قائد کے زخمی قدموں پر قوم کے آنسو

قائد کے زخمی قدموں پر قوم کے آنسو
 قائد کے زخمی قدموں پر قوم کے آنسو

  



پنجاب اسمبلی پریس گیلری( محمد نواز طاہر /خبر نگار خصوصی )دہشت گردی کیخلاف مجموعی طور پر قوم متحد ہے لیکن بعض لوگ کچھ مختلف نظریہ اور سوچ بھی رکھتے ہیں ۔دہشت گردوں نے پاکستانی قوم کو ایسے ایسے مقدس مقامات پر حملے کرکے جسمانی و نظریاتی طور پر زخمی کیا کہ اس دہشت گردی کے عمل پر تھوڑا بہت مختلف نظریہ رکھنے والے بھی اف اف کر اُٹھے ۔ بانی پاکستان محمد علی جناح کی زیارت ریزیڈنسی پر حملہ بھی ایسے ہی سانحات میں سے ایک ہے جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور قوم سمجھتی ہے کہ یہ کارروائی نہ تو قوم پرست بلوچوں کی ہے اور نہ ہی قوم ایسا سمجھتی ہے ۔یہ خالصتاً پاکستان اور اس کے نظریے کی مخالفت کرنے والوں کی مذموم حرکت ہے۔ قوم کے یہ جذبات منتخب نمائندوں کے چہروں پر بھی واضح طور پر نظر آتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کی بھاری اکثریت والی پنجاب اسمبلی میں پہلا بجٹ پیش کئے جانے کے وقت جس قدر ارکان میں جذبہ اور خوشی دیکھی اس سے یہ نظر نہیں آرہا تھا کہ اس جماعت کے پاس اتنی بڑی اکثرےت ہے۔ خواتین کا زرق برق لباس ان کی آنکھوں اور الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا تھا ۔اجلاس سے پہلے بھی جب خوشگوار موسم میں ان خواتین سمیت تمام اراکین پہنچے تو بھی چہروں پرسانحہ کوئٹہ کے اثرات غالب تھے۔ اسمبلی کے رولز اور روایت ہے کہ جس دن بجٹ پیش کیا جانا ہوتا ہے اس روز کوئی دوسرا بزنس نہیں ہوتا لیکن اس اجلاس میں ہر پاکستانی کی طرح اراکین اسمبلی کے دل بھی زخموں سے چور نظر آئے چنانچہ تمام جماعتوں کی پارلیمانی قیادت نے بجٹ کچھ دیر کیلئے موخر اورقواعد معطل کرکے اس سانحہ کیخلاف مذمتی قرارداد پیش اور منظور کی ۔ قرارداد کی منظوری کے بعد پریس گیلری میں تبصرہ کیا گیا کہ اگرچہ قرارداد میں میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کی تمام جماعتوں کو متحد کرکے وہاں جاری دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے لائحہ عمل بنایا جائے لیکن کیا اس اسمبلی میںیہ قرارداد منظور کرنا ہی کافی ہے ؟اس کیلئے یکجہتی اور خیرسگالی کا پارلیمانی وفد بھی فوری طور پر تشکیل دیا جاسکتا تھا جو بلوچستان جا کر اپنا کردار ادا کرے ۔ ایسا کردار نہیں جوجنرل پرویز مشرف کی حکومت میں ادا کیا گیا کہ ایک طرف میٹھی میٹھی گفتگو اور دوسری جانب نواب اکبر بگٹی کا قتل ۔۔۔

مزید : لاہور