اگلی باری

اگلی باری
اگلی باری

  

 امریکہ عجیب و غریب ملک ہے، اس کے عوام بہت جلد رائے بدل لیتے ہیں۔ پچھلے دنوں امریکی صدر باراک حسین اوباما کی مقبولیت اپنے مخالف امیدوار مٹ رومنی سے زیادہ تھی، تمام خرابیوں کے باوجود خیال تھا کہ وہ معاشی بحران پر قابو پا لیں گے، لیکن حالیہ سروے کے مطابق اُن کی مقبولیت میں کمی ہوتی جا رہی ہے۔

 امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے جو بویا صدر اوباما کے لئے اُسے کاٹنا ضروری تھا اور اس میں جو کچھ اُگا وہ دُنیا نے دیکھا۔ افغانستان اور عراق پر حملے کی وجہ سے معاشی مشکلات پیدا ہوئیں۔ جارج بش تو اپنے گھر سدھارے اور سب کچھ صدر باراک حسین اوباما کے حصے میں آیا۔ اُن کا نعرہ تھا....” ہمیں تبدیلی کی ضرورت ہے.... مَیں تبدیلی لاﺅں گا“.... ظاہر ہے انہوں نے کوشش بھی کی، لیکن جارج بش ملکی معیشت کو اِس سطح پر لے گئے تھے، جہاں معاشی اور مالی بحران کے سوا کچھ نہیں تھا،جس کا اثر پوری دُنیا پر پڑا۔

امریکہ بے روزگاری سے دوچار ہے، بینک، معاشی ادارے اور بڑے سٹورز دیوالیہ ہو رہے ہیں، جگہ جگہ سے ملازمین کم کئے جا رہے ہیں، لوگ بے روز گار ہو رہے ہیں۔ حکومت کے پاس بھی اتنا سرمایہ نہیں کہ تمام ملازمین کو برقرار رکھ سکے،اِس لئے محکموں میں خاصی چھانٹی کی جا رہی ہے اور جنہیں کام پر روکا جا رہا ہے، اُن کی مراعات میں کمی کی گئی یا اگلے کئی سال تک اضافہ نہیں ہو گا، جس کی وجہ سے لوگوں میں بددلی پھیل رہی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ موجودہ سیٹ اپ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

امریکہ میں نظام بدلنے کا نعرہ تو لگایا جا سکتا ہے، لیکن اِس پر عمل کرنے کے لئے بہت کچھ درکار ہے، جو اوباما کے پاس ہونے کے باوجود نہیں ہے۔ امریکہ میں حزب اختلاف کے ممبران تعداد میں زیادہ اور مو¿ثر ہیں۔ وہ ایسے اقدامات منظور نہیں کرتے، جن سے موجودہ حکومت کے ہاتھ مضبوط ہو سکیں، اس لئے صنعت و تجارت اور ملک میں معاشی نظام بُری طرح متاثر ہوا ہے اور صدر اوباما اس پر مکمل طور پر قابو پانے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے۔

پاکستان میں جو جمہوری حکومت ہے ، وہ اپنی مدت پوری کر رہی ہے۔ حزب اختلاف کا خیال ہے کہ جمہوری حکومت نے کچھ نہیں کیا، اِس لئے حکمران یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں ایک اور ٹرم کا موقع دیا جائے تاکہ وہ جو منصوبے بنا چکے ہیں، ان پر عمل کر سکیں۔ امریکہ میں بھی یہی کچھ ہے، عوام میں خاصی تعداد اُن لوگوں کی ہے، جو صدر اوباما کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر نے بہت سے اقدامات لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے اٹھائے ہیں، جس کی وجہ سے ایک بڑے طبقے کو سہولتیں ملی ہیں، لیکن وہ ناکافی ہیں.... کتنے ہی لوگ ایسے ہیں، جن کا خیال ہے کہ اگر منتخب ہو گئے ، تو اوباما اگلی ٹرم میں خاصی تبدیلیاں لائیں گے۔ دیر یا سویر کامیابی اُن کی ہے۔

امریکی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ صدر عموماً دوسری ٹرم بھی جیت لیتے ہیں اور کوشش کر کے وہ کام کرتے ہیں، جو پہلی ٹرم میں نہ کر سکے ہوں۔ یہ ایک اچھی روایت ہے کہ نئے زمانے کے ساتھ نئے منصوبے ہوتے ہیں اور اُن پر عمل کا ارا دہ کیا جاتا ہے۔ ہمارے خیال میں صدر اوباما کو ایک موقع اور ملنا چاہئے۔ امریکی صدر نے اپنے دور میں کئی اہم کام کئے ہیں، جن میں امریکہ کے سب سے بڑے دشمن اُسامہ بن لادن کو انجام تک پہنچانا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکی فوج عراق سے واپس بلائی۔ اُن کے یہ دو کام ایسے ہیں، جن کی وجہ سے اُنہیں امریکی صدارت کے لئے اگلے چار سال ملنے چاہئیں۔

جارج بش نے جب دوسری ٹرم کے لئے الیکشن لڑا تو وہ خاصے غیر مقبول تھے، اس کے باوجود بھی وہ دیہی علاقوں سے خاصے کامیاب ہوئے۔ یوں دوسری ٹرم کے لئے بھی صدارت کے لئے منتخب ہو گئے، تاکہ عراق اور افغانستان میں اپنے کارنامے کو انجام تک پہنچا سکیں۔ انہوں نے عراق کے صدر صدام حسین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ یوں اپنے کارناموں میں ایک کا اضافہ کیا، لیکن صدر اوباما کو جنگ میں ڈال کر کہیں کا نہ رکھا اور وہ اپنی جان بچانے کی کوشش میں مزید اس دلدل میں دھنس گئے، جس کے نتیجے میں آج اُن کی مقبولیت کا گراف گر رہا ہے، لیکن ہمیں امید ہے کہ عوام اور امریکی عوام اُن کی مجبوریوں کو سمجھیں گے اور ایک موقع اور دیں گے تاکہ وہ اس تبدیلی کو لا سکیں، جس کا انہوں نے اپنے پہلے انتخاب میں وعدہ کیا تھا۔

پاکستان میں سلالہ چیک پوسٹ کا جوحادثہ ہوا اس کی وجہ سے پاکستان نے ناراض ہو کر نیٹو سپلائی روک دی۔ امریکہ کے لئے یہ معاملہ بھی خاصہ پریشان کن ہے۔ ظاہر ہے اس کا اثر اوباما انتظامیہ پر پڑا ہے اور بات پہنچتی ہے صدر تک۔ ان دنوں یہ سانحہ حالات پر بُرا اثر ڈالے گا۔ کچھ بھی ہو امریکہ کے عوام کو تمام پریشانیوں، دشواریوں کا علم ہے، وہ اس کی ساری ذمہ داری اوباما پر نہیں ڈالیں گے اور حالات کا تقاضا ہے کہ باراک اوباما کو مزید چار سال مل جائیں، جب پاکستان میں نعرہ لگ رہا ہے....” اگلی باری پھر زرداری.... تو پھر امریکہ میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا“۔

مزید : کالم