طاقتور کے سامنے بولنے کی قیمت

طاقتور کے سامنے بولنے کی قیمت
 طاقتور کے سامنے بولنے کی قیمت

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جب مَیں اس مضمون کے لئے مواد اکٹھا کر رہا تھا تو اس دوران مجھے بے شمار دوستوںنے ای میلز بھیجیں، جن میں عاصمہ جہانگیر کو ملنے والی دھمکیوں کا ذکر تھا، مگر پھر میرے جی میل اکاﺅنٹ کے ساتھ کچھ عجیب معاملہ پیش آیا.... اب جب بھی مَیں اپنے جی میل اکاﺅنٹ کو کھولتا ہوں، تو باکس کے اوپر ایک سرخ رنگ کی لائن نمودار ہوتی ہے۔ اس کے بعد گوگل کی طرف سے ایک وارننگ جاری ہوتی ہے: ”خبردار ہمارا خیال ہے کہ ریاستی حملہ آور تمہارے اکاﺅنٹ یا کمپیوٹر کے ساتھ گڑ بڑ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنی حفاظت یقینی بنائیں“....مَیں نے گوگل کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اپنا پاس ورڈ تبدیل کر دیا اور گوگل کروم کو استعمال کرنا شروع کیا ، کیونکہ یہ نسبتاًزیادہ محفوظ ہے، تاہم یہ مسئلہ موجود رہا....(اس سلسلے میں انفو ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مشورے کا خیر مقدم کیا جائے گا).... اس مسئلے کی جہاں تک مجھے سمجھ آرہی ہے، و ہ یہ ہے کہ گوگل نے حال ہی میں ایسے اقدامات اُٹھائے ہیں کہ اگر خفیہ ایجنسیوںکی طرف سے صارفین کے اکاﺅنٹس میں جھانکنے کی کوشش کی جائے، تو وہ اُن کو خبردار کر دیں۔

مجھے مختلف آن لائن بحث و مباحثہ کرنے والے گروہوںکی طرف سے بھی میلز وصول ہوتی رہتی ہیں۔ اُن سے مجھے پتاچلتا رہتا ہے کہ آج کل انٹر نیٹ پر کون سے موضوعات زیر ِ بحث ہیں۔ ان پیغامات میں بہت سے شرکاءنے عاصمہ جہانگیر کو ملنے والی دھمکیوں کے ”مستند “ ہونے پر سوال اُٹھایا ہے۔ ایک ریٹائرڈ کرنل مسٹر جعفری نے سوال اُٹھایا ہے کہ ایک طاقتور وکیل اور انسانی حقوق کی سرگرم رکن نے ہماری خفیہ ایجنسیوں کو مورد ِ الزام ٹھہرانے کی بجائے قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے ایف آئی ار درج کیوں نہیں کرائی؟میرا خیال ہے کہ کرنل صاحب ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروںکی کارکردگی سے واقف نہیں ہیں، ورنہ وہ یہ ”صائب رائے “ کہ پولیس، آئی ایس آئی کے خلاف آیف آئی آر درج کرے، دینے سے احتراز کرتے۔ ایک اور شریک ِ گفتگو سائرہ منٹو نے عاصمہ پر جان بوجھ کر ہیجان خیزی پیدا کرنے کا الزام لگایا۔

کیا کوئی یہ سمجھتا ہے کہ عاصمہ کو اپنی حالیہ ”کہانی “ سے شہرت مقصود تھی ؟اس میں ہرگز کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے کہ وہ اس وقت سب سے مشہور پاکستانی ہیں جو عالمی سطح پر بھی جانی جاتی ہیں۔ وہ خاص طور پر انسانی حقوق کے حوالے سے لاچار اور مجبور افراد کا بڑی بے خوفی سے دفاع کرتی ہیں۔ اِس معاملے کی پوری تفہیم کے لئے سب سے پہلے مَیں اس میں اپنی ذاتی دلچسپی کا ذکر کر لوں تو بہتر ہے.... عاصمہ اور اُن کے شوہر طاہر جہانگیر (جو ٹی جے کے نام سے جانے جاتے ہیں) سے میری دوستی کوئی چالیس سال پہلے ہوئی۔ اس طویل عرصے کے دوران مَیں عاصمہ جہانگیر کی انسانی حقوق کے لئے لڑی جانے والی جنگ ، جس دوران کئی حکومتیں آئیں اور گئیں، کا معترف رہا ہوں۔ پاکستان کی گلیوں اور عدالتوں میں اُنہوںنے بڑے دلیرانہ طریقے سے خواتین اور اقلیتوں، جن کو جنس اور عقائد کی بنا پر ہدف بنایا جاتا ہے، کا ساتھ دیا ہے۔ انسانی حقوق کی خاطر جدوجہد کرنے کی پاداش میں وہ حراست میں بھی لی گئیں اور اُنہوں نے اس ارفع مقصد کی خاطر پنجاب پولیس کے جابرانہ رویے کو بھی بڑی جرات سے براشت کیا۔ ایسی شخصیت کے لئے یہ کہناکہ وہ سستی شہرت حاصل کرنے کی خاطر ایسا کررہی ہیں، اس طویل جدوجہد کی توہین کے مترادف ہے۔

جب مَیں نے عاصمہ جہانگیر سے رابطہ کرتے ہوئے اُن سے دریافت کیا کہ اُن کو کس نے بتایا کہ اُن کی جان کو خطرہ ہے؟ تو اُنہوں نے کہا کہ اگر اُنہوںنے نام لے دیا تو اُس شخص کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو جائیںگے، تاہم اُنہوں نے اس بات کی تصدیق کی۔ یہ معلومات مستند اور باوثوق ذرائع سے حاصل ہوئی ہیں۔ چونکہ ہم اپنی ایجنسیوںکی کارگزاری کو جانتے ہیں، اس لئے عاصمہ نے اطلاع دینے والے کا نام صیغہ ¿ راز میں رکھتے ہوئے عقلمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کے خلاف بلند ہونے والی آوازیں ہمیشہ کے لئے خاموش کراد ی گئیں۔ سلیم شہزاد کا بہیمانہ قتل ابھی یادداشت سے محونہیںہوا ۔ بہت سے دوسروں کو اغوا کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ بہت سے افراد پر خطرے کی تلوار منڈلاتی رہتی ہے، جبکہ کچھ کو رشوت دے کر خاموش کرا دیا گیا۔

اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اس وقت عاصمہ کا ”انتخاب “ کیوںکیا گیا ہے؟اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ تواتر سے کہہ رہی ہیںکہ بلوچ قوم پرستوں سے بات چیت کی جائے اور اس سلگتے ہوئے صوبے سے افراد کے ”غائب“ ہونے کا سلسلہ بند ہو۔ یہ مطالبہ شاید کچھ حلقوں پر گراں گزرا ہے۔ دوسری وجہ اُن کی طرف سے مسٹر حسین حقانی، جن کا نام بھی ہمارے جنرلوں کی پیشانی شکن آلود کر دیتا ہے، کا دفاع ہے ، یا شاید اُن کی طرف سے یہ بھی مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت سے احتراز کرے۔ یہ باتیں یقینا ہمارے ملک کے ”بڑوں“ کے لئے قابل ِ قبول نہیں ہیں۔

”فرائیڈے ٹائمز“ کے ایک اداریے نے ہمیں چونکا دیا کہ خفیہ اداروںسے تعلق رکھنے والے افراد کو باقاعدہ فوج کے اعلیٰ درجے میں شامل کیا جارہا ہے۔ فاضل اداریہ نویس کا کہناہے کہ پوری دُنیا کے عسکری اداروںکی روایت ہے کہ وہ خفیہ اداروںسے تعلق رکھنے والے افراد کے ہاتھ لڑاکا دستوںکی کمان نہیں دیتے ، تاہم ہماری موجودہ فوجی قیادت نے اس اصول کا خیال نہیں رکھا ۔یہ بات تو وزنی محسوس ہوتی ہے، مگر میرے پاس اس کی تصدیق کرنے کے ان ذرائع نہیں ہیں، تاہم اگر یہ بات درست ہے کہ ہماری ”قومی سلامتی “ کے تقاضے مزید تحفظات کو جنم دیں گے اور اس سے نمٹنے کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت پیش آئے گی۔ ہمارے ہاں پہلے بھی دفاعی اسٹیبلشمنٹ، سیاسی، عسکری، صنعتی اور سفارتی سرگرمیوںکو کنٹرول کرتی رہی ہے ۔ اگر اب خفیہ ادارے بھی اس کمان میں شامل ہو گئے تو اس اقدام کے ملک کی سول سوسائٹی پر بہت منفی نتائج مرتب ہوں گے۔

اس سے اُن افراد ، جیسا کہ عاصمہ جہانگیر، کے لئے بہت سے خطرات لاحق ہو جائیںگے، جو طاقتور کے سامنے بولنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ ہمارے ملک میں پہلے ہی لبرل، سیکولر اور منطقی مکالمے کے پیمانے سمٹ رہے ہیں۔پاکستانی خواتین اور اقلیتیں تیزی سے امتیازی سلوک کا نشانہ بن رہی ہیں اور وہ لوگ جو ان رویوںکے خلاف بات کرتے ہیں، ان کو بہت سے خطرات کا سامنا کر پڑتا ہے۔ اس سے پہلے میرے دوست سلمان تاثیر مرحوم کو بھی اس دلیری کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کرنا پڑی تھی۔ جنرل ضیاءالحق دور سے لے کر اب تک ربع صدی میں ہمارے معاشرے کے ہر شعبے میں انتہا پسندی در آئی ہے۔ گھروں، سکولوں، دفتروں، مدرسوں، عدالتوں ، حتیٰ کہ ٹی وی پروگراموں میں ہونے والی گفتگو میں مذہبی جذبات غالب آتے جا رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ ملک کی شہ رگ میں مذہبی عصبیت کا خون شامل چکا ہے۔

حالات کی سنگینی اس حقیقت کے ادراک سے بھی گہری ہو جاتی ہے کہ صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف ہونے والے جرائم اور پُرتشدد کارروائیوں میں نہ تو ا ب تک کوئی گرفتار ہوا ہے اور نہ ہی کسی کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ریاست ان بے خوف مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتی یا کرنے کی اہل ہی نہیںہے، تو ان حالات میں عام آدمی اس ملک کے قانونی نظام پر کوئی اعتماد نہیں رکھتا ۔ چند ایک ”گم شدہ افراد“ کے کیسوں کے سوا اعلیٰ عدلیہ کی تمام تر توجہ سیاسی نوعیت کے کیسز پر ہے اور عام آدمی کے مسائل سے اس کو کوئی سروکار نہیںہے۔

بظاہرعاصمہ جہانگیر کوبے کس و لاچار افراد کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ وہ ایک خوشحال خاتون ہیں اور ویسی ہی پُرآسائش زندگی بسر کر سکتی ہیں، جیسی کہ پاکستان کا اشرافیہ طبقہ بسر کرتا ہے، تاہم اُنہوںنے ایک مشکل اور پُرخطر راہ کا انتخاب کیا ہے۔ ہمیںاُن کی خدمات کو شک نہیں، بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔ کالم ختم کرنے سے پہلے مَیں بھی پوچھنا چاہتا ہوںکہ میرے میل اکاﺅنٹ میں کس ایجنسی کو دلچسپی ہے ؟

مصنف، نامور کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار ہیں ،جن کے کالم ملکی اور غیر ملکی اخبارات میں باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔  ٭

مزید : کالم