ اور ڈیوک آف ایڈن برگ نے لاہور کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کی بہت سی یادیں ہیں، جو خیالات کی روکے ساتھ بہتی رہتی ہیں، جو چیز میرے ذہن پر نقش ہے، وہ یہ ہے کہ ہم سب ”superbia“( احساس ِ برتری) کا شکار تھے۔ اس اصطلاح کا مفہوم ”بلاوجہ غرور اورخودستائی کا جذبہ ہے“۔ اس کی تجسیم کرنے سے گناہ کبیرہ وجود میں آتا ہے،تاہم آپ کہہ سکتے ہیںکہ چھوٹے موٹے احساس ِ تفاخر میںکیا حرج ہے؟ پاکستانی اس صنف میں کسی سے کم نہیں۔ آج حال یہ ہے کہ زیادہ تر پاکستانی اپنی خامیاں تلاش کرنے اور اپنے مصائب کی اصل وجہ جاننے کی بجائے مغرور، جوشیلے اور بد تہذیب ہونے کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ جریدہ ¿ عالم پر ان کا نام دھندلا رہا ہے۔

اُس شاہی جوڑے کی لاہور آمد سے قبل فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی، برطانیہ کا سفارت خانہ اور ہمارا دفتر خارجہ مسلسل رابطے میں تھے کہ اس موقع پر میرے والد صاحب اور والدہ صاحبہ کیا پہنیںگے؟ مہمانوں سے کس طرح پیش آیا جائے گا؟کب بات کی جائے گی، کہاں جائیںگے ، کھانے کا مینو کیا ہوگا اور تمام شرکا کس طرح شاہی مہمانوںسے پانچ قدم پیچھے رہ کر چلیں گے۔ اُس وقت تک پاکستانی انگریزوںکے نزدیک ”مقامی “ افراد ہی تھے، جن کو آداب سکھائے جانے کی ضرورت تھی، میری والدہ کو حکم ملا کہ سرخ لباس نہیں پہننا، کیونکہ ملکہ ¿ عالیہ یہ برداشت نہیںکرتیںکہ کوئی اور عورت اس رنگ کا لباس پہنے ۔ میری والدہ صاحبہ پریشان ہو گئیں، کیونکہ اُس موسم ِ سرما میں اُن کے پاس پہننے کے لئے جو ڈھنگ کا کوٹ تھا، وہ سرخ رنگ کا ہی تھا۔ والد صاحب کو ہدایت دی گئی کہ ائیر پورٹ پر شاہی جوڑے کی طرف ہاتھ بڑھانے میں پہل نہیںکرنی۔ اُس دورے میں....” یہ کرو ، اور وہ نہ کرو“ ....کی مصیبت کے علاوہ باقی معاملات بہت خوشگوار تھے۔ ہم نے بڑے چاﺅ اور پُر شکوہ طریقے سے اُن کو اپنے تاریخی مقامات کی سیر کرائی۔ جب وہ شاہی جوڑا لاہور کی سڑکوں پر سے گزر رہا تھا تو بے شمار لاہوری ہاتھوں میں پاکستانی پرچم لئے راستے کے دونوں طرف کھڑے تھے۔ وہ بڑی خوشی کے ساتھ جھنڈے لہرا رہے تھے۔

لاہور میں مغل شان و شوکت کی علامت شالامار باغ میں ٹی پارٹی کی گئی۔مسکرا کر ہاتھ ہلاتاہواشاہی جوڑا سرسبز گھاس کے میدان میں بچھی ہوئی میزوں کے پاس سے گزرا ،جبکہ پولیس بینڈ کی دلکش دھنیں کانوں میں رس گھول رہی تھیں۔ ارد گرد فوارے ان دھنوںکی لے پر رقصاں تھے۔ شاہی مہمان سفید سنگ ِ مرمر کی بارہ دری کی طرف بڑھے، جبکہ گور نر پنجاب نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد اور لاہور کے میئر بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ لاہور کی اُس دلفریب سہ پہر کو تمام ماحول سورج کی سنہری دھوپ میں نہایا ہوا تھا ۔ صدیوںکی تہذیب کے امین لاہور کے پُروقار شہری باغ میںموجود تھے۔ جب مئیر صاحب استقبالیہ خطبہ دینے کے لئے ڈائس پر آئے ، تو ہجوم میں مسکراہٹ کی ایک شائستہ سی لہر دوڑ گئی ،کیونکہ میئر صاحب ڈیوک صاحب کا نام بھول گئے (شاید وہ تلفظ کی ریہرسل نہیںکرپائے تھے) اور چند لمحے سوچنے کے بعد فرمایا....”ڈیوک آف ہنڈن برگ“۔ ڈیوک صاحب کے چہرے پر بھی ایک مہربان مسکراہٹ دیکھی جا سکتی تھی۔

ملکہ عالیہ کو چائے کی پارٹی میں مدعو کیا گیا اور یہ پارٹی گرل گائیڈ اور اپوا(آل پاکستان وومین ایسوسی ایشن ) کی طرف سے دی گئی۔ اس پارٹی کے لئے میری والدہ کو بہت سی ہدایات دی گئی تھیں کہ ذی وقار مہمان کو کیا پیش کرنا ہے، کس طرح استقبال کرنا ہے اور سواری سے اُترنے کے بعد سٹیج تک کیسے لے کر جانا ہے ۔ یہ ہدایت بہت واضح تھی....جو بھی ان کو پیش کیا جائے آپ کھانے کے لئے اصرار نہیںکریںگے، بلکہ جو ملکہ کی مرضی ہوگی، وہ چیز ہی کھائیںگی۔مزید یہ کہ اُن کے ساتھ بے تکلفی سے بات نہیںکرنی ....مختصر یہ کہ جب تک بولنے کی ضرورت نہ ہو، منہ بند رکھنا ہے۔ برصغیر میں اسلامی تہذیب کے عروج کے دور میں جمالیاتی ذوق کے حامل مغل دور میں تعمیر ہونے والے اس پُر شکوہ باغ کے پس ِ منظر میں ملکہ عالیہ لاہور کی خواتین سے مل کر بہت خوش ہوئیں۔ یقین کیجیے، خواتین کی پارٹی بھی نہایت پروقار خاموشی اور امن سے ہوئی !

کچھ عرصے بعد بعد ہم نے ملکہ معظمہ کو بکنگھم پیلس میں دیکھا۔ یہ 1964ءکا موسم بہار تھا۔ ہم نے روایتی ساڑھیاں، جبکہ والد صاحب نے شیروانی پہنی ہوئی تھی۔ لندن میں ہمارے سفارت خانے نے ہمیںسختی سے تاکید کی تھی کہ وقت پر آئیں۔ ہم پیلس کے آہنی دروازے پر کھڑے تھے اور ہمارے ہاتھ میں شاہی ٹی پارٹی کے دعوت نامے تھے، جو ملکہ اور ڈیوک ہر سال باقاعدگی سے دیا کرتے تھے۔ جب ہم قطار میں کھڑے تھے، تو ہماری ملاقات نوبل انعام یافتہ پروفیسر عبدالسلام اور اُن کی اہلیہ سے ہوئی۔ پروفیسر صاحب اپنے علاقائی لباس میں ملبوس تھے اور اُنہوںنے ایک بڑی سی پگڑی، جو جھنگ میں مقبول ہے، بھی باندھ رکھی تھی ۔ اُن کی اہلیہ نے سادہ سی قمیض شلوار پہنی ہوئی تھی۔ اُس وقت پروفیسر صاحب صدر ِ پاکستان کے مشیر برائے سائنسی امور تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کر ے۔ ایک سال بعد وہ ”پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی “ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کی کاوش سے ہی ”INSC“ (انٹر نیشنل نتھیاگلی سمر کالج آن فزکس “ کا قیام عمل میں آیا۔ یہ کالج آج بھی موجود ہے اور اس ماہ، اس کالم کی اشاعت کے تقریباً ایک ہفتے کے بعد دنیا پھر سے سائنس دان INSC کی 37 ویں کانفرنس میں شرکت کے لئے آئیںگے اور پاکستانی سائنس دانوںسے ملاقات کریں گے۔

نوبل انعام کے علاوہ عبدالسلام کو پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز بھی ملنا چاہئے تھا، مگر اُن کو پاکستانی معاشرے نے دھتکار دیا۔ جب وہ 1996ءمیں آکسفورڈ میں انتقال کر گئے، تو بھی پاکستان نے اُن کے جسد ِ خاکی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بہرحال اُ ن کو جھنگ کے نزدیک احمدیوںکے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ اُن کے لوح مزار پر کندہ الفاظ تھے....” پہلا نوبل انعام یافتہ مسلمان“ ۔ ایک مقامی مجسٹریٹ کے حکم پر لوح پر سے لفظ ”مسلم “ مٹا دیا گیا۔ اب الفاظ اس طرح ہیں.... ”پہلا .... نوبل انعام یافتہ“۔

چلیں مان لیا کہ ہم اُنہیں مسلمان نہیں مانتے، مگر کیا اُن کی قبر پر لفظ ”پاکستانی “ نہیںلکھا جا سکتا تھا؟ اُن کی وفات کے سولہ سال بعد آج ”لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز “(لمز)عبدالسلام چیئر کا قیام چاہتی ہے۔ پاکستان کا چوٹی کا تعلیمی ادارہ ہونے کے حوالے سے لمز کو پاکستان کے واحد نوبل انعام یافتہ شخص کی یاد میں چیئر کا قیام عمل میں لانے کے لئے فنڈز کا غالباً کوئی مسئلہ نہیںہوگا۔ اگرچہ بہت دیر ہوچکی ہے، مگر دیر آید درست آید.... لمز کے نئے چانسلر مسٹر عادل نجم صاحب کی اس اقدام میں حمایت کی جانی چاہئے تاکہ وہ احساس ِ تفاخر، جو کھو چکا ہے، کی کچھ جھلک واپس آجائے۔ ٭

مزید : کالم