لوڈشیڈنگ کے خلاف پرتشدد احتجاج اور توڑ پھوڑ جاری،فائرنگ ، بچہ ہلاک ، دو افراد زخمی ،مظاہرین نے ” باﺅٹرین “بھی جلادی

لوڈشیڈنگ کے خلاف پرتشدد احتجاج اور توڑ پھوڑ جاری،فائرنگ ، بچہ ہلاک ، دو ...
 لوڈشیڈنگ کے خلاف پرتشدد احتجاج اور توڑ پھوڑ جاری،فائرنگ ، بچہ ہلاک ، دو افراد زخمی ،مظاہرین نے ” باﺅٹرین “بھی جلادی

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) بجلی کی غیر علانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ کیخلاف احتجاج آج بھی پوری شدت کے ساتھ جاری رہا جس دوران قومی اسمبلی کے رکن کے محافظوں کی فائرنگ سے ایک شخص بچہ ہلاک اور دو افراد زخمی ہوگئے ،ٹرین ، واپڈاکے دفاتر اور دوسری سرکاری و نجی املاک جلادی گئیں ۔کامونکی میں مظاہرین نے لاہور اور سیالکوٹ کے درمیان چلنے والی باﺅٹرین کو آگ لگادی ۔ آتشزدگی کے دوران مسافروں نے بھاگ کر جان بچائی جبکہ ان کا سامان لوٹ لیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے ٹرین سے موٹریں اور پنکھے بھی لوٹ لئے ۔ اس سے پہلے مظاہرین نے گیپکو گرڈ سٹیشن پرحملہ کردیااور دفتر کی عمارت،وہاں کھڑی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی اور ایس ڈی او سمیت کئی ملازمین کے گھروں میں لوٹ مار کی جبکہ خیموں کو آگ لگادی۔خانیوال میں مشتعل شہریوں نے ایم این اے حامد یاہراج کے گھر کا گھیراو¿ کرلیا ،پتھراﺅ کے جواب میں محافظوںکی فائرنگ سے ایک بچہ جاں بحق اور تین مظاہرین زخمی ہوگئے جس کے بعدشہر میں ایمر جنسی نافذ اورتمام مارکیٹیں بند کردیں گئی ہیں۔ملتان میں پل رانگو کے نزدیک شہریوں نے لاہور موٹر وے تین گھنٹے بلاک کررکھی اور ڈنڈے اٹھا کر شدید نعرے بازی کی۔مظاہرین نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کے گھیراو¿ اور میپکو آفس کے باہر بھی دھرنے کی دھمکی دی ہے۔جلال پوربھٹیاں میں مشتعل مظاہرین نے واپڈا دفتر کے کمپیوٹرتوڑدیئے اور دفتر کے باہر کھڑے ملازمین کے موٹر سائیکلوںکوآگ لگا دی۔ فیصل آباد کے شہریوں نے سمندری روڑ بندکردی ۔ مشتعل مظاہرین نے بنکوں و دکانوں کے شیشے توڑ دیئے، پٹرول پمپ کو نقصان پہنچایا ہے اور لوٹ مار کی ۔مشتعل افراد نے دکانیں لوٹ لیں اور بینکو ں کی اے ٹی ایم مشینیں لوٹنے کو کوشش بھی کی۔پتھراو¿ اور ڈنڈے مار کر کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے ۔قلعہ کالروالا میں مظاہرین نے نارروال روڑپر ٹائر جلا کر ٹریفک کی بند کردی۔احتجا ج کے دوران مشتعل افراد نے گرڈ سٹیشن پر پتھراﺅکیا اور گرڈ کے دفاتر کے شیشے توڑ دئیے۔چیچہ وطنی میں گزشتہ روز احتجاج کے دوران املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں آ ٹھ سو افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔گرفتاریوں کے خلاف تاجروں نے شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کی اور شہریوں کے ساتھ مل کر جلوس نکالا۔شیخوپورہ میں درجنو ں مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے تاریخی سیر گاہ ہرن مینار کے قریب سینکڑوں مظاہرین نے موٹروے پانچ گھنٹے تک بلاک رکھی اور درختوں کو آگ لگا دی۔ کوٹ عبدالمالک میں مشتعل مظاہرین نے واپڈا دفتر پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کرنے کے بعد فرنیچر اور ریکارڈ کو آ گ لگا دی۔ماناوالہ ، پنواں،بھکھی،شرقپور روڈ،لاہور روڈ پر بھی عوام نے احتجاج کیا ۔شورکوٹ کینٹ میں مظاہرین نے ٹوبہ ٹیک سنگھ ،پیر محل روڈ 3گھنٹے تک بند رکھا۔مظاہرین نے ایگزیکٹو آفیسر کنٹورنمنٹ بورڈ کا بھی گھیراو¿ کیا اور بازار بند کروا دیے۔تاندلیانوالہ میں مکمل شٹرڈاو¿ن ہڑتال کی گئی۔مشتعل مظاہرین نے ٹائر جلا کر اوکاڑہ فیصل آباد روڈ بلاک کر کے مظاہرہ کیا اور واپڈا گریڈاسٹیشن کاگھیراو¿ کرنے کی کوشش کی جو پولیس نے ناکام بنا دی۔حافظ آباد میں لو ڈشیڈنگ کے خلاف سنی تحریک کے زیراہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی اور ونیکے چوک میں مظاہرہ کیا گیا۔ بہاول نگر میں شہرےوں نے ڈی سی آفس روڈ پر ریلوے پھاٹک بند کر کے دھرنا دیا اور ٹائر جلا کرروڈ بلاک کر دی ۔اور روکاوٹیں کھڑی کرکے اہم شاہر او¿ں کو بلاک کر د یا ۔چشتیاں ، منچن آباد ، ہارون آباد ، فورٹ عباس میں بھی لوڈشیڈ نگ کے خلاف بھر پور احتجاج کیا گیا۔

مزید : لاہور /Headlines