اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کاآسان شکار: پاپولرسیاستدان

اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کاآسان شکار: پاپولرسیاستدان
اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کاآسان شکار: پاپولرسیاستدان

  

قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاکستانی اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ عوام کے ہر دلعزیز سیاستدانوں کو اپنی سازشوں اور محلاتی جوڑ توڑ کے ذریعے بدنام کرنے اور سیاسی عمل سے دور کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ان لوگوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کو بھی برداشت نہیں کیا ۔کراچی میں ٹریفک کے ہجوم میں خراب ایمبولینس کی وجہ سے سڑک کنارے انتہائی بے بسی کے عالم میں قائداعظم کی روح قفسِ عنصریٰ سے پرواز کرگئی۔ بانیِءپاکستان کے بعد مادرِ ملت مس فاطمہ جناح کو بھی حکمران اشرافیہ نے پریشان کرنے کے نت نئے حربے اختیار کئے۔ ریڈیو پاکستان سے ان کی ایک تقریر/پیغام کو سنسر کردیا گیا۔ جب مادرِ ملت نے فیلڈ مارشل ایوب خان کی آمریت سے عوام کو نجات دلانے کے لئے عملی سیاست میں سرگرمی سے حصہ لینا شروع کیا تو آمریت کے طرفداروں کو اپنا شیطانی کھیل ختم ہوتا نظر آنے لگا، اسی لئے صدارتی الیکشن کے دوران اسلام کے نام پر مادرِ ملت کی مخالفت کی گئی۔ نام نہاد علماءکے فتووں کے باوجود جماعت اسلامی اور مولانا مودودیؒ نے صدارتی الیکشن میں مادرِ ملت فاطمہ جناح کا ساتھ دیا، مگر حالات کی ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں کہ اسی جماعت نے بعد میں عورت ہونے کی بنا پر محترمہ بینظیر بھٹو کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔

بانی¿ پاکستان اور ان کی ہمشیرہ کو عوام سے دور کرنے کے لئے مفاد پرست طبقے نے مادرِ ملت اور بیگم رعنا لیاقت علی خاں میں اختلافات پیدا کئے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لئے یہ لوگ ان اختلافات کو ہوا بھی دیتے رہے۔ ان لوگوں نے قیامِ پاکستان کے وقت مسلم لیگ کے چوٹی کے رہنما اور متحدہ بنگال کے منتخب عوامی وزیراعظم ....(اس وقت صوبائی وزیراعلیٰ کو وزیراعظم کہا جاتا تھا).... سید حسین شہید سہروردی کی آئین ساز اسمبلی کی رکنیت منسوخ کردی او ران پر پابندی لگادی کہ وہ پاکستان کی حدود میں داخل نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کلکتہ سے بحری جہاز کے ذریعے مشرقی پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ان کو بحری جہاز سے اترنے نہیں دیا گیا ۔ ستم بالائے ستم اس بحری جہاز کوبندرگاہ کے اندر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہ دی گئی۔ سید حسین شہید سہروردی نے کراچی جیل سے جنرل ایوب خاں کو خط لکھا کہ مَیں مشرقی اور مغربی پاکستان کے سیاستدانوں کو ایک آئینی سمجھوتے پر رضامند کرسکتا ہوں۔ فوجی حکومت چونکہ عوامی سیاست میں مجھے برداشت کرنے پر تیار نہیں ہے، اس لئے آئینی سمجھوتہ کروانے کے بعد مَیں پاکستان سے چلا جاوں گا اور باقی ماندہ زندگی جلا وطنی میں گزار دوں گا۔ جنرل ایوب نے اس خط کا جواب تک دینا گوارہ نہ کیا ۔

سید حسین شہید سہروردی کو مارشل لاءکے تحت نا اہل قرار دیا گیا اور سات سال تک ان کے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگادی گئی۔ جنرل ایوب خاں کی مارشل لاءحکومت نے جن سیاستدانوں پر پابندی عائد کی، اُن میں موجودہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے والد سید علمدار حسین گیلانی بھی شامل تھے ۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے ایوب کھوڑو اور قاضی فضل اللہ ،جبکہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ اور صوبہ خیبر پختونخوا کے خاں عبدالقیوم خاں کو بھی نااہل قرار دے دیا گیا۔ اسی دوران جماعت اسلامی پر پابندی لگادی گئی اور مولانا مودودی کو قید کردیا گیا۔ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کی منتخب جمہوری حکومت اور وزیراعلیٰ شیرِبنگال اے کے فضل الحق کو نوکر شاہی نے سازش کرکے برطرف کردیااور صوبے میں گورنر راج نافذ کرکے میر جعفر کی اولاد سکندر مرزا کو گورنر مقرر کردیا گیا۔

 ہم ملکی سیاست کا تجزیہ کریں تو ہمیں صاف نظر آرہا ہے کہ اگر سیاستدانوں کو سیاسی کردار ادا کرنے سے بزورِ مارشل لاءنہ روکاجاتا۔ حسین شہید سہروردی عوامی نمائندوں کے درمیان پُل کا کردار ادا کرکے آئین سازی 1962ءسے قبل مکمل کروادیتے اور اس وقت صوبوں کو جائز اختیارات اور حقوق دے دیئے جاتے تو سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما نہ ہوتا۔ ممتاز دولتانہ ، خاں قیوم ، سید علمدار گیلانی، ایوب کھوڑو اور قاضی فضل اللہ کو عوام کی سیاسی تربیت کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج سیاست میں” ٹیسٹ ٹیوب“ بچوں کی بھرمار نہ ہوتی ۔جنرل ایوب خاں مولانا مودودی کو اپنے اقتدار کے لئے خطرہ سمجھ کر ان کو ختم کرنے کی بجائے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے۔سعودی عرب اور دوسرے اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لئے مولانا مودودی کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جاتا تو اس کے خاطر خواہ اور بہتر نتائج برآمد ہوتے ۔ مولانا مودودی کو اعتمادمیں لے کراسلامی جمعیت طلباءکے نوجوانوں سے پاکستانی یوتھ کی سماجی اور سیاسی تربیت کا کام لیا جاسکتا تھا۔ جنرل ایوب خان نے جماعت اسلامی اور اس کی قیادت کو” کارنر“ کرنے کی کوشش کی ۔ اس کے ردعمل کے طور پر (مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے دوسرے لیڈروں کی گرفتاری/ نظربندی اور جماعت اسلامی پر پابندی لگانے کی وجہ سے) ان لوگوں نے ملک کی سیاسی قوتوں ، بالخصوص سید حسین شہید سہروردی اور ان کے ساتھیوں کے راستہ میں روڑے اٹکانے شروع کردیئے ۔ لاہور ، گوجرانوالہ اور ساہیوال میں سہروردی مرحوم کو جلسے کرنے سے اشرافیہ نے روک دیا ۔ اس کے بعد سہروردی مرحوم مایوس ہو کر بیروت چلے گئے اور جلاوطنی میں ان کا انتقال ہوگیا ۔ بقول نواب نصراللہ خان :

”آں قدح بشکست و آں ساقی نماند“

جنرل ایوب خاں کے بعد جنرل یحییٰ خاں اور جنرل ضیاءالحق نے بھی اپنے اپنے ادوار میں سیاستدانوں کو ”ڈس کریڈٹ“ کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ فروری 1971ءمیں پی پی پی انتخاب جیت چکی تھی ،مگر انتقال اقتدار کا مرحلہ ابھی باقی تھا۔ اس دوران میاں محمود علی قصوری کے بڑے بھائی مولانا محی الدین احمد قصوری (1993ءمیں بنائے جانے والے نگران وزیراعظم معین الدین قریشی کے والد)کا انتقال ہوگیا۔ پی پی پی کے رہنما اور گوجرانوالہ شہر کے ایم پی اے میاں اسماعیل ضیاءمرحوم اور راقم الحروف تعزیت کے لئے میاں محمود علی قصوری کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران شیخ انوارالحق تشریف لائے وہ ان دنوں غالباً لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ شیخ انوارالحق نے فاتحہ خوانی اور تعزیت کے رسمی فقرے ادا کرنے کے بعد میاں محمود علی قصوری کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ نے ایک سندھی (ذوالفقار علی بھٹو)کو لیڈر کیوں تسلیم کرلیا ہے؟ پی پی پی نے پنجاب میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ اس لئے مسٹر بھٹو کی بجائے آپ کو یا کسی اور پنجابی کو پی پی پی کی قیادت سنبھال لینی چاہیے.... اس ایک واقعہ سے آپ اشرافیہ کی سوچ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو اگر انتقام کا نشانہ نہ بنایا جاتا تو ان کی خداداد ذہانت، قابلیت اور ان کی سفارت کاری سے پاکستان کو فائد پہنچ سکتا تھا۔ جنرل پرویز مشرف محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کو عوام کی خدمت کرنے کا موقع دیتا تو بیرون ملک سفارت کاری اور لابنگ کے لئے محترمہ پاکستانی قوم کے لئے مفید اثاثہ ثابت ہوتیں اور اندرونِ ملک میاں نواز شریف عوام کی قیادت کرتے اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی کوشش کرتے ۔

موجودہ دور پاکستانی سیاست کا عجیب و غریب دور ہے۔ قبل ازیں حکومت ِ وقت اور اشرافیہ مل کر اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کے خلاف کام کیا کرتے تھے ،مگر ان دنوں اشرافیہ حکومت میں شامل سیاستدانوں کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے.... اور آج کل اشرافیہ ہی مختلف سیاستدانوں کو آپس میں لڑانے کے مذموم منصوبوں پر عمل کررہی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے عوامی سیاستدانوں خاں عبدالغفار خان، عبدالولی خاں، ارباب سکندر خاں خلیل، پیر مانکی شریف اور غلام محمد لوند خوڑ کو قید وبند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا۔ ان کو اپنے علاقے سے نکالا گیا۔ بار بار گرفتار، نظربند اور صوبہ بدر کیا گیا۔ عبدالولی خان اور نسیم ولی خاں کا نکاح خان عبدالغفار خاں نے پڑھانا تھا ،مگر صوبہ سرحد میں ان کا داخلہ بند تھا۔ خان عبدالغفار خان ان دنوں لاہور میں آغا شورش کا شمیری مرحوم کے گھر میں مقیم تھے۔ خان عبدالغفار خان لاہور سے صوبہ سرحد کے بارڈر پر آگئے اور انہوں نے نسیم اور ولی خاں کا نکاح پڑھایا۔

صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سردار نوروز خان کے سات بیٹوں اور بھتیجوں کو سکھر جیل میں تختہ¿ِ دار پر لٹکایا گیا اور ان کی لاشیں میرعلی احمد تالپور اور میررسول بخش تالپور نے بلوچستان روانہ کیں۔ اس کے کچھ عرصے بعد سردار نوروز خاں کا جیل میں انتقال ہوگیا۔ اس کے علاوہ میرغوث بخش بزنجو، سردار خیربخش مری، سردار عطااللہ مینگل، خان عبدالصمد اچکزئی پر عرصہ¿ِ حیات تنگ کیا گیا۔ ہمارے نزدیک بلوچستان کے مسائل کا اس وقت حل یہ ہے کہ وہاں کے ناراض سیاسی کارکنوں کے ساتھ ڈائیلاگ کیا جائے۔ ان کے ساتھ بیرونی فاتحوں والا سلوک نہ کیا جائے۔ ان کو اچھوت نہ سمجھا جائے۔ ان کی سماجی ، معاشی اور سیاسی محرومیوں کا فوری تدارک کیا جائے۔ وہاں حکومت کے وظیفہ خواروں کی معتبری ختم کی جائے۔ ”جینوین“سیاسی کارکنوں اور سیاسی رہنما¶ںکو اعتماد میں لیا جائے اور ترقیاتی سکیموں کے سلسلے میں ان پر اعتماد کیا جائے۔ وفاقی یا صوبائی حکومت کے جو ذمہ دار غیر ملکی سازشوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت یا اہلیت نہ رکھتے ہوں اور جو حکمران اور وزراءغیر ملکی سازشوں کو ناکام نہ بنا سکتے ہوں، وہ اخباری بیانات جاری کرنا بند کردیں اور عوام کے اعصاب کے ساتھ کھیلنا بند کردیں۔

 عوامی سیاست اور جمہوری قدروں پر یقین رکھنے والے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی آواز بلند کریں ۔ غدار سازی کی فیکٹری بند کرنے کا مطالبہ کریں اورغداری کے طعنے دینے والی زبانوں اور قلمکاروں سے اپیل کریں کہ اب وہ اپنی بساط لپیٹ لیں۔ عوام کو سکھ کا سانس لینے دیں اور ان کو اپنے خیالات اور سوچ کے مطابق سکون سے زندگی گزارنے کا موقع دیں۔

مزید : کالم