سپیکررولنگ کیس: وزیراعظم کی سزا کے فیصلے کا دوبارہ جائز ہ لینے کے لیے لارجر بنچ بنایا جائے:اٹارنی جنرل

سپیکررولنگ کیس: وزیراعظم کی سزا کے فیصلے کا دوبارہ جائز ہ لینے کے لیے لارجر ...
سپیکررولنگ کیس: وزیراعظم کی سزا کے فیصلے کا دوبارہ جائز ہ لینے کے لیے لارجر بنچ بنایا جائے:اٹارنی جنرل

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپیکر رولنگ کیس میں سپیکر نے عدالت نوٹس پر اہناجواب داخل کرادیا ہے وزیراعظم کے وکیل اعتزازاحسن نے دلائل مکمل کرلئے ہیں جبکہ اٹارنی جنرل کے دلائل جاری ہیں جن میں انہوں نے درخواست کی ہے کہ عدالت لارجر بنچ بنائے جوسات رکنی بنچ کے فیصلے پر نظرثانی کرے جبکہ ایسی مثالیں موجود ہیں عدالتوں نے اپیل کے بغیر فیصلوں کو ری وزٹ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ سپیکر اور الیکشن کمیشن کے اختیارمیں عدالت مداخلت نہیں کرسکتی،سپریم کورٹ کا اختیار ملک کی حدود سے باہرنہیں ہے۔جس پرجسٹس جواد نے کہا کہ اس کا کیا مقصد ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ انہوں نے دوسرے ملک کی عدالت کو خط لکھنے کا کہا ہے۔جس پر جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ یہاں بات سپیکر کی رولنگ کی ہورہی ہے۔جسٹس جواد نے کہا کہ اس کیس میں نہ 60ملین کا ذکر ہے نہ سوئس اکاﺅنٹ کی بات ہوئی ہے،سپیکر نے کئی باتیں فیصلے میں نہیں کیں جو یہاں ہورہی ہیں۔ وہ جو بات کریں گے ہم وہ سننے کو تیارہیں مگر غیرمتعلقہ نہ ہو۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ پوائنٹ بہت اہم ہے وہ یہ دلیل نہیں چھوڑ سکتے۔سپریم کورٹ کو متاثرہ فریق کی حیثیت بحال کرنے کا اختیار نہیںلہٰذا نااہلی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا،جب بھی وزیراعظم کے خلاف فیصلے آئے عدالت نے نظر انداز کیا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر انہیں نہیں پتاکہ کیا کہنا ہے تو عدالت انہیں بتائے کے وہ کیا کہیں؟انہوں نے کہا کہ اگر ججز ناراض ہیں تو کیس کو کل تک لے جائیں۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نہیں اس کیس کو آج ہی سنا جائے گا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کو ناقابل عمل ہدایات پر سزانہیں دی جاسکتی، ملک میں توہین عدالت کا قانون ہی نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ سپیکر قومی اسمبلی عدالت کا احترام کرتی ہیں اسی لیے انہوں نے فیصلے میں کوئی سخت بات نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ کیا عدالتیں شاعری کی بنیاد پرفیصلے سنائیں گی ؟شاعر ی کے ذریعے ملک کے اعلیٰ ترین عہدیدار کی تضحیک کی جارہی ہے،سپیکر کیا شاعری دیکھتیں۔ا عدالت نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایاہے ججوں کے فیصلے کے تحفظ کا نہیں،عمران خان اور خواجہ آصف نے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے درخواستیں دیںجو مسترد کرکے پھینک دی جائیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم پر عدلیہ کی تضحیک کا چارج نہیں ہے،خواجہ آصف نے ان کے بارے میں ٹی وی پر جھوٹ بولا کیونکہ انہوں نے زندگی میں کبھی فحش اشارہ نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ کورٹ رپورٹنگ بند کی جائے یا ٹی وی پر براہ راست دکھائی جائے،ایگزیکٹوآرڈر پر بطور چیف جسٹس کو بحال کیا گیا۔وزیراعظم کی سزا کو ری وزٹ کرنے کے لیے لارجر بنچ بنایا جائے۔ایسے فیصلے موجود ہیں جن میں اپیل کیے بغیر کیسز کو ری وزٹ کیا گیا۔اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیس کی تیز رفتاری سے سماعت قانون کے خلاف ہے۔وہ باقی دلائل کل دیں گے جس پر کیس کی مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔سماعت کے دوران وزیراعظم کے وکیل چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ وزیراعظم کی نااہلی کی درخواستوں کی سماعت نہیں کرسکتی۔درخواست گزاروں کو پہلے ہائی کورٹ میں جانا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ کیس سپیکر رولنگ سے متعلق ہے وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق نہیں ہے۔اعتزاز احسن نے عدالت میں اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ سات رکنی بنچ کا فیصلہ حتمی ہوچکا ہے۔اعتزاز احسن نے عدالت میں اپنے دلائل میں جنرل مشرف کی وردی میں الیکشن کے انعقاد کا حوالہ بھی حوالہ دیاجس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ان کیسز کا حوالہ نہ دیں جوعدالت کے کئی فیصلوں سے زائل ہوچکے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اب ہمیں پرانے راستے چھوڑنا پڑیں گے۔انہوں نے اعتزاز احسن سے کہا کہ ان کو متنازع مقدمات کا سہارانہیں لینا چاہیے اور متنازع مقدمات پرانحصار نہیں کرنا چاہیے۔اعتزاز احسن نے عدالت سے استدعا کی کہ یا پھر یہ معاملہ دوبارہ سپیکر کو بھجوادیا جائے جس کے جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ سپیکر کا دروازہ 30دن میں کھل سکتا تھا اب وہ وقت گزرچکا ہے۔جسٹس خلجی عارف نے چوہدری اعتزاز احسن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود اپیل کا حق استعمال نہیں کیا۔اس سے پہلے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے چوہدری اعتزازاحسن کو کہا کہ درخواست گزار کے مطابق وزیراعظم کسی جماعت کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ پوری قوم کی نمائندگی کرتاہے جوکہ ایک سزایافتہ شخص ہے اوروہ سزا یافتہ شخص کابینہ کی سربراہی کررہاہے۔ ’وزیراعظم سزا کے بعدنااہل ہوچکے ہیں اوروہ اب 18کروڑ عوام کے نمائندے نہیں رہے‘۔ درخواست گزار کایہ بھی کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک ممبر قومی اسمبلی کا نہیں ہے بلکہ یہ اُن سب کا نمائندہ ہونے کا ہے۔ چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ایسی مثال بتائیں جو اِس صورتحال سے متعلق ہوتو اعتزاز احسن نے کہا کہ صوبائی یا وفاقی حکومت کا تنازعہ ہوتا تو عدالت اِس کیس کی سماعت کرسکتی تھی اور کوئی حکومت اِس عدالت میں نہیں آئی پس اِس بنیاد پر عدالت اِن درخواستوں کی سماعت نہیں کرسکتی۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عدالت حکومتی معاملات میں آئے گی تو وہ اپنے دائرہ کا ر سے تجاوز کے زمرے میں آئے گا اوراِس کیس میں کسی کا بنیادی حق متاثر نہیں ہوا۔ درخواست گزاروں کو پہلے ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے تھا پھر سپریم کورٹ میں آنا چاہیے تھا۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہاکہ سپریم کورٹ کا بنچ بھی اگر 18کروڑ کی عوام کی مرضی کے خلاف فیصلہ دے گا تو تجاوز ہوگا۔سپیکر رولنگ کیس کے معاملے میں قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا ہے۔

مزید : سیاست /اہم خبریں