امر یکی صدارتی انتخابات کی پُرخار راہیں

امر یکی صدارتی انتخابات کی پُرخار راہیں
امر یکی صدارتی انتخابات کی پُرخار راہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 اگرچہ امریکی صدارتی انتخابات کے لئے ابھی تک امیدواروں کی رسمی نامزدگی عمل میں نہیں آئی،لیکن ڈیموکریٹس ظاہر ہے برسراقتدار صدر کے علاوہ کسے نامزد کریں گے اور ری پبلیکن مٹ رومنی کے بارے میں یک سو ہوچکے ہیں۔مٹ رومنی کے دو حریف سٹیورم اور سابق سپیکر نیوٹ گنگرچ نے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے اور مٹ رومنی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ بے چارے رون پاﺅل کو بھلا کون نامزد کرتا۔میرے خیال میں مٹ رومنی کی شخصیت کوئی کرشمہ ساز شخصیت ہرگز نہیں ہے،جس سے صدر بارک اوباما کو کوئی حقیقی خطرہ ہو سکتا ہے،لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ڈیمو کریٹس کی صفوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے اور صورت ہال کچھ ایسی ہے کہ سینٹ میں ڈیموکریٹس کو شکست ہوگئی۔یہ کمال جارج ڈبلیو بش کو حاصل تھا کہ ایوان میں اکثریت نہ ہونے پر بھی انہوں نے اپنے جنگی اقدامات کے حق میں ووٹ حاصل کرلئے۔صدر بارک اوباما کے تمام اقدامات الیکشن کے حوالے سے ہیں۔نیٹو سپلائی کی بندش بڑا مسئلہ ہے،لیکن صدر اوباما سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے معافی مانگ لی تو ان کے مخالفین اسے ان کی کمزوری قرار دے کر ووٹروں کو ان کے خلاف کردیں گے۔

صدر اوباما نے الیکشن کے پیش نظر واحد امریکی وفاقی محکمے پوسٹ آفس کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے دس بلین ڈالر دے کر اسے انتخابات تک رُک جانے کا کہا ہے۔آج ہی صدر نے امیگریشن کے بارے میں بھی ایک عجیب و غریب اعلان کیا ہے۔انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں جہاں گوانتاناموبے کو بند کرنے ،وہاں کے قیدیوں پر عام عدالتوں میں مقدمات چلانے کے وعدوں کے ساتھ ساتھ امیگریشن میں ترامیم کے عزائم بھی ظاہر کئے تھے،لیکن یہ سب وعدے تو دھرے رہ گئے۔اب انہوں نے ایسے نوجوانوں کے لئے جو بچپن میں یہاں آ گئے اور کسی جرم میں ملوث نہیں ہوئے، انہیں قانونی حیثیت دینے کی نہیں، محض ڈیپورٹ نہ کرنے کی خوشخبری سنائی ہے‘ حالانکہ ایسے بچے اگر غیر قانونی والدین کے ہیں تو انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اگر ان کے والدین کو ڈی پورٹ کردیاجائے۔اگر اس سے مراد قانونی طور پر مقیم والدین کے بچے ہیں تو عموماً ایسے بچوں کے کیس والدین نے دائر کررکھے ہوتے ہیں اور انہیں کوئی ڈی پورٹ نہیں کرتا، بلکہ ایسے بچے اگر نابالغ ہوں تو انہیں شہریت ملنے سے پہلے امریکی پاسپورٹ بھی مل جاتے ہیں۔ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ صدر اوباما نے کون سی خاص رعایت عنایت فرمائی ہے؟

گزشتہ انتخابات میں فلمی دنیا کی ایک معروف شخصیت مائیکل مور صدر اوباما کے زبردست حامی تھے۔افغانستان اور عراق سے فوجوں کی واپسی کے وعدے پورے کرنے کی بجائے مزید فوج افغانستان بھیجنے کے سلسلے میں وہ صدر اوباما کے خلاف ہوچکے ہیں.... ”وال سٹریٹ پر قبضہ کرو“ مہم میں اب وہ بہت سرگرم ہیں۔صدر اوباما نے اس بار جارج کمونی کے ہاں دعوت رکھی اور لوگوں کو لالچ دیا گیا کہ وہاں پہنچیں اور عطیات دیں۔گزشتہ سے پیوستہ ہفتے جیسکاپار کرکے ہاں مین ہٹن میں دعوت رکھی گئی۔ان دعوتوں میں شرکت کے لئے لاکھوں ای میل بھجوائی گئیں۔ایسی ای میل مجھے بھی ملیں ،جن میں کہا گیا کہ تین چار ڈالر کا عطیہ دے کر دعوت میں شریک ہونے کے لئے قرعہ اندازی میں شامل ہو جائیں۔صدر بارک اوباما اور ان کے میزبان اداکاروں کے ساتھ کھانا کھانے کا اعزاز حاصل کریں۔

مٹ رومنی خود امیر کبیر آدمی ہےں۔اب تک کے صدارتی امیدواروں میں راس پیرو ان سے زیادہ امیر تھے۔باقی سب ان کے مقابلے میں دولت کے حوالے سے کچھ بھی نہیں ہیں۔ری پبلیکنز نے فنڈز بھی بہت جمع کرلئے ہیں اور ڈیمو کریٹس کے لئے اس خوف کی وجہ یہی ہے، کیونکہ جب باقاعدہ انتخابی مہم شروع ہوگی تو مقابلہ پبلسٹی کا ہوگااور پبلسٹی میں برتری اسی کو حاصل ہوگی،جس کے پاس فنڈز زیادہ ہوں گے۔امریکی صدارتی انتخابات کے حوالے سے امریکہ کی باون ریاستوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔شمالی ریاستیں جنہیں ”نیلی“ ریاستیں کہا جاتا ہے‘ ڈیموکریٹس کی حامی ہیں۔درمیان میں کچھ ایسی ریاستیں ہیں، جو اپنی حمایت ادلتی بدلتی رہتی ہیں، انہیں Swing‘یعنی جھولنے والی ریاستیں قرار دیا جاتا ہے۔

مٹ رومنی اس وقت”سونگ ریاستوں“ پر توجہ دے رہے ہیں، لیکن ان کے پارٹی کے سابق صدارتی امیدوار سینیٹر جان مکین نے کہا ہے کہ مٹ رومنی کو غیر ملکی سرمایہ کاروں سے فنڈز نہیں لینے چاہئیں۔ان کا اشارہ جوئے خانوں کے ”بادشاہ“ شیلڈن ایڈلسن کے دس ملین کے عطیے کی طرف تھا،جس کا کاروبار چین تک پھیلا ہوا ہے۔جان مکین نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بھی تنقید کی، جس کے مطابق کارپوریشنوں کو شخصیات قرار دے کر ان کے عطیات حاصل کرنے کا راستہ کھول دیا گیا۔یاد رہے قانون کی زبان میں کارپوریشن ایک ”شخصیت“ ہی ہوتی ہے۔جان مکین نے صدر اوباماکو پاکستان سے حالات بہتر بنانے کے لئے معافی مانگنے کا مشورہ بھی دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو اہمیت دینے کا سلسلہ ترک کیا جائے۔مَیں نے ایک بار لکھا تھا کہ روایتی طور پر ری پبلکن کو پاکستان کا حامی اور ڈیمو کریتس کو پاکستان مخالف سمجھا جاتا رہا ہے۔

ہر سال بلڈربرگ کانفرنس منعقد ہوتی ہے۔اسی کانفرنس نے سب سے پہلے یورپ کو ایک متحد یونٹ بنانے کاتصور پیش کیا تھا۔اس میں چھان پھٹک کر لوگوں کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔اس سال اس کے شرکاءایک سو بیس تھے اور یہ ورجینیا میں Chantillyمیں منعقد ہوئی۔اس کے شرکاءسے حلف لیا جاتا ہے کہ کانفرنس کی کارروائی باہر نہیں بتائی جائے گی۔اس میں کوئی انہتر کے قریب امریکی‘ کچھ کینیڈین‘ کچھ میکسیکن اور یورپی ممالک کے بڑے بڑے لوگ شرکت کرتے ہیں۔چند صحافی بھی شریک ہوتے ہیں، لیکن ان سے بھی رازداری کا حلف لیا جاتا ہے۔چند صحافی کانفرنس ہال کی لابیوں تک پہنچ جاتے ہیں اوروہاں جو گپ شپ ہوتی ہے، اس کی خبریں دے دیتے ہیں، لیکن یہ صرف وہی آزاد میڈیا کرتا ہے،جسے متبادل میڈیا بھی کہا جاتا ہے، جو کارپوریٹ میڈیا مین سٹریم میڈیاکے برعکس حقائق کا انکشاف کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔اس بار بلڈربرگ کانفرنس کی لابیوں سے ایک ایسے ہی صحافی نے خبردی کہ وہاں کچھ شرکاءکو یہ کہتے سنا گیا کہ ری پبلیکن صدارتی امیدوار کانگریس مین رون پاﺅل کو کسی ہوائی حادثے میں مروا دینا چاہیے۔یہ ایک چونکا دینے والی بات تھی ،لیکن مین سٹریم میڈیا نے اس پر قطعاً کوئی توجہ نہیں دی۔

رون پاﺅل کے ایک چاہنے والے نے ان کی مہم کے دوران ان کے کچھ مقولے ایک ویب سائٹ پر جمع کئے ہیں،جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رون پاﺅل کی نامزدگی کے کوئی امکانات ہوہی نہیں سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا: ”یہ مفروضہ کہ حکومت کو یہ سب کچھ کرنا چاہیے‘ ایک غلط مفروضہ ہے، اس لئے مَیں نے ہوم لینڈ سیکیورٹی اور ٹی ایس اے کے خلاف ووٹ دیا تھا۔یہ بیورو کریسی کے عفریت ہیں“۔ہوم لینڈ سیکیورٹی جارج بش نے قائم کی تھی ،جس میں امیگریشن وغیرہ کے محکمے شامل کرکے ایک طاقتور ادارہ بنا دیا گیاہے، اس کے ماتحت ٹی ایس اے ٹریولنگ سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن ہے،جس کے طرزعمل سے خود امریکی بھی تنگ ہیں۔ہوم لینڈ سیکیورٹی کو وسیع اختیارات حاصل ہیں، جو بعض لوگوں کے مطابق امریکی آئین میں حاصل حقوق کے خلاف ہے۔پاﺅل نے سی این این سے ایک انٹرویو میں کہا:”مَیں نہیں سمجھتا کہ ہمیں چاند پر جانا چاہیے، البتہ ہمیں اپنے کچھ سیاست دان وہاں بھیج دینے چاہئیں“۔آئیوا میں بش حکومت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا:”سوچئے نائن الیون کے بعد کیا ہوا۔اس سے پہلے کہ کچھ اندازہ لگایا جاتا، انتظامیہ(بش انتظامیہ) کے چہروں پر چمک آ گئی، اب ہم عراق پر حملہ کرسکتے ہیں اور پھر طبل جنگ بج اُٹھا“۔

چارلسٹن ساﺅتھ کیرولینا کے مباحثے میں کہا: ”مَیں 1960ءمیں ڈاکٹری کی پریکٹس کرتا تھا، اس وقت اتنی حکومت نہیں تھی، اس لئے حالات بہتر تھے،گلیوں میں علاج سے محروم لوگ نظر نہیں آتے تھے“۔ مرٹل بیچ ساﺅتھ کیرولینا کے مباحثے میں کہا:”ہمیں اپنی خارجہ پالیسی میں یہ سنہری اصول اپنا لیناچاہیے کہ ہمیں دوسری اقوام سے وہ کچھ نہیں کرنا چاہیے،جو ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے ساتھ پیش آئے۔ہم ان ممالک پر لامتناہی بمباری کرتے ہیں اور پھر اظہار حیرت کرتے ہیں کہ یہ ہمارے خلاف کیوں ہیں“؟جے لینو(Jay Leno)کے پروگرام ”ٹونائٹ شو“ میں کہا:”سیکرٹ سروس کی طرف سے حکمرانوں کی حفاظت پر خرچ ہونے والا ہمارے ٹیکس کا پیسہ ہے اور میرے جیسا عام آدمی تو یہی سوچتا ہے کہ اس پیسے سے میری حفاظت کا سامان ہونا چاہیے ”سی این این کے نمائندے کی طرف سے اس سوال کے جواب میں کہ آپ مہذب رویہ اپنا کر مقابلے سے دستبردار کیوں نہیں ہو جاتے؟....”آپ مہذب رویہ اختیار کرکے مجھ سے احمقانہ سوالات کرنے سے باز کیوں نہیں آجاتے، اگر آپ ایسا کرسکیں تویہ آپ کا مہذب رویہ ہوگا“۔سی این بی سی(ٹی وی) سے بات کرتے ہوئے کہا:”کوئی اس لئے مقابلے سے دستبردار نہیں ہوتا کہ وہ پیچھے رہ گیا ہے ۔آپ کو دیکھنا چاہیے کہ آپ مقابلہ کس انداز میں کرتے ہیں اور کون جانے کوئی (دوڑ میں)آگے نکل جانے والا کہیں ٹھوکر کھا کر گر بھی سکتا ہے“۔

نیوہمپشائر میں انواراولا کی کومار دینے پر کہا:”اس کی ذمہ داری صدر پر عائد ہوتی ہے ۔ہم نے اپنے آئین کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے“۔لاس ویگاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا‘ ”جب معاملات بگڑتے ہیں تو لوگ کسی قربانی کے بکرے کو تلاش کرتے ہیں....(کوئی جواز یا بہانہ تراش لیتے ہیں)....مَیں ہرگز اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ ہماری سرحدوں پر لگائی جانے والی باڑ یا بندوقیں کسی مسئلے کا حل ہیں۔بعض لاطینی ممالک کی سرحدوں پر امریکی انتظامات کا اشارہ ہے ، تاکہ وہاں کے لوگ امریکہ میں داخل نہ ہو سکیں۔سی بی ایس پر انٹرویو میں کہا:”میرے خیال میں آب دوز ایک موثر ہتھیار ہے۔میرا خیال ہے کہ ہمیں اپنی حفاظت آب دوزوں کے ذریعے کرنی چاہیے اور اپنے فوجی واپس بلا لینے چاہئیں۔ دنیا کے ایک سو تیس ممالک میں ہماری موجودگی اور نوسوفوجی اڈوں کا قیام ایک فرسودہ خیال ہے“۔اے بی سی سے انٹرویو میں کہا کہ یقین کیجئے ذہنی انقلاب اس وقت جاری ہے ،جب یہ انقلاب آجائے گاتو سیاسی تبدیلی بھی واقع ہوگی اور مَیں اس سلسلے میں بہت پُرامید ہوں“۔شاید اس ذہنی انقلاب کی چاپ رون پاﺅل کو سنائی دے رہی ہو، لیکن یہ اس قدر مدہم ہے کہ کارپوریٹ میڈیا کے ہنگامے اسے کوئی نہیں سن پاتا، جس دن امریکہ کی اکثریت یہ چاپ سن لے گی ”ران پاﺅل“ کی نامزدگی کی امید کی جا سکے گی۔

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)  ٭

مزید : کالم