سعودی ولی عہد شہزادہ نائف کا سانحہ ¿ ارتحال

سعودی ولی عہد شہزادہ نائف کا سانحہ ¿ ارتحال

برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ نائف بن عبدالعزیز السعود طویل علالت کے بعد جنیوا میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اکتوبر2011ءسے اپنی وفات تک ولی عہد کے منصب پر فائز رہے ،انہیں سعودی عرب کے پہلے نائب وزیراعظم بننے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ وہ شاہ عبدالعزیز اور حساّ بنت احمد السودیری کے فرزند تھے۔ شاہ کی اولادِ نرینہ میں اُن کا 23واں نمبر تھا۔ انہوں نے سیاسیات اور سلامتی کے امور میں تعلیمی ڈگریاں حاصل کیں اسی لئے انہیں جواں عمری میں ہی داخلہ امور کا وزیر بنا دیا گیا۔1994ءمیں انہوں نے دہشت گردی میں ملوث سینکڑوں عسکریت پسندوں کی گرفتاری کا حکم دیا۔ اپریل2001ءمیں انہوں نے اچانک ایران کا دورہ کر کے سب کو حیران کر دیا۔ وہ قدامت پرست مذہبی رجحانات کے حامل سمجھے جاتے تھے، مگر سعودی خواتین کو شناختی کارڈ کا اجراءکر کے انہوں نے اپنے سافٹ امیج کو اُجاگر کیا، اِس سے پہلے سعودی خواتین کو انفرادی سطح پر شناختی کارڈ نہیں دیئے جاتے تھے، بلکہ وہ اپنے والد یا خاوند کے زیر کفالت رجسٹر کی جاتی تھیں۔ نائن الیون کے واقعہ کو انہوں نے صہیونی سازش کا شاخسانہ قرار دیا تھا اسی لئے امریکی اُن کے بارے میں تحفظات رکھتے تھے، مگر پھر2003ءمیں انہوں نے سعودی عرب میں القاعدہ کے خلاف سخت اقدامات کئے تو یورپ،امریکہ و پوری مغربی دُنیا اُن کی گرویدہ ہو گئی۔ ایک قدامت پرست مسلمان جو عورتوں کی مجلس شوری میں نمائندگی اور اولمپک گیمز میںحصہ لینے کے خلاف تھا اِس کا ایران کی طرف جھکاﺅ اور دہشت گردی کے خلاف سرگرم عمل ہونا سب کے لئے حیران کن تھا۔ ذاتی طور پر بے حد شرمیلے اور لئے دیئے رہنے والے شہزادہ نائف دُنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر سراپا احتجاج بنے سب سے بلند آہنگ رہنما تھے۔ انہوں نے علمائے اسلام سے اپیل کی وہ دہشت گردی کے خلاف جمعہ کے خطبوں میں عام مسلمانوں کو آگاہ کریں۔ بحیثیت نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ وہ داخلہ اور خارجہ امور میں پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ اسلامی دُنیا کے درمیان رشتے گہرے اور مضبوط بنانے کے لئے اُن کی مساعی جلیلہ یادگار ہیں ۔پاکستان کے ساتھ اُن کی محبت مثالی رہی۔ انہوں نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔ اُن کی وفات سے پاکستان سعودی عرب کے شاہی خاندان میں اپنے ایک مخلص دوست اور دیرینہ رفیق سے محروم ہو گیا ہے۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف سمیت پاکستان کے سیاست دانوں، عسکری و سول رہنماﺅں نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ نائف بن عبدالعزیز کی وفات پر جس گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے وہ پاکستانی عوام کے دل کی آواز ہے۔ پاکستان کے لوگ غم اور سوگ کی اِس گھڑی میں اپنے محب شاہی خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ ہماری دُعا ہے کہ اللہ کریم مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے۔

بدترین لوڈشیڈنگ:ایک عذاب

شدید گرمی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔ پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں بجلی کے تعطل کا دورانیہ 22‘ 22 گھنٹے تک پھیل چکا ہے۔ نوبت بایں جارسید کہ توانائی کے اس بحران نے ہسپتالوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اطلاع ہے کہ صرف لاہور کے ہسپتالوں میں 100 سے زیادہ انتہائی ناگزیر آپریشن بھی ملتوی کرنا پڑے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ جب بھی وزیراعظم غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ میں کمی کرنے کا اعلان کرتے ہیں‘ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ دوگنا ہو جاتا ہے۔ اتوار کو تعطیل ہونے کے باوجود بجلی کا شارٹ فال ساڑھے آٹھ ہزار میگاواٹ تک پہنچ گیا۔ بجلی کی بندش کا سبب پاور ہاﺅسز کو تیل اور گیس کی فراہمی میں کمی بیان کیا جاتا ہے۔ تیل اور گیس کی فراہمی میں یہ تعطل کیوں آرہا ہے‘ حکومت اس کا جواز بتانے سے قاصر ہے۔ تمام وسائل حکومت کے اختیار میں ہیں۔ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی استعداد طلب سے زائد ہے مگر حکومتی سطح پر بدانتظامی کے باعث معاملات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ پنجاب کی صنعتیں اور فیکٹریاں بند پڑی ہیں‘ مزدور بیروزگار ہو رہے ہیں۔ تاجر اپنی جگہ پریشان ہیں کہ کاروبار بالکل تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ زندگی کے مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد‘ تنظیموں اور تاجروں نے بجلی کی لوڈشیڈنگ فوری ختم نہ کرنے کی صورت میں احتجاج اور ہڑتالوں کی دھمکی دی ہے۔ وفاقی حکومت کو بحرانوں میں پھنسے ملک کو مزید کسی بحران سے بچانے کے لئے فوری طور پر بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔ آئی پی پیز کو فوری ادائیگیاں کرکے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ لوگ ذہنی عذاب سے نجات پاسکیں۔

لنڈی کوتل میں بم دھماکہ

خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل بازار کے قریب کھڑی گاڑی میں نصب بم دھماکے کے نتیجے میں 25 افراد جاں بحق جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوئے۔ شدید زخمیوں میں سے کئی ایک کی حالت نازک ہونے کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس افسوسناک حادثے کا المناک پہلو یہ ہے کہ یہ دھماکہ بھرے بازار میں عین اس وقت ہوا جب ایک طرف لوگ خریداری میں مصروف تھے تو دوسری طرف قریبی سکول میںبچے چھٹی کے بعد گھروں کو روانہ ہو رہے تھے۔ اطلاعات ہیں کہ دھماکے کی جگہ کے قریب امن لشکر کے رہنماﺅں کے اڈے ہیں جنہیں شدت پسندوں نے نشانہ بنایا۔ یہ ایک قابل نفرین حرکت ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان اپنا بہت کچھ کھوچکا ہے اور مسلسل خسارے میں جا رہا ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ دنیا ابھی تک پاکستان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہی۔ پاکستان کا صوبہ خیبرپختونخوا اس جنگ میں حالت امتحان میں ہے۔ یہاں کے غیور عوام بہادر اور حوصلہ مند ہیں جو عسکریت پسندوں کی طرف سے تسلسل کے ساتھ کی جانے والی بزدلانہ کارروائیوںمیں قیمتی جانوں کے ضیاع اور کروڑوں روپے کے مالی نقصان کے باوجود عزم و ہمت کے پیکر بنے اس عذاب مسلسل کا مقابلہ کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ اپنے عوام کو شدت پسندوں کے غیرانسانی حملوں سے بچانے کے لئے مو¿ثر اقدامات کرے۔

وزیر داخلہ رحمن ملک دھماکے کی رپورٹ طلب کرنے کے معمول تک ہی کارروائی نہ ڈالیں بلکہ عوام کو تحفظ دینے کے لئے ٹھوس اقدام کریں۔ لشکر امن کے رہنماﺅں پر اس سے پہلے جمرود میں بھی حملہ ہوچکا ہے‘ انہیں بھی اپنے ٹھکانوں کی حفاظت کے لئے فول پروف بندوبست کرنا چاہئیں۔ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو اس حادثے میں ہلاک شدگان کے ورثاءکی مالی امداد اور زخمیوں کو مفت علاج کی سہولت کے لئے فوری قدم اٹھانا چاہئے۔

مزید : اداریہ